// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-1643130237644441125"},"published":{"$t":"2015-10-19T16:11:00.003+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T15:50:46.952+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"اظہار خیال"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف1"}],"title":{"type":"text","$t":"کنواروں کا مسئلہ"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"سربکف\" میگزین 1-جولائی،اگست 2015\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cspan style=\"color: #38761d;\"\u003Eعبد الرحمٰن صدیقی حفظہ اللہ\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003E\"پہلے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجاؤ پھر شادی کی سوچنا\"\u003Cbr \/\u003Eیہ ایک جملہ ہے جو ہمارے عہد کے بہت سارے کنواروں کے دل پر بجلی بن کر گرتا ہےاور ان کی سلگتی تمنّاؤں اور امنگتی آرزوں کو خاکستر کردیتا ہے ۔ ہمارےیہاں لڑکے کے لیے پیروں پر کھڑا ہونے معیار اتنی بلندی پر رکھا گیا ہے کہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے لڑکے کی عمر اس مرحلہ میں پہنچ جاتی ہے جہاں گھٹنوں کا درد شروع ہوجاتا ہے ۔ لیکن گھنٹے میں درد شروع ہوجانے کی اور بھی کئی ساری وجوہات ہوتی ہیں ۔\u003Cbr \/\u003Eعجیب معاملہ یہ ہے کہ تیس سال سے پہلے تو یہ سمجھا ہی نہیں جاتا کہ بچّہ اب بچّہ نہیں رہا۔ جوان ہوچکا ہے ۔ آرزوئیں اب اس کےدل میں بھی کچوکے لگاتی ہیں ، خواب اب اس کی راتوں کو سونے نہیں دیتے ۔بے چارہ نوجوان شرم اور بے شرمی کے بیچ جھولتا رہتا ہے اس فکر میں کہ آخر بے شرمی کی کون سی حد تک جائے کہ گھر والے اس کا مسئلہ سمجھ پائیں ۔ کبھی حیا اس کو ہاتھ پکڑ کر روک لیتی ہے تو کبھی کنوارگی کا درد اس کو مجبور کرتا ہے کہ\" اتر جاؤ بے شرمی پر اور رکھ دو دل کا درد کھول کر سب کے سامنے ۔\"\u003Cbr \/\u003Eپھر جب عمر کی دہائی پر جب 3 آکر لگتا ہے تو گھر والوں کو لگتا ہے بچّہ اب شادی کے لائق ہوگیا ۔پھر رخ کیا جاتا ہے منڈی کی طرف ۔ لڑکے پر حسب لیاقت و صلاحیت قیمت کے ٹیگ لگتے ہیں ۔ خریدارکی تلاش ہوتی ہے ۔ دلالوں سے کانٹیکٹ کیا جاتا ہے۔ بولیاں لگتی ہیں ۔ مول بھائی ہوتا ہے۔ نیلامی ہوتی ہے ۔ اور تلاش ہوتی ہے صحیح خریدار اور مناسب دام کی ۔\u003Cbr \/\u003Eمردوں کی منڈی میں ہر طرح دلہے بکنے کو دستیاب ہوتےہیں ۔ ہر قسم کے دلہے کہ اپنی ولیو ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر اور انجینر اور باہر ملکوں میں مقیم سب سے اعلیٰ نسل کے دلہے سمجھے جاتے ہیں منڈی میں جہاں اس نسل کے دولہے بکتے ہیں وہاں کی انٹری فیس بھی بڑی ہوتی ہے ۔ جو صرف انتہائی امیر گھرانے کے لڑکی والے ہی ادا کرپاتے ہیں ۔\u003Cbr \/\u003Eمتوسظ قسم کے مالداروں اور خوشحال گھرانوں کا بھاؤ کافی عروج پر ہے آج کل ۔ اور انگریجی پڑھائی پڑھنے والوں کی بھی کافی مانگ ہے ۔\u003Cbr \/\u003Eمنڈی ایک کونے مولوی بھی بکتے ہیں ۔ کیونکہ مولوی نسل کے دولہوں کے بارے میں خریداروں کی رائے یہ ہے کہ اس نسل کے دولہے کسی نا کسی طرح اپنے بال بچّوں کا پیٹ پال ہی لیتے ہیں ، اس لیے مارکیٹ میں ان کا بھی ریٹ کافی اچھا ہوگیا ہے ۔ بلکہ شاید یہی ایک مارکیٹ ہے جہاں ان کی ویلیو تھوڑی ٹھیک ٹھاک ہے ۔ دو پہیہ سے کم اب کوئی مولوی فروخت نہیں ہوتا ۔ الا من شاء ربک\u003Cbr \/\u003Eلیکن مسئلہ صرف صحیح خریدار اور مناسب قیمت ملنے کا بھی نہیں ہے۔ یہ بازار ایسا ہے کہ بکنے والے کو خریدار بھی پسند آنا چاہے ورنہ ڈیل کینسل ۔\u003Cbr \/\u003Eذہنیت یہ بن گئی ہے کہ جب تک دس بیس گھرانے کی دعوتیں اڑا کر ان کی لڑکیاں ریجیکٹ نہ کردی جائیں لڑکے کے گھر والوں کو تسکین نہیں ہوتی ۔(١)\u003Cbr \/\u003Eوہی ہوتا ہے کہ لڑکے کا تھوبڑا چاہے دیکھنے لائق نہ ہو ۔گھر والوں کی فکر لگی ہوتی ہے ، ۔ \"وہ پری کہاں سے لاؤں ، تیری دلہن کسے بناؤں\" لڑکی چاہیے حور پری ۔ لڑکے کو چاہے بات کرنے کی تمیز نہ ہو لڑکی چاہیے بے اے ایم اے ۔\u003Cbr \/\u003Eلڑکیوں کو ریجکٹ کرنے کےلیے ایسے ایسے کمنٹ سنے گئے ہیں :\u003Cbr \/\u003E\"رنگ سانولا ہے ۔ میرے بھائی کو گوری لڑکی چاہیے ۔ \"\u003Cbr \/\u003E\"بال دیکھے تھے اپّی کتنے چھوٹے تھے اس کے ۔ \"\u003Cbr \/\u003E\"اس کی ایڑیاں پھٹی ہوئی ہیں میں نے چپ کے سے موزہ اتروا کے دیکھ لی تھی\"\u003Cbr \/\u003E\"قد چھوٹا ہے نہیں جمے گی بھائی کو \"\u003Cbr \/\u003E\" ماسٹر ہی تو ہے ابّا لڑکی کے ۔ کچھ بھی دے لیں تو کتنا دیں لیں گے آخر\"\u003Cbr \/\u003E(١) یہ صورتِ حال اکثر جگہوں پر دیکھی گئی ہے اور انتہائی شرم کا مقام ہے۔ اِن میں بلامبالغہ صرف عورتیں ہی پیش پیش رہتی ہیں۔ کاش کہ\u0026nbsp; \"مرد\" حضرات اپنی \"مردانگی\" کا\u0026nbsp; پاس کرلیں اور\u0026nbsp; نبی اکرم ﷺ کے فرمانِ عالیشان\u0026nbsp; فلیغیرہ بیدہ\u0026nbsp;\u0026nbsp; کا\u0026nbsp; خیال کرلیں۔ (مدیر)\u003Cbr \/\u003E\" چودھری تو ہیں وہ لوگ لیکن چھوٹے چودھری ہیں ۔ ہم بڑے چودھری کے گھر کی لڑکی لائیں \u003Cbr \/\u003Eگے\"\u003Cbr \/\u003E\"ہم انصاری لوگ شیخوں کے یہاں شادی نہیں کرتے\"\u003Cbr \/\u003Eاور بعض مرتبہ بہانہ ہوتا ہے ۔\u003Cbr \/\u003E\"لڑکی سمجھ نہیں آرہی ہے \"\u003Cbr \/\u003Eالغرض اس طرح پسندیدہ خریدار اور مناسب دام ملتے ملتے لڑکا 35 \/ 40 کراس کرچکا ہوتا ہے ۔\u003Cbr \/\u003Eاب بھلا بتائیے کہ کہ ایک ایسے زمانہ میں جب تقویٰ مسجد کی صفوں میں بھی دکھائی نہیں دیتا ، ایک لڑکے سے جس کی ضرورت 15 \/16 سال سے ہی شروع ہو گئی تھی آپ بیس سال تک روزے پر کیسے گذارا کراسکتے ہیں ۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ معاشرہ میں فحاشی بڑھ گئی ہے ۔ تو بھائی جہاں نکاح مشکل ہوگا وہاں زنا اپنے لیے راستے آسان کر ہی لے گا۔\u003Cbr \/\u003Eبہت سارے معاملا ت میں نے دیکھے ہیں کہ لڑکے جہیز کی لالچ نہیں رکھتے لیکن ان کی جوانی گھر والوں کی لالچ کی بھینٹ چڑھا جاتی ہے ۔\u003Cbr \/\u003Eمیں اپنے عہد کے کنواروں کو بغاوت پر ابھارتا ہوں ۔ دوستو! اصل کھیلنے کے دن تو یہ بیس کی دہائی کے ہی ہوتے ہیں ۔ یہ ایک ایک دن بڑے قیمتی ہیں ۔ ان کو اپنی کنوارگی میں ضائع مت کرو، نا جوانی کی اس پاک دامنی پر بد کرداری\u0026nbsp; کا داغ نہ لگنے دو۔ تمہارے نبی کی تعلیم ہے کہ اگر بیوی کا نان نفقہ برداشت کرسکتے ہو تو شادی کرلو۔ اس سے نگاہیں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہیں محفوظ ہوجاتی ہے ۔\u003Cbr \/\u003Eیہ خوبصورت لمحے لالچی گھر والوں کی بھینٹ مت چڑھاؤ ۔ یہ لالچی لوگ تمہاری جوانی واپس نہیں لاکر دینے والے ۔ لڑکے کو شادی کےلیے ولی کی ضرورت نہیں ۔ قدم آگےبڑھاؤ اور گھر دلہن لےآؤ۔ ورنہ تیس کے بعد حور پری بھی مل جائے تونوجوانی کا یہ لطف نہیں ملنے والا۔\u003Cbr \/\u003Eدیکھو تمھارے لیے بھی آسمان سے اتر کر حوریں نہیں آنے والی ۔ دنیا ہی کی کسی لڑکی سے کام چلانا پڑے گا۔ بقیہ خواہشیں پوری کرنے کے لیے دینداری اختیار کرو اور جنّت کا انتظار۔ دنیا کےلیے تو رسول کی یہی ہےہدایت ہے کہ :\u003Cbr \/\u003Eتُنْکَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاکَ\u003Cbr \/\u003E\"عورت سے چار وجہوں سے شادی کی جاتی ہے ۔ مال ،جمال ، نسب اور دین ۔ دین دار لڑکی سے شادی کرکے کامیاب ہولے ۔ \" ( متفق علیہ)\u003Cbr \/\u003E٭٭٭\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/1643130237644441125\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_64.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/1643130237644441125"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/1643130237644441125"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_64.html","title":"کنواروں کا مسئلہ"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});