// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-1185742536758019481"},"published":{"$t":"2015-10-19T16:08:00.001+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T16:03:22.914+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد غیر مقلدیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف2"}],"title":{"type":"text","$t":"عقائد علماء اہلحدیث (قسط ٢)"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cspan style=\"color: #38761d;\"\u003E\u0026nbsp;\u003Cspan style=\"color: black;\"\u003E\"سربکف\" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015\u003C\/span\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cspan style=\"color: #38761d;\"\u003Eعباس خان حفظہ اللہ\u003C\/span\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eغیر مقلدوں کی چیلینج بازیاں\u0026nbsp; خوب ہوتی ہیں۔\u0026nbsp; جنہیں اتنی سادہ سی بات بھی\u0026nbsp; سمجھ نہ آتی ہو کہ ہر علم کی اصطلاحات جُدا ہوتی ہیں، ہر فن کی اصطلاح اُسی پر منطبق کر کے\u0026nbsp;\u0026nbsp; دیکھی جاتی ہیں،خصوصاً تصوف(احسان) میں۔ انہوں نے تصوف کی عبارت کو عقیدہ پر فٹ کیا، نتیجہ ظاہر ہے کہ ہر \"جی ایم\" مفتی اور مجتہد بنا ہوا ہے۔ ذیل کے مضمون میں اُن کے اپنے عقائد بتائے گئے ہیں، شاید کچھ انصاف سے پڑھنے پر ذہن صاف ہوجائے۔ ہداھم\u0026nbsp; اللہ۔ (مدیر)\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eعقیدہ نمبر 11\u003Cbr \/\u003Eآذان عثمانی بدعت ضلالت ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eغیرمقلدین کے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eیہ اذان رائجہ بدعت ضلاف ہے (فتاویٰ ثنائیہ ج 1 ص 432)\u003Cbr \/\u003Eمولوی محمد جونا گڑھی\u0026nbsp; صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eپس ہمارے زمانہ میں مسجد میںجو دو اذانین جمعہ کے لئے ہوتی ہیں صریح بدعت\u0026nbsp; ہے کسی طرح جائز نہیں۔ \u003Cbr \/\u003E(فتاویٰ اہلحدیث\u0026nbsp; ج 2 ص 106)\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلد وکٹورین ایک اور بات بھی کہتے ہیں کہ\u0026nbsp; دور عثمانی میں یہ آذان\u0026nbsp; کسی بلند جگہ کہلاوئی جاتی تھی اور آج کل\u0026nbsp; اہلسنت حنفی شافعی مالکی اور حنبلی یہ آذان مسجد میں دی جاتی ہے اور ہم اسے بدعت ضلالت کہتے ہیں۔ العیاذ باللہ یہ لوگ کس دلیل سے اسے بدعت ضلالت کہتے ہیں حضورﷺ کے دور میں\u0026nbsp; تو بقیہ آذانیں بھی بلند جگہ پر دی جاتی تھیں اور اب صرف مسجد میں دی جاتی ہیں\u0026nbsp; اگر یہ بدعت ضلالت ہے تو کیا یہی آذان مسجد کی بجائے بازار یا کسی بلند عمارت پر دیں تو کیا\u0026nbsp; جائز ہو گئی ؟ اور یہی آذان حرم میں بھی دی جاتی ہے کیا وہ بھی بدعت ضلالت ہے؟\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 12\u003Cbr \/\u003Eدین میں نبی کی رائے حجت نہیں۔\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلدین کے خطیب الہند محمد جونا گڑھی صاحب لکھتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003E”تعجب ہے کہ جس دین میں نبی کی رائے حجت نہ ہو اس دین والے آج ایک امتی کی رائے\u0026nbsp; کو دلیل اور حجت سمجھنے لگے“\u003Cbr \/\u003E(طریق محمدی ص 40)\u003Cbr \/\u003Eجبکہ یہ بات ہی صحیح نہیں کیونکہ نبیﷺ دینی معملات میں رائے نہیں دیتے بلکہ وہ ان کا حکم ہوتا ہے جسے اپنانا لازم ہوتا ہے ہاں البتہ دنیاوی معملات میں آپﷺ نے خود اختیار دیا ہے اور جان چھڑانے کیلئے\u0026nbsp; اسے مجتہدین کے اجتہادات کے ساتھ جوڑ\u0026nbsp; نا بھی\u0026nbsp; صریح حماقت ہے۔