// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-2638820137014109008"},"published":{"$t":"2016-01-02T17:28:00.002+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T21:33:30.360+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"اداریہ"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف3"}],"title":{"type":"text","$t":"دو رنگی چھوڑ دے...قسط ۱"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"color: red;\"\u003E\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\"سربکف\" میگزین 3-نومبر، دسمبر 2015\u003C\/span\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cspan style=\"color: #38761d;\"\u003Eمدیر\u003C\/span\u003E\u003C\/span\u003E\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eایک بلند ٹیلہ تھا۔تمام لوگ نیچے تھے، اور ”وہ“ اوپر تھا۔ زمانے کی آنکھ نے رشک سے اس ٹیلے کو دیکھا جس پر اس کے مبارک قدم ٹکے ہوئے تھے، لوگوں نے اسے\u0026nbsp; اس\u0026nbsp; بلند\u0026nbsp; ٹیلے پر چڑھ کر ایک پیش گوئی کرتے سنا، ایک سچی پیش گوئی۔۔۔جسے دنیا نہ اس وقت جھٹلا پائی، نہ قیامت تک جھٹلا سکے گی۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E”کیا تم اس چیز کو دیکھتے ہو جس کو میں دیکھ رہا ہوں؟ میں وہ فتنے دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھروں پر اس طرح برس رہے ہیں جس طرح مینہ برستا ہے۔“(صحیح بخاری، کتاب المناقب، رقم:۳۵۹۷)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E”وہ“\u0026nbsp;\u0026nbsp; وہی تھا جسے بلندی دوجہان کے خالق نے عطا کی تھی۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ\u0026nbsp;\u0026nbsp; (سورہ ۹۴، الانشراح:۴)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eہم نے تیرا ذکر بلند کردیا۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاور جس نے قیامت تک کے لیے اپنے راستے پر چلنے والوں کو رفعت و معراج، کامرانی وسربلندی کا مژدۂ جانفزا سنایا تھا۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eوَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ(سورہ ۳،آل عمران:۱۳۹)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eتم ہی سربلند ہوگے۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eرفعت والے نبی ﷺ\u0026nbsp; کی چشمِ نبوت نے فتنوں کو بارش کے پانی کی طرح برستے دیکھا۔ اور جو ہماری\u0026nbsp; نظر سے پوشیدہ تھا، وہ\u0026nbsp; ہمیں\u0026nbsp; بتلادیا گیا۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eإِنِّي أَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ مَوَاقِعَ الْقَطْرِ\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E” میں وہ فتنے دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھروں پر اس طرح برس رہے ہیں جس طرح مینہ برستا ہے۔“\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاللہ اکبر!کیسی سچی پیش گوئی ہے! پتہ نہیں اُن پیارے لوگوں کے وقت ان فتنوں کا کوئی تصور ہوگا بھی یا نہیں۔\u0026nbsp; \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eپہلے زمانے میں تھیٹر ہوا کرتے تھے۔اس وقت تھیٹر دیکھنے کے لیےٹکٹ خریدنا ہوتا تھا، قطار لگانی ہوتی تھی،لیکن آج\u0026nbsp; نہ وہ تھیٹر ہے نہ تھیٹر کے باہر کی قطار ہے۔ سب کچھ جیب میں\u0026nbsp; موبائل کی صورت میں سماچکا ہے۔ \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس وقت\u0026nbsp; ساری دنیا کے سامنے ظاہر تھا کہ یہ شخص آج تھیٹر دیکھ رہا ہے، چھپ نہیں سکتے، بچ نہیں سکتے، کوئی پہچان والا دیکھ سکتا تھا۔اور اب ساری دنیا بے خبر ہے...\u0026nbsp;\u0026nbsp; لحاف کےاندر چھپا تھیٹر ہے، باتھ روم و بیت الخلاء کے اندر تھیٹر ہے۔ \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eپھر اس تھیٹر میں کیا ہوتا ہوگا؟ کچھ مار دھاڑ ہوتی ہوگی۔ کچھ ایکشن ہوتا ہوگا۔ کچھ جاسوسی اور سسپنس (Suspense)ہوتا ہوگا، کچھ رومانس ہوتا ہوگا، کچھ عریانیت بھی ہوتی ہوگی۔ \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاور اس موبائل میں...