// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-1851599290370349884"},"published":{"$t":"2017-09-13T22:05:00.000+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T22:05:08.185+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد بریلویت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف3"}],"title":{"type":"text","$t":"حضرت گنگوہیؒ پر تکذیب رب العزت  کا  بہتان اور اس کا جواب"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cb\u003E\u0026nbsp;مولانا ساجد خان نقشبندی ﷾\u003C\/b\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eمولوی احمد رضاخان اپنی تکفیری دستاویز ’’حسام الحرمین‘‘ پر مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ :\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;پھر تو ظلم و گمراہی میں اس کا حال یہاں تک بڑھا کہ اپنے ایک فتوے میں جو اس کا مہری دستخطی میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے بمبئی وغیرہ میں بارہا مع رد کے چھپا صاف لکھ دیا کہ جو اللہ سبحانہ و تعالی کو بالفعل جھوٹا مانے اور تصریح کردے کہ معاذ اللہ اللہ تعالی نے جھوٹ بولا اور یہ عیب اس سے صادر ہوچکا تو اسے کفر بالائے طاق،گمراہی درکنار،فاسق بھی نہ کہو اس لئے کہ بہت سے امام ایسا کہہ چکے ہیں جیسا اس نے کہا بس نہایت کار یہ ہے کہ اس نے تاویل میں خطا کی ۔۔۔یہی وہ ہیں جنھیں اللہ تعالی نے بہر ا کیا اور اس کی آنکھیں آندھی کردیں (حسام الحرمین مع تمہید ایمان ص 71مکتبۃ المدینہ)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;قارئین کرام حضرت گنگوہی ؒ کی طرف کسی ایسے فتوے کی نسبت کرنا سراسر افتراء اور بہتان ہے حسام الحرمین کی اس سے پہلی والی بحث یعنی تحذیر الناس میں تو مولوی احمد رضاخان نے تحذیر الناس کی متفرق عبارتیں جوڑ کر کفر کی مسل تیار بھی کرلی تھی یہاں تو یہ بھی ناممکن ہے ۔بحمد اللہ ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مرحوم کے کسی فتوے میں یہ الفاظ مرقوم نہیں ہیں نہ ہی کسی فتوے کا یہ مضمون ہے ۔بلکہ درحقیقت یہ صرف خان صاحب یاان کے کسی دوسرے ہم پیشہ بزرگ کا افتراء اور بہتان ہے ۔بفضلہ تعالی ہمارے اکابر اس شخص کو کافر ،مرتد ،ملعون سمجھتے ہیں جو خداوند تعالی کی طرف جھوٹ کی نسبت کرے اور اس سے بالفعل صدور کذب کا قائل ہو بلکہ جو بد نصیب اس کے کفر میں شک کرے ہم اس کو بھی خارج از اسلام سمجھتے ہیں ۔حضرت مولانا رشید احمد صاحب ؒ جن پر خان صاحب نے یہ ناپاک اور شیطانی بہتان لگایا خود انہی کے مطبوعہ فتا وی میں یہ فتوی موجود ہے :\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;ذات پاک حق تعالی جل جلالہ کی پاک و منزہ ہے اس سے کہ متصف بوصف کذب کیا جائے ۔معاذ اللہ تعالی اس کے کلام میں ہرگز ہرگز شائبہ کذب کا نہیں قال اللہ تعالی: و من اصدق من اللہ قیلا(فتاوی رشیدیہ جلد اول ص118وتالیفات رشیدیہ ص96(\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجو شخص اللہ تعالی کی نسبت یہ عقیدہ رکھے یا زبان سے کہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے وہ قطعا کافر و ملعون ہے اور مخالف قرآن و حدیث کا اور اجما ع امت کا ہے۔و ہ ہرگز مومن نہیں تعالی اللہ عما یقول الظلمون علوا کبیرا(ایضا)۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eناظرین انصاف فرمائیں کہ اس صریح اور چھپے ہوئے فتوے کے ہوتے ہوئے حضرت ممدوح پر یہ افتراء کرنا کہ معاذ اللہ وہ خدا کو کاذب بالفعل مانتے ہیں یا ایسا بکنے والے کو مسلمان کہتے ہیں کس قدر شرمناک کاروائی ہے۔؟؟الحساب یو م الحساب ۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eشرم ۔۔۔شرم ۔۔۔شرم۔۔۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eرہا مولوی رضاخان صاحب کا یہ لکھنا کہ ’’میں نے ان کا وہ فتوی مع مہر و دستخط بچشم خود دیکھا‘‘اس کے جواب میں ہم صرف اتنا عرض کریں گے جب اس چودہویں صدی کا ایک عالم و مفتی ایک چھپی ہوئی کثیر الاشاعت کتاب (تحذیر الناس)کی عبارتوں میں قطع و برید کرکے ص3,14,28کی عبارتوں میں تحریف کرکے ایک کفریہ مضمون گھڑ کے تحذیر الناس کی طرف منسوب کرسکتا ہے تو کسی جعلساز کیلئے کسی کے مہر و دستخط بنا لینا کیا مشکل ہے؟ (آپ حضرات اکثر سنتے ہونگے اخبارات و ٹی وی میں کہ فلاں جگہ سے جعلساز پکڑے گئے جن سے جعلی سرکاری مہریں برآمد ہوئی ہیں جو پاسپورٹ پر لگانے کے کام آتی تھی وغیرہ وغیرہ )کیا دنیا میں جعلی سکے جعلی نوٹ جعلی دستاویز تیار کروانے والے موجود نہیں؟مشہور ہے کہ بریلی اور اس کے گرد و نواح میں اس فن کے بڑے بڑے ماہر رہتے ہیں جنکا ذریعہ معاش ہی یہی ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eبہرحال مولوی احمد رضاخان نے حضرت گنگوہی ؒ کے جس فتوے کا ذکر کیا ہے اس کی کوئی اصل نہیں فتاوی رشیدیہ جو تین جلدوں میں چھپ کر آچکی ہے (اس وقت یہ مجموعہ تالیفات رشیدیہ کے ساتھ بھی چھپ چکا ہے جس میں حضرت گنگوہی ؒ کی تمام تصانیف کو جمع کردیا گیا ہے)وہ بھی ا س کے ذکرسے خالی ہے ۔بلکہ اس میں تو اس کے خلا ف چند فتوے موجود ہیں جن میں سے ایک اوپر نقل بھی کیا جاچکا ہے ۔اور اگر فی الواقع خان صاحب نے ا س قسم کا کوئی فتوی دیکھا ہے تو وہ یقیناًان کے کسی ہم پیشہ بزرگ یا ان کے کسی پیشرو کی جعلسازی اور دسیسہ کاریوں کا نتیجہ ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eحضرات علمائے کرام و مشائخ کرام رحمھم اللہ کی عزت و عظمت کو مٹانے کیلئے حاسدوں نے اس سے پہلے بھی اس قسم کی کاروائیاں کی ہیں ۔اس سلسلے کے چند عبرت آموز واقعات ہم یہاں عرض کردیتے ہیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭ امت کے جلیل القدر فقیہ اور محدث اعظم اما م احمد حنبل ؒ اس دنیا سے کوچ فرمارہے ہیں کہ اور کوئی بد نصیب حاسد عین اسی وقت تکیہ کے نیچے لکھے ہوئے کاغذات رکھ جاتا ہے جن میں خالص ملحدانہ عقائد اور زندیقانہ خیالات بھرے ہوئے ہیں ۔ کیوں؟صرف اس لئے کہ لوگ ان تحریرات کو امام احمد بن حنبل ؒ ہی کی کاوش دماغی کا نتیجہ سمجھیں گے اور جب ان کے مضامین تعلیمات اسلامی کے خلاف پائیں گے تو ان سے بد ظن ہوجائیں گے اور لوگوں ک دلوں سے ان کی عظمت نکل جائے گی ۔پھر ہماری دکان جو امام کے فیض عام سے پھیکی پڑ چکی تھی چمک اٹھے گی۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭ امام لغت علامہ فیروز آبادی صاحب قاموس ؒ زندہ تھے مشہور امام و مرجع خواص و عام تھے حافظ حجر عسقلانی ؒ نے ان کے خرمن علم سے خوشہ چینی کی۔حاسدین نے ان کی اس غیر معمولی مقبولیت کو دیکھ کر ان کی اس عظمت کو بڑ لگانے کیلئے ایک پوری کتاب حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی مطاعن میں تصنیف کر ڈالی جس میں خوب زور و شور سے امام اعظم ؒ کی تکفیر بھی کی اور یہ جعلی کتاب ان کی طرف منسوب کرکے دور دراز تک شائع کروادی۔حنفی دنیا میں علامہ فیرو ز آبادی ؒ کے خلا ف نہایت زبردست ہیجان پیدا ہوگیا لیکن بیچارے علامہ ؒ کو اس کی خبر بھی نہ تھی یہاں تک جب وہ کتاب ابو بکر الخیاط البغوی الیمانی کے پاس پہنچی تو انھوں نے علامہ فیروز آبادی کو خط لکھا کہ آپ نے یہ کیا کیا؟علامہ موصوف اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ :\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;اگر وہ کتاب جو افتراء میں میری طرف منسوب کردی گئی ہے آپ کے پاس ہوتو فورا اس کو نذر آتش کردیں خدا کی پناہ !