\u003Cbr \/\u003E«إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِي، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ»\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp; آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک انساں ہوں، جب میں تمہیں کوئی دین کی بات کا حکم دوں تو تم اس کو اپنا لو اور جب میں (دنیاوی معملات میں) اپنی رائے سے کسی چیز کے بارے میں بتاؤں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔\u003Cbr \/\u003E(صحیح مسلم ج 4 ص 1835)\u003Cbr \/\u003Eاسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے۔\u003Cbr \/\u003Eآپﷺ فرماتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eمَا لِنَخْلِکُمْ قَالُوا قُلْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاکُمْ۔\u003Cbr \/\u003E(صحیح مسلم\u0026nbsp; ج 4 ص 1836)\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;تم لوگ اپنے دنیوی معاملات کو میرے نسبت زیادہ بہتر جانتے ہو۔\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 13\u003Cbr \/\u003Eائمہ اربعہؒ کی تقلید بھی شرک ہے۔\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کا ہر عامی جاہل اور عالم کہلائے جانے والا جاہل\u0026nbsp; یہ بات کرتا ہے۔\u003Cbr \/\u003Eاب ان\u0026nbsp; کا اپنا اقرار بھی دیکھئے\u003Cbr \/\u003Eایک مولوی صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E” اور اس بات میں کچھ شک نہیں کہ تقلید خواہ آئمہ اربعہ میں سے کسی کی ہو خواہ ان کے سوا کسی اور کی شرک ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(الظفر المبین ص 20)\u003Cbr \/\u003Eجبکہ\u0026nbsp; پوری قرآن میں ایک بھی ایسی آیت موجود نہیں جس\u0026nbsp; میں اللہ تعالٰی نے آئمہ فقہاء مجتہدین\u0026nbsp; اہل استنباط کی تقلید کو شرک کہا ہو٭یا کم از کم روکا\u0026nbsp; ہو منع کیا ہو جیسا کفار مشرکین بے دین اور نا اہلوں کی تقلید سے منع\u0026nbsp; کیا ہے۔\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 14\u003Cbr \/\u003Eسنت عمر کفر ہے۔ نعوذ باللہ\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے مولوی عبد المتین میمن طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں لکھتا ہیں:\u003Cbr \/\u003E”سنت محمدی کو چھوڑ کر سنت عمرؓ کی طرف لوٹیں گے تو کفر ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(حدیث خیر و شر ص 110)\u003Cbr \/\u003Eالعیاذ باللہ\u003Cbr \/\u003Eپہلے عمرؓ کو نبی کے مقابلے میں کھڑا کر دیا\u0026nbsp; پھر ان کی طرف رجوع کرنے والے کو کافر قرار دیا اس میں وہ تمام صحابہ کرام ؓ آگے جنہوں نے حضرت عمرؓ کی پیروی کی لہذا اس احمق مولوی\u0026nbsp; کے مطابق حضرت عمرؓ اور ان کے پیروا سب کافر ہوئے۔\u0026nbsp; نعوذ باللہ\u0026nbsp; \u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 15\u003Cbr \/\u003Eبیک وقت چار سے زائد شادیاں کی جاسکتی ہیں۔