\u0026nbsp; فحاشی اور بے حیائی کا وہ سیلاب ہے جو ساری شرم و حیا بہا کے لے جائے...\u0026nbsp;\u0026nbsp; شیطان جن سے شرمانے لگے۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;آج، خداوندِ قدوس کی عزت و جلالت کی قسم،فتنوں کو بارش کی طرح برستے ہوئے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ دیکھ لو\u0026nbsp; دن بدن نت نئے فتنوں میں اضافہ ہی ہورہا ہے، کمی کہیں نہیں ہے، انصاف رسوا ہے، قانون بکاؤ ہے، انسانی زندگی کھیل تماشا ہے، ننگا ناچ ایک آرٹ ہے، عریانیت اور فحاشی ایک فیشن ہے،فضا گناہوں سے آلودہ ہے،\u0026nbsp;\u0026nbsp; ہر گھر میں ناچ گانے کی آواز ہے، ، ہر سو بے حیائی کا شیطانی رقص ہے ،ہر سمت موسیقی کی جھنکارہے،ہر آن شیطان کے قہقہے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eفتنوں کی اس\u0026nbsp; دھواں دھار بارش میں... \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eکچھ لوگ اکھڑ جاتے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eکچھ لوگ فتنوں کے خلاف ثابت قدم \"نظر آتے ہیں\"۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eکچھ لوگ ان فتنوں کے مقابل ثابت قدم ہوتے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eچنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی دو اقسام بتائی ہیں:\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eهُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ (سورہ ۶۴،التغابن: ۲)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eوہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کچھ انکار کرنے والے ہیں، اور کچھ ایمان لانے والے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیوں مجموعی طور پر انسان دو اقسام میں بٹ جاتا ہے۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E١۔ماننے والے\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٢۔ نہ ماننے والے\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہ ماننے اور نہ ماننے والے، اعمال کی بنیاد پر چار طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E١۔ قالب کی زندگی\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eقالب جسم کو کہتے ہیں ۔ ان لوگوں کی زندگی صرف اپنے جسم کے لیے ہوتی ہے۔ ان کی ساری کارکردگی کا لب لباب اپنے بدن کو لذت پہنچانا ہوتا ہے۔ چنانچہ کافر کی ساری زندگی صرف کھانا، پینا اور اپنی شہوات کو پورا کرنا، اسی کے گرد ختم ہوجاتی ہے۔ان کا اس کے سوا اور کوئی مقصد ہی نہیں ہوتا۔ ان کے بارے میں اللہ نے کہا:\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eوہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eبَلْ هُمْ اَضَلُّ(سورہ ۷، الاعراف:۱۷۹)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;بلکہ جانوروں سے بھی بدتر(بھٹکے ہوئے) ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eکیونکہ جانوروں کی زندگی میں بھی صرف یہی کام ہیں۔ یا تو کھائے گا، پیے گا، یا پھر جماع کرے گا۔اور یہ بھی انہیں کاموں میں مگن ہے۔ \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجانوروں کو عقل نہیں ہوتی، یہ سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے ۔چنانچہ اللہ نے آگے ترقی کر کے کہا:\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;بَلْ هُمْ اَضَلُّ- یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کردیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔(تفسیر ابنِ کثیر، تفسیر آیتِ مذکورہ)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٢۔ قلب کی زندگی\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہ لوگ ایمان والے ہوتے ہیں۔ اور دین کے بنیادی احکام پر عمل بھی کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ سارے کفار و مشرکین والے کام بھی انجام دیتے ہیں۔ فیشن اور ٹپ ٹاپ میں رہنا انہیں پسند ہوتا ہے۔ مغربی طرزِ زندگی سے انسیت ہوتی ہے اور انہیں کے طریقے پسند ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eمَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انہیں میں سے ہوگا۔ \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eچنانچہ ان کے دوست احباب بھی اسی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ مجالس بھی اسی طرز کی ہوتی ہیں۔ اور ان کا اٹھنا بیٹھنا اسی روش پر ہوتا ہے۔ یہ پیٹ اور مال کے پجاری ہوتے ہیں، اور صرف نام کے مسلمان ہوتے ہیں۔ موت سے انہیں خوف آتا ہے۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٣۔ ایمان کی زندگی\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جونمازکے پابند ہوتے ہیں۔\u0026nbsp; ان کا لباس سنت کے مطابق ہوتا ہے۔ چہرہ\u0026nbsp; نبی پاک ﷺ کی سنت\u0026nbsp; یعنی داڑھی سے مزین ہوتا ہے۔دین داروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ نشست و برخاست دین داروں کے ساتھ ہوتی ہے۔\u0026nbsp; دین کی محنتیں کرتے ہیں۔\u0026nbsp; اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں۔ دین کے کام میں دوڑ دوڑ کے حصہ لیتے ہیں۔ خوب وقت لگاتے ہیں۔ ذکر و تسبیح کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ دین کے سمجھنے اور جاننے والے ہوتے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; اور تو اور، دین کی بات کرتے ہیں، دعوت دیتے ہیں۔ لوگوں کو دین کے مطابق زندگی گزارنے پر ابھارتے ہیں۔ وعظ و نصیحت بھی کرتے ہیں۔ تصنیف و تالیف بھی کرتے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; لیکن جب انہیں گناہ کا موقع ملتا ہے تو گناہ بھی کر بیٹھتے ہیں۔ شیطان ان کو ذرا سا پُش Push\u0026nbsp; کرے تو فوراً اس کے پیچھے چلنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔یہ لوگ جلوت میں متقی اور خلوت میں گناہ گار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ چھُپ کر گناہ کرتے ہیں۔لوگوں کے سامنے مولانا ہوتے ہیں۔ لوگ انہیں متقی اور پرہیزگار سمجھتے ہیں۔ علم بھی انہیں خوب ہوتا ہے۔ ان کی نیکیاں کثیر تعداد میں ہوتی ہیں۔ لیکن یہ اوپر سے لا الٰہ ہوتے ہیں اور اندر سے کالی بلا ہوتے ہیں۔یہ لوگ اس لیے گناہ سے بچتے ہیں کہ \"لوگ دیکھ رہے ہیں\" یعنی اللہ کے ڈر کی وجہ سے گناہوں سے نہیں بچتے، بلکہ لوگوں کے ڈر سے بچتے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eانہیں گناہ کرنے کا احساس بھی ہوتا ہے، اور یہ گناہ سے بچنا بھی چاہتے ہیں۔ رب تعالیٰ کے سامنے روتے بھی ہیں۔ لیکن جونہی انہیں گناہ کا موقع ملتا ہے تو فوراً شیطان کے پیچھے ہولیتے ہیں۔ یعنی کلیتاً ان کا تزکیہ نہیں ہوا ہوتا...\u0026nbsp;\u0026nbsp; ۱۰۰ گناہوں میں سے ۹۵ نہیں کرتے البتہ ۵ ضرور کرتے ہیں۔ کبھی ۹۸ نہیں کرتے لیکن ایک دو گناہ ایسے ضرور ہوتے ہیں جس میں یہ لگے رہتے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eچنانچہ\u0026nbsp; یہ اعلانیہ طور پر تو خدا پرست ہوتے ہیں، البتہ خفیہ طور پر نفس پرست اور ہویٰ پرست ہوتے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eبقول مرشدی پیر ذوالفقار نقشبندی دامت برکاتہم: \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E”یاد رکھیں!زن پرستی، زر پرستی، شہوت پرستی، نفس پرستی...\u0026nbsp; یہ سب کی سب بت پرستی ہی کی اقسام ہیں...\u0026nbsp; خدا پرستی کوئی اور چیز ہے!“ \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(جاری......)\u003C\/span\u003E\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: left;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; فقیر شکیبؔ احمدعفی عنہٗ\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; ٢١ نومبر،بروز سنیچر،١٠:٥٠بجے صبح\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/2638820137014109008\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2016\/01\/blog-post.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/2638820137014109008"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/2638820137014109008"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2016\/01\/blog-post.html","title":"دو رنگی چھوڑ دے...قسط ۱"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});