میں اور حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی تکفیرو انا اعظم المعتقدین فی امام ابی حنفیہ ۔اس کے بعد ایک ضخیم کتاب امام ابو حنیفہ ؒ کے مناقب میں لکھی۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭ امام مصطفی کرمانی حنفی ؒ نے نہایت جانکاہی سے ’’ مقدمہ ابو اللیث سمرقندی‘‘کی مبسوط شرح لکھی جب ختم کرچکے تو مصر کے علما ء کو دکھلانے کے بعد اس کی اشاعت کا ارداہ کیا ۔تصنیف الحمد اللہ کامیاب تھی۔بعض حاسدوں کی نظر میں کھٹک گئی انھوں نے سمجھ لیا کہ اس کی اشاعت سے ہماری دکانیں پھیکی پڑجائیں گی اور تو کچھ نہ کرسکے البتہ یہ خباثت کی کہ اس کے ’’باب آداب الخلاء‘‘کے اس مسئلہ کے حاجت کے وقت آفتاب وماہتاب کی طرف رخ نہ کرے ۔اپنی دسیسہ کاری سے اتنا اضافہ کردیا کہ ’’چونکہ ابراہیم ؑ ان دونوں کی عبادت کرتے تھے‘‘معاذ اللہ ۔علامہ کرمانی ؒ کو اس شرارت کی کیا خبر تھی انھوں نے لا علمی میں وہ کتاب مصر کے علماء کے سامنے پیش کردی جب ان کی نظر ا س دلیل پر پڑی تو سخت برہم ہوئے اور تمام مصر میں علامہ ؒ کے خلاف ہنگامہ کھڑ ا ہوگیا قاضی مصر نے واجب القتل قرار دے دیا۔بیچارے راتوں رات جان بچا کر مصر سے بھاگ گئے ورنہ سر دئے بغیر چھوٹنا مشکل تھا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہ گنتی کے چند واقعات تھے ورنہ تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو حاسدوں کی ان شرارتوں سے تاریخ کے واقعات بھرے پڑے ہیں ۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eپس اگر بالفرض فاضل بریلوی اپنے اس بیان میں سچے ہیں کہ انھوں نے اس مضمون کا کوئی فتوی دیکھا ہے تو یقیناًوہ اسی قبیل سے ہے۔ لیکن پھر بھی فاضل بریلوی کو اس بنا پر کفر کا فتوی دینا ہرگز جائز نہ تھا جب تک کہ وہ خود خوب تحقیق نہ کرلیتے کہ یہ فتوی حضرت مولانا کا ہی ہے یا نہیں؟فقہ کا مسلم اور مشہور مسئلہ ہے کہ ’’الخط یشبہ الخط‘‘یعنی ایک انسان کا خط دوسرے انسان سے مل جاتا ہے اور خود خان صاحب بھی اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ :\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eتمام کتابوں میں تصریح ہے کہ الخط یشبہ الخط ،الخط لا یعمل بہ (ملفوظات حصہ دوم ص170فرید بک اسٹال لاہور)۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eرہے وہ دلائل جو خان صاحب نے اس فتوے کے صحیح ہونے کیلئے اپنی کتاب تمہیدایمان میں لکھے تو وہ نہایت لچر اور تار عنکبوت سے زیادہ کمزور ہیں قارئین کرام ذرا ان کو بھی خود دیکھ لیں اور جانچ لیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہ تکذیب خدا کا ناپاک فتوے اٹھارہ برس ہوئے 1308ھ میں رسالہ صیانۃ الناس کے ساتھ مطبع حدیقۃ العلوم میرٹھ میں مع رد کے شائع ہوچکا ہے ۔پھر 1318ھ میں مطبع گلزار حسینی بمبئی میں اس کا مفصل رد چھپا پھر 1320ھ میں پٹنہ عظیم آباد میں اس کا ایک قاہرہ رد چھپا اور فتوی دینے والا جمادی الاخر ۱۳۲۳ ھ میں مرا اور مرتے دم تک ساکت رہا نہ یہ کہا کہ وہ فتوی میرا نہیں حالانکہ خود چھپائی ہوئی کتابوں سے اس کا انکار کردینا سہل تھا نہ یہی بتلایا کہ وہ مطلب نہیں جو علمائے اہلسنت بتلارہے ہیں بلکہ میرا مطلب یہ ہے ۔ نہ کفر صریح کی نسبت کوئی سہل بات تھی جس پر التفات نہ کیا۔(تمہید ایمان ص 49)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eحشو و زائد کو حذف کردینے کے بعد خان صاحب کی اس دلیل کا صرف حاصل یہ ہے کہ :\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(١) یہ فتوی مع رد کے مولانا ممدوح ؒ کی زندگی میں تین دفعہ چھپا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(٢) انھوں نے تازیست اس فتوے سے انکار نہیں کیا نہ اس کا کوئی مطلب بتلایا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(٣) اور چونکہ معاملہ سنگین تھا اس لئے خاموشی کو عد م التفات پر بھی محمو ل نہیں کیا جاسکتا لہٰذا ثابت ہوگیا کہ یہ فتوے انہی کا ہے اور اسی بنا پر ہم نے ان کی تکفیر کی اور تکفیر بھی ایسی کہ من شک فی کفرہ فقد کفر۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاگرچہ خان صاحب کے ان دلائل کا لچر پوچ و مہمل ہونا ہمارے نقد تبصرے کا محتاج نہیں ۔