٭\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے مشہور عالم\u0026nbsp; نواب صدیق حسن خان صاحب اور نور الحسن صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E”چار کی کوئی حد نہیں (غیر مقلدمرد) جتنی عورتیں چاہے نکاح میں رکھ سکتا ہے“\u003Cbr \/\u003E(ظفرالامانی ص 141 ، عرف الجادی ص 111)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 16\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے نزدیک پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف ہونا یا پشت کرنا بالکل جائز ہے ناجائز ہونا تو دور رہا مکروہ بھی نہیں ہے۔\u003Cbr \/\u003E(دستور المتقی ص 45 از مولانا یونس دہلوی، نزل الابرار ج 1 ص 53 از امام اہلحدیث نواب وحید الزمان)\u003Cbr \/\u003Eجبکہ\u0026nbsp; احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ پیشاب ، پاخانہ کرتے وقت بغیر کسی عذر کے قبلہ رو ہونا اور پشت کرنا مطلقا ناجائز ہے، آبادی میں ہو یا صحرام میں حضورﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے اور بقلہ کے اکرام کرنے کا حکم دیا ہے۔\u003Cbr \/\u003E(بخاری ج1 ص 57 ، مسلم ج1 ص 130 ، زاد المعاد ج1 ص 8 ، مجمع الزوائد ج1 ص 205\u0026nbsp; ابو داود ؤغیرہ)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 17\u003Cbr \/\u003Eزکوۃ کا انکار اور\u0026nbsp; اس میں حیلے\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں\u003Cbr \/\u003Eزیورات اور مال تجارت میں زکوۃ نہیں۔(بدور الاہلہ ص 102)\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;اور زکوۃ کہاں دی جائے؟\u003Cbr \/\u003Eنواب نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eماں باپ اور سگی اولاد کو زکوۃ دینی جائز ہے۔\u003Cbr \/\u003E(عرف الجادی ص 72)\u003Cbr \/\u003Eگویا کہ زکوۃ کے اصل حقداروں کو چھوڑ کر آپس میں ہی\u0026nbsp; ایک دوسرے\u0026nbsp; کو زکوۃ دے دی جائے تاکہ مال اندر ہی رہ جائے۔\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 18\u003Cbr \/\u003Eعورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے والا ملعون ہے۔\u003Cbr \/\u003Eحضرت عائشہؓ کی بدترین توہین\u003Cbr \/\u003Eفتاویٰ نذیریہ کے مفتی غیرمقلدین کے شیخ الکل نے حضرت عائشہؓ کی شان میں زبردست گستاخی کی ہے ، انکا قول ” کہ اگر آج نبی کریمﷺان باتوں کو دیکھ لیتے جو عورتوں نے اختیار کر رکھی ہیں تو انہیں\u0026nbsp; مسجد جانے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتیں روک گی گئی تھیں“۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;(بخاری ج1 ص 120)\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;اس کے بعد\u0026nbsp; غیرمقلدین کے شیخ الکل کی بات ملاحظہ ہو۔\u003Cbr \/\u003E”پھر اب جو شخص بعد ثبوت قول رسول و فعل صحابہ کی مخالفت کرے وہ اس آیت کا مصداق ہے۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ...۔۔ الخ (الایۃ) جو حکم صراحۃ شرع\u0026nbsp; میں ثابت ہو جائے اس میں ہر گز رائے و قیاس کو دخل نہ دینا چاہئے کہ شیطان اس قیاس سے کہ انا خیر منہ حکم صریح الٰہی سے انکار کرکے ملعون بن گیا ہے اور یہ بالکل شریعت کو بدل ڈالنا ہے“\u003Cbr \/\u003E(فتاویٰ نذیریہ جلد۱ ص۲۶۶)\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلدین کے شیخ الکل کی گمراہی ملاحظہ\u0026nbsp; فرمائیں اس نے در پر دہ حضرت عائشہؓ پر کیسا زبردست حملہ کیا ہے، افسوس اس فتویٰ\u0026nbsp; غیرمقلدین کے شیخ الکل کا بھی بلا کسی اختلافی نوٹ کے دستخط موجود ہے۔\u003Cbr \/\u003Eاور نذیر حسن\u0026nbsp; نے لوگوں کو کیا تاثر دیا ہے\u003Cbr \/\u003Eحضرت عائشہؓ نے آنحضرت ﷺ کے حکم کی مخالفت کی۔\u003Cbr \/\u003Eحضرت عائشہ نے اس مسئلہ میں آنحضرت ﷺ کے حکم کی مخالفت کرکے آیت مذکورہ بالا کا مصداق ہوئیں۔\u003Cbr \/\u003Eحضرت عائشہؓ نے اس مسئلہ میں اپنے قیاس اور رائے کو دخل دیا۔\u003Cbr \/\u003Eحضرت عائشہؓ نے دین کے حکم میں رائے اور قیاس کو دخل دیکر وہی کام کیا جو شیطان نے انا خیر منہ کہہ کر کیا تھا۔\u003Cbr \/\u003Eحضرت عائشہؓ نے معاذ اللہ یہ کہہ کرکہ موجودہ وقت عورتوں کو مسد اور عید گاہ جاانا مناسب نہیں ہے۔شریعت کو بدل ڈالنے کی جرأت کی۔\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 19\u003Cbr \/\u003Eآج کل کے تمام غیرمقلدین یہ عقیدہ رکھتے\u0026nbsp; اور لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ \u003Cbr \/\u003Eاللہ کی ذات صرف عرش\u0026nbsp; کے اوپر اوپر تک ہے نیچے سے ختم ہوتی ہے اور اللہ کی ذات کے بعد اس کے نیچے سے\u0026nbsp; عرش اور دیگر مخلوقات شروع ہوتی ہیں\u0026nbsp;\u0026nbsp; العیاذ باللہ\u003Cbr \/\u003Eجبکہ یہ عقیدہ قرآن اور حدیث کے خلاف ہے\u003Cbr \/\u003Eاللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eهُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ(الحدید 3)\u003Cbr \/\u003Eوہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن\u003Cbr \/\u003Eرسول اللہﷺ اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں\u003Cbr \/\u003E\"اللهم أنت الأول، فليس قبلك شيء، وأنت الآخر، فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن، فليس دونك شيء\".\u003Cbr \/\u003Eاے اللہ تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں ، تو ”آخر“ ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ”ظاہر“ ہے تیسرے اوپر کچھ نہیں، تو ”باطن“ ہے\u0026nbsp; تیرے نیچے کچھ نہیں۔(صحیح مسلم)\u003Cbr \/\u003Eدون کا مطلب ”علاوہ“\u0026nbsp; بھی ہوتا ہے اور ”دون“ کا مطلب ”نیچے بھی ہوتا ہے۔(المورد ص 557)\u003Cbr \/\u003Eہم دونوں باتوں کا اقرار کرتے ہیں خود حدیث میں بھی لفظ ”دون“ نیچے کیلئے استعمال ہوا ہے۔\u003Cbr \/\u003Eنبی کریمﷺ کی حدیث ہے\u003Cbr \/\u003Eوَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدَ نَعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ تَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ\u003Cbr \/\u003E”اور اگر تمہارے پاس جوتے نہ ہوں تو ٹخنوں کے نیچے تک موزے پہن لیا کرو“۔\u003Cbr \/\u003E(سنن نسائی ج 2 ح 587 : صحیح)\u003Cbr \/\u003Eامام بيهقي رحمہ الله فرماتے ہیں کہ\u003Cbr \/\u003Eوَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي نَفْيِ الْمَكَانِ عَنْهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ» . وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ \". وَإِذَا لَمْ يَكُنْ فَوْقَهُ شَيْءٌ وَلَا دُونَهُ شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ فِي مَكَانٍ.\u003Cbr \/\u003E(الأسماء والصفات للبيهقي ج۲ ص۲۸۷)\u003Cbr \/\u003E”ہمارے بعض اصحاب اللہ کو مکان سے پاک ثابت کرنے کیلئے نبیﷺ کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ تو (اللہ) الظاہر مطلب کوئی چیز اسکے اوپر نہیں الباطن یعنی کوئی چیز اس کے نیچے نہیں اسلئے اللہ کے اوپر کچھ نہیں اور اسکے نیچے کچھ نہیں تو اللہ مکان\u0026nbsp; و جگہ سے پاک ہے۔