ہر معمولی سی عقل رکھنے والا بھی تھوڑے سے غور و فکر کے بعد اس کو لغویت سمجھے گا تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہر ہر جز پر تھوڑی سی روشنی ڈال دیجائے تاکہ آپ سے خان صاحب کے علم و مجددیت کی کچھ داد دلوادیجائے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eخان صاحب کی پہلی دلیل کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہ فتوے مولانا کی حیات میں تین دفعہ چھپے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس مقدمے میں سے اتنا تو معلوم ہوگیا کہ یہ فتوے مولانا کے مخالفین نے چھاپے ۔مولانایا آپ کے متوسلین کی طرف سے کبھی اس کی اشاعت نہیں ہوئی (خیر اس راز کو تو اہل بصیرت ہی سمجھ سکتے ہیں )ہم کو تو اس کے متعلق صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ اگر خان صاحب کے بیان کو صحیح سمجھ لیا جائے کہ یہ فتوی متعدد بار بمع رد کے حضرت گنگوہی ؒ کی حیات میں شائع ہوا جب بھی لازم نہیں آتا کہ حضرت کے پاس بھی پہنچا ہو یاان کو اس کی اطلاع بھی ہوئی ہو۔اگر ان کے پاس بھیجا گیا تو سوال یہ ہے کہ ذریعہ قطعی تھا یا غیر قطعی؟پھر کیا خان صاحب کو اس کی وصولیابی کی اطلاع ہوئی ؟اگر ہوئی تو وہ ذریعہ قطعی تھا یا ظنی؟ بحث کے پہلوؤں سے چشم پوشی کرکے کفر کا قطعی فتوی دینا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے ؟۔بہرحال جب تک قطعی طور پر ثابت نہ ہوجائے کہ فی الواقع حضرت گنگوہی ؒ نے کوئی ایسا فتوی لکھا تھا جس کا قطعی اور متعین مطلب وہی تھا جو مولوی احمد رضاخان نے لکھا اس وقت تک ان تخمینی بنیادوں پر تکفیر قطعا ناروا بلکہ معصیت ہے ۔حضرت مولانا ممدوح ؒ تو ایک گوشہ نشین عارف باللہ تھے جن کا حال بلا مبالغہ یہ تھا\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eبسو دائے جانان زجان مشتغل\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eبذکر حبیب از جہاں مشتغل\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eخان صاحب کے دوسرے مقدمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;مولانا ؒ نے اس فتوے کا انکار نہیں کیا نہ ا س کی تاویل کی۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس کے متعلق تو پہلی گزارش یہی ہے کہ جب اطلاع ہی ثابت نہیں تو انکار کس چیز کا اور تاویل کس بات کی ؟اور فرض کرلیجئے کہ ان کو اطلاع ہوئی لیکن انھوں نے ناخد ا ترس مفتریوں کی اس ناپاک حرکت کو ناقابل توجہ سمجھا ان کو بحوالہ خدا کرکے سکوت فرمایا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eرہا یہ کہ کفر کی نسبت کوئی معمولی بات نہ تھی جس کی طرف التفات نہ کیا جائے ۔تو اول تو یہ ضروری نہیں کہ دوسرے بھی آپ کے نظریہ سے متفق ہوں ۔ہوسکتا ہے کہ انھوں نے اس کے انکار کی ضرورت نہ سمجھی ہو۔کہ ایمان والے خود ہی اس ناپاک افتراء کی تکذیب کردیں گے۔یا انھوں نے یہ خیال کیا ہو کہ اس گند کو اچھالنے والے علمی اور مذہبی دنیا میں کوئی مقام نہیں رکھتے لہٰذا ان کی بات کا کوئی اعتبار نہیں کرے گا ۔بہرحال سکوت کیلئے یہ وجوہ بھی ہوسکتی ہیں ۔پھر قطع نظر ان تمام باتوں سے یہ کہنا ہی غلط ہے کہ کفر کا معاملہ سنگین تھا بے شک خان صاحب کی ’’مجددیت ‘‘ کے دور سے پہلے تکفیر ایسی غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی لیکن خان صاحب کی روح اور ان کی موجودہ ذریت مجھے معاف فرمائے کہ جس دن سے افتاء کا قلمدان خان صاحب کے بے باک ہاتھوں میں گیا ہے اس روز سے تو کفر اتنا سستا ہوگیا ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ندوۃ العلماء والے کافر جو نہ مانے کافر،اہلحدیث کافر جو نہ مانے کافر،دیوبندی کافر جو نہ مانے کافر،مولانا عبد الباری فرنگی صاحب کافراور تو اور تحریک خلاف میں شرکت کے جرم اپنے برادران طریقت عبدالماجد صاحب بدایوانی ،عبد القادر بد ایوانی کافر اس کو بھی چھوڑو مصلی رسول ﷺ پرکھڑا ہونے والا شخص آئمہ اسلام سب کافر ۔کفر کی وہ بے پناہ مشین گن چلی کہ الٰہی توبہ! بریلی کے ڈھائی نفر انسانوں کے سوا کوئی مسلمان نہ رہا۔پس ہوسکتا ہے کہ خان صاحب کسی اللہ والے کو کافر کہیں اوروہ اللہ والا اس کو نباح الکلا ب (کتوں کا بھونکنا)سمجھتے ہوئے خاموشی اختیار کرے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مولانا مرحوم ؒ کو اس فتوے کی اطلاع ہوئی اور مولانا ؒ نے انکار بھی کیا ہو مگر خانصاحب کواس کی اطلاع نہ ہوئی پھر عدم اطلاع سے عدم انکار کیوں سمجھا جاسکتا ہے؟کیا عدم علم عدم الشئی کو مستلزم ہے؟۔اہل علم اور ارباب عقل و دانش غور فرمائیں کہ کیا اتنے احتمالات کے ہوتے ہوئے بھی تکفیر جائز ہوسکتی ہے ؟دعوی تو یہ تھا کہ :\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eایسی عظیم احتیاط والے (یعنی خود بدولت جناب خانصاحب)نے ہر گز ان دشنامیوں (حضرت گنگوہی ؒ وغیرہ)کو کافر نہ کہا جب تک یقینی ،قطعی واضح،روشن،جلی طور سے ان کا صریح کفر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہوگیا ۔جس میں اصلا اصلا ہر گز کوئی گنجائش کوئی تاویل نہ نکل سکے۔(تمہید ایمان ص 55)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاور دلیل اس قدر لچر کے یقین کیا ظن کو بھی مفید نہیں۔اور اگر ایسی ہی دلیلوں سے کفر ثابت ہوتا ہے تو پھر تو اسلام اور مسلمانوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔کوئی جاہل اور دیوانہ کسی با خدا کو کافر کہے اور وہ اس کو ناقابل خطاب سمجھتے ہوئے اعراض کرے اور ا سکے لئے اپنی صفائی پیش نہ کرے بس خان صاحب کی دلیل سے کافر ہوگیا۔چہ خوش ۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eگر ہمیں مفتی و ہمیں فتوی\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;کار ایماں تمام خواہد شد\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eادھر فقہاء کی یہ تصریحات کہ ۹۹ احتمالات کفر کے ہوں صرف ایک احتمال اسلام کا پھر بھی تکفیر جائز نہیں ادھر یہ مجدد کہ محض خیالی و وہمی مقدمے جوڑ کر کہتا ہے کہ من شک فی کفرہ فقد کفر ۔اللہ کی پناہ۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہی وہ خیالات و واقعات ہیں جسکی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ خان صاحب نے فتاوی کفر کسی غلط فہمی یا علمی لغزش پر جاری نہ کئے تھے بلکہ درحقیقت اس کی تہ میں صرف حسد و جاہ پرستی اور نفس پرستی کا بے پناہ جذبہ کارفرماتھا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭٭٭\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/1851599290370349884\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2017\/09\/blog-post_33.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/1851599290370349884"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/1851599290370349884"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2017\/09\/blog-post_33.html","title":"حضرت گنگوہیؒ پر تکذیب رب العزت  کا  بہتان اور اس کا جواب"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});