“\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 20\u003Cbr \/\u003Eاللہ کی صفت ”ید“ متشابہات میں سے نہیں۔\u003Cbr \/\u003Eزبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E” اللہ کی صفت ”ید“ کو متشابہات میں سے کہنا اہل بدعت کا مسلک ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(اصول المصابیح\u0026nbsp; ص 38 ترجمہ و تحقیق و تخریج زبیر علی زئی)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 21\u003Cbr \/\u003Eننگے ہو کر نماز پڑھنا \u003Cbr \/\u003Eنواب صدیق حسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E” عورت کی نماز بغیر ستر چھپائے صحیح ہے عورت تنہا ہو یا دوسری عورتوں کے ساتھ ہو یا پھر اپنے شوہر کے ساتھ ہو یا دوسرے محارم(باپ بھائی بیٹے) کے ساتھ\u0026nbsp; ہو غرض ہر طرح صحیح ہے زیادہ سے زیادہ سر چھپا لے“۔\u003Cbr \/\u003E(بدول الاہلہ ص 39)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 22\u003Cbr \/\u003Eصحابہ کرام پر فاسق ہونے کا اطلاق\u0026nbsp; کیا جاسکتا ہے۔\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلدین کے لئے فی جملہ نہایت مفید کتاب ہے(حوالہ فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ص 493)\u0026nbsp; نزل الابرار میں لکھتا ہے کہ :\u003Cbr \/\u003E” تمام صحابہ کو عدول قرار دینے کا معنی ہے کہ وہ نقل روایت میں ثقہ و عادل و معتبر ہیں نہ کہ سارے صحابہ معصوم ہیں، ان سے کوئی ایسی بات سر زد\u0026nbsp; ہو ہی نہیں سکتی جس کی بنا پر ان پر لفظ فاسق کا اطلاق نا ممکن ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(حاشیہ نزل الابرار ج 3 ص 94)\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;معاذ اللہ\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 23\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp; مشت زنی واجب ہے\u003Cbr \/\u003Eنور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E”نظر بازی کا خطرہ ہو تو مشت زنی واجب ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(عرف الجادی ص 207)\u003Cbr \/\u003Eسوال یہ ہے کہ اگر یہ واجب ادا نہ کیا گیا تو کیا گناہ\u0026nbsp; ہو گا؟\u003Cbr \/\u003Eایک غیرمقلد سنت پڑھنے کیلئے کھڑا ہوا اسے نظربازی\u0026nbsp; کا خطرہ محسوس ہوا اب وہ سنت ادا کرے یا پہلے واجب ؟\u003Cbr \/\u003Eاگر نظر بازی کا یہی اعلاج ہے تو پھر نفس پر قابو کا کیا مطلب ہے؟\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 24\u003Cbr \/\u003Eاگر زنا پر مجبور کیا جائے تو\u0026nbsp; زنا کرنا جائز ہے۔\u003Cbr \/\u003Eنواب الحسن خان صاحب\u0026nbsp; غیرمقلد لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E” کوئی شخص زنا پر مجبور کیا جائے اس کیلئے زنا کرنا جائز ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(عرف الجادی ص 215)\u003Cbr \/\u003Eالعیاذ باللہ\u003Cbr \/\u003Eحضرت یوسفؑ کا مشہور واقعہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب زلیخا انہیں اپنی طرف مجبور کر رہی تھیں تو حضرت یوسفؑ نے اس سے کہا\u003Cbr \/\u003Eمعاذ اللہ انه ربياحسن مثواي انه لا يفلح الظلمون\u003Cbr \/\u003Eترجمہ:\u003Cbr \/\u003Eمعاذ اللہ ! تیرا شوہر عزیز مالک ہے میرا اور اچھی طرح رکھا ہے مجھے اس نے ، بے شک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔\u003Cbr \/\u003E(سورۃ یوسف ص 23)\u003Cbr \/\u003Eاللہ کا شکر ہے کہ اس وقت کوئی\u0026nbsp; غیرمقلد وکٹورین موجود نہیں تھا جو\u0026nbsp; جائز کا فتویٰ دے دیتا۔\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 25\u003Cbr \/\u003Eبار بار طلاق دینا اور بار بار رجوع کرلینا جائز ہے۔\u003Cbr \/\u003Eسائل نے\u0026nbsp; ایک غیرمقلد مولوی عبد اللہ ویلوری سے سوال پوچھا۔\u003Cbr \/\u003Eسوال: زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ اس کے بعد 10 یو زید نے رجوع کر لیا پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ تنازع ہونے کی صورت میں اس نے طلاق دے دی۔ آٹھ یوم کے بعد پھر رجوع کر لیا۔ اس نے چار پانچ مرتبہ ایسا ہی کیا۔ طلاق دے دی اور رجوع کر لیا زید کو اس مسئلہ کے بارے میں کوئی علم نہ تھا اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟ اب پھر دوبارہ رجوع کرنا چاہتا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں\u0026nbsp; فتویٰ صادر فرمائیں۔ اللہ آپ جو جزائے خیر دے۔\u003Cbr \/\u003Eجواب:\u003Cbr \/\u003Eصورت مسئلولہ میں رجوع کر سکتا ہے......۔ دو گواہوں کے ر برو رجوع کرکے بیوی کو آباد کر سکتا ہے\u003Cbr \/\u003E(فتاویٰ جات ص 482)\u003Cbr \/\u003Eاس احمق مولوی نے طلاق کی\u0026nbsp; مقدار\u0026nbsp; ہی ختم کر دی جو کہ شریعت نے ہمیں دی تھی۔ \u003Cbr \/\u003Eاب کوئی غیرمقلد\u0026nbsp; صبح شام بیوی کو طلاق دیتا پھرے اور رجوع کرے بیوی اس کے لئے حلال ہے۔\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 26\u003Cbr \/\u003Eکسی کو\u0026nbsp; حاضر ناظر جاننا شرک نہیں\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کا عقیدہ ہے کہ \u003Cbr \/\u003Eاللہ کی ذات حاضر و ناظر نہیں اب\u0026nbsp; جب اللہ کی ذات ہی حاضر ناظر نہیں تو کسی\u0026nbsp; ولی یا نبی کی ذات کو حاضر و ناظر سمجھا کس طرح سے شرک ہو سکتا ہے ؟ شرک ہو\u0026nbsp; تو\u0026nbsp; کس کے ساتھ اللہ\u0026nbsp; کی ذات تو حاضر و ناظر نہیں۔\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 27\u003Cbr \/\u003Eنماز کے سنت واجبات فرائض وغیرہ سب بدعات ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eایک غیرمقلد مولوی صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E” نماز کے واجبات فرائض سنن اور مستحبات یہ تمہاری\u0026nbsp; بدعت ہے اگر بدعت نہیں تو قرآن و سنت سے ثابت کریں“۔\u003Cbr \/\u003E(حنفیوں کے 350 سوالات کے جوابات ص 125)\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے ایک اور احمق مولوی صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E”فقہائے احناف کا نماز کے ارکان میں سے بعض کو فرض بعض کو واجب بعض کو سنت بعض کو مستحب قرار دینا بدترین بدعت ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(تحفہ حنفیہ ص 125)\u003Cbr \/\u003Eتمام فقہاء اور محدثین کرام نے اپنی اپنی کتب\u0026nbsp; میں بعض جگہ پر کسی مسئلہ کو فرض یا کسی کو سنت یا کسی کو واجب قرار دیا لیکن ان تمام محدثین فقہاء\u0026nbsp; جلیل القدر علماء کے خلاف ان وکٹورینوں کے نزدیک یہ ایک بدترین بدعت ہے۔\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 28\u003Cbr \/\u003Eہر ایک اجتہاد کا حقدار ہے۔\u003Cbr \/\u003Eویسے تو یہ عقیدہ ہر ایک غیرمقلد\u0026nbsp; کا ہوتا ہے۔\u0026nbsp; لیکن ہم ایک حوالہ بھی پیش کرتے دیتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eمشہور غیرمقلد عالم زبیر علی زئی صاحب\u0026nbsp; ایک سائل کو سوال کا مختصر جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003E”باقی امور کے بارے میں خود اجتہاد کر لیں“۔٭\u003Cbr \/\u003E(فتاویٰ علمیہ ص198)\u003Cbr \/\u003Eاس احمق کے اس قول پر ہم ایک مشہور محدث کا قول نقل کرتے ہیں \u003Cbr \/\u003Eامام الجرح والتعدیل حضرت امام شمس الدین ذہبیؒ (وفات 748ھ)فرماتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eنعم من بلغ رتبة الاجتهاد وشهد له بذلك عدة من الأئمة لم يسغ له أن يقلد كما أن الفقيه المبتدئ والعامي الذي يحفظ القرآن أو كثيرا منه لا يسوغ له الاجتهاد أبدا فكيف يجتهد وما الذي يقول؟ وعلام يبني؟ وكيف يطير ولما يريش؟\u003Cbr \/\u003Eترجمہ:\u003Cbr \/\u003E” جو شخص اجتہاد کے مرتبہ پر فائذ ہو بلکہ اس کی شہادت متعد آئمہ دیں اس کیلئے تقلید کی گنجائش نہیں ہے مگر مبتدی قسم کا فقیہ کا عامی درجے کا آدمی جو قرآن کا یا اسکے اکثر حصے کا حافظ ہو\u0026nbsp; اس کیلئے اجتہاد جائز نہیں، وہ کیسے اجتہاد کرے گا؟ کیا کہے گا کس چیز پر اپنے اجتہاد کی امارت قائم کرے گا؟ کیسے اڑھے گا ابھی اسکے پر بھی نہیں نکلے؟“۔\u003Cbr \/\u003E(سير أعلام النبلاء ج 13 ص 337)\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 29\u003Cbr \/\u003Eمن پسند مسائل کو راجح قرار دینا۔\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلدین کے امام شوکانی صاحب لکھتے ہیں”چار دن قربانی والا موقف راجح ہے“ \u003Cbr \/\u003E(نیل الاوطار جلد 5 صفحہ 149)\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلدین کے محدث العصر حافظ زبیر علی زئی صاحب\u0026nbsp; لکھتے ہیں ”قول راجح یہ ہے کہ قربانی کے صرف 3 دن ہیں“۔ \u003Cbr \/\u003E(علمی مقالات صفحہ 219)\u003Cbr \/\u003Eتبصرہ : اگر ان جہلا سے ہی کسی مسئلہ کو راجح مرجوع کروانا ہے تو بہتر نہیں\u0026nbsp; ائمہ میں سے کسی ایک کی پیروی کی جائے۔\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 30\u003Cbr \/\u003Eزبان سے نیت کا مطلق انکار کرنا\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں\u003Cbr \/\u003E”زبان سے نیت کرنا بدعت ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(نزل الابرار ج 1 ص 69)\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;جبکہ زبان سے نیت کر نا حدیث سے ثابت ہے۔٭\u003Cbr \/\u003Eحضرت ابن عباسؓ حضرت ابن\u0026nbsp; عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے نبیﷺ نے بیان فرمایا کہ میرے پاس رات کو میرے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا (فرشتہ) آیا اور اس وقت آپ عقیق میں تھے (اس نے کہا) اس مبارک وادی میں نماز پڑھئے اور کہیں کہ میں نے عمرہ اور حج کی نیت کی۔\u003Cbr \/\u003E(صحیح بخاری ج 3 ح 2244)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eجاری...\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/1185742536758019481\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_62.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/1185742536758019481"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/1185742536758019481"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_62.html","title":"عقائد علماء اہلحدیث (قسط ٢)"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});