// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-3441947210928554529"},"published":{"$t":"2015-10-19T16:07:00.000+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T16:03:02.212+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد غیر مقلدیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف1"}],"title":{"type":"text","$t":"عقائد علماء اہلحدیث"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"سربکف\" میگزین 1-جولائی،اگست 2015\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cspan style=\"color: #38761d;\"\u003Eعباس خان \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eعلماء اہلحدیث کے چند باطل عقائد و نظریات:\u003Cbr \/\u003Eنوٹ:ہم جہاں بھی لفظ اہل حدیث ، فرقہ\u0026nbsp; اہلحدیث ، لامذہب\u0026nbsp; یا غیرمقلدین\u0026nbsp; کا لفظ استعمال کریں تو اس سے انگریز کے دور میں وجود میں آنے والا فرقہ مراد ہو گا۔ جیسا کہ\u0026nbsp; ان کے ایک بڑے بزرگ ہیں ان کی شہادت ہے\u0026nbsp; ، چنانچہ فرماتے ہیں\u003Cbr \/\u003E”کچھ عرصہ سے ہندستان میں ایک ایسے غیر مانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آ رہے ہیں جس سے لوگ بالکل ناآشنا ہیں پچھے زمانہ میں شاذ و نادر اس خیال کے لوگ کہیں تو ہوں مگر اس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ ان کا نام بھی ابھی تھوڑے ہی دنوں میں سنا ہے۔ اپنے آپ کو اہلحدیث یا محمدی یا موحد کہتے ہیں مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیرمقلد یا وہابی یا لامذہب لیا جاتا ہے“۔(الارشاد الی سبیل الرشاد ص 13)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کا سلسلہ کب اور کہاں سے شروع ہوا؟\u003Cbr \/\u003Eمولانا عبد الرشید\u0026nbsp; غیرمقلد صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E”علماء اہلحدیث کا سلسلہ برصغیر میں ان ( میاں نذیر حسن دہلوی غیرمقلد) سے شروع ہوتا ہے“۔\u003Cbr \/\u003E(چالیس علماء اہلحدیث 28)\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث انگریزوں کا پیدہ کردہ فرقہ ہے:۔\u003Cbr \/\u003Eجناب مولانا محمد حسن صاحب غیرمقلد بٹالوی\u0026nbsp; جنہوں نے اپنے فرقہ کا نام انگریز سے اہلحدیث الارٹ\u0026nbsp; کرویا تھا\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; خود فرماتے ہیں: \"اے حضرات یہ مذہب سے آزادی اور خود سری و خود اجتہادی کی تیز ر ہوا یورپ سے چلی ہے اور ہندستان کے شہر و بستی و کوچہ و گلی میں پھیل گئ ہے۔ جس نے غالباَ َ\u0026nbsp; ہندوؤں کو ہندو اور مسلمانوں کو مسلمان نہیں رہنے دیا۔ حنفی اور شافعی مذہب کا تو پوچھنا ہی کیا\" (اشاعت السنۃ\u0026nbsp; ص٢٥٥)\u003Cbr \/\u003Eاس غیرمقلدیت کی سرپرستی کے لئے ایک زمنی ریاست بھوپال ان کو دی گئی:\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;چنانچہ نواب بھوپال صدیق حسن صاحب تحریر فرماتے ہیں: \"فرمان روایاں بھوپال کو ہمیشہ آزادگی مذہب (غیرمقلدیت) میں کوشش رہی ہے جو خاص منشاء گورنمنٹ انڈیا کا ہے\" (ترجمان وہابیہ ص ٣)\u003Cbr \/\u003Eپھر فرماتے ہیں : ”یہ آزادگی مذہب جدید\u0026nbsp; سے عین مراد انگلشیہ سے ہے\" (ص ٥)۔\u003Cbr \/\u003E”یہ لوگ (غیرمقلدین) اپنے دین میں وہی آزادگی برتتے ہیں جس کا اشتہار بار بار انگریزی سرکار سے جاری ہوا۔ خصوصاََ دربار دہلی سے جو سب درباروں کا سردار ہے“۔)ترجمان وہابیہ ص32)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eہم علماء اہلحدیث اور عوام اہلحدیث کے چند باطل اور گمراہ کن عقائد و نظریات پیش\u0026nbsp; کریں گے\u0026nbsp; اگر کوئی غیرمقلد اپنے کسی عالم کے کسی عقیدے کو ترک کرتا ہے تو وہ ساتھ میں اس عالم\u0026nbsp; کا اور اس کے عقیدے کا حکم بھی لکھے\u0026nbsp; اور اس بات کا اقرار کرے کہ اس کا یہ عالم گمراہ کن عقائد و نظریات کا حامل تھا تاکہ معلوم ہو کہ اس لامذہب فرقے\u0026nbsp; نے کتنے گمراہ لوگ پیدا کئے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے ایک بڑے مولوی زبیر علی زئی صاحب جو کہ اپنے ان علماء کے گند سے جان چھڑانے کیلئے جھوٹ بولتے ہوئے لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eوحید الزمان ، نواب صدیق حسن خان ، نور الحسن ،\u0026nbsp; وغیرہ غیر اہل حدیث اشخاص ہیں۔(١)\u003Cbr \/\u003E(الحدیث فروری 2010 صفحہ نمبر 16)\u003Cbr \/\u003Eلعنت اللہ علی الکاذبین\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلدین کے گھر کی شہادت کہ زبیر علی زئی کذاب تھا اور محدثین\u0026nbsp; کی\u0026nbsp; طرف بھی جھوٹ منسوب کر دیتا تھا۔\u003Cbr \/\u003Eچنانچہ اہل\u0026nbsp; غیرمقلد عالم کفایت اللہ صاحب سنابلی لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E” زبیر علی زئی صاحب اپنے اندر بہت ساری کمیاں رکھتے ہیں مثلا خود ساختہ اصولوں کو بلا جھجک محدثین کا اصول بتلاتے \u003Cbr \/\u003Eہیں بہت سارے مقامات پر محدثین کی باتیں اور عربی عبارتیں صحیح طرح سے سمجھ ہی نہیں پاتے ، اور کہیں محدیث کے موقف کی\u0026nbsp; غلط ترجمانی\u0026nbsp; کرتے ہیں یا بعض محدثین\u0026nbsp; و اہل علم کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن سے وہ بری ہوتی ہیں۔ اور کسی\u0026nbsp; سے بحث کے دوران مغالطہ بازی کی حد کر دیتے ہیں اور فریق مخالف کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں نقل کرتے ہیں یا اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیتے ہیں جو اس کے خواب و خیال میں\u0026nbsp; بھی نہیں ہوتیں۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;(زبیر علی زئی پر رد میں دوسری تحریر ص 2)\u003Cbr \/\u003E(١) محترم علی زئی صاحب کی یہ بوکھلاہٹ انہائی درجہ کی تھی۔ بھائی نعمان اقبال کا ایک جملہ یاد آتا ہے\"باپ کی غلطی کو غلطی تسلیم کرنے والا درست ہوتا ہے، جبکہ باپ کی غلطی پر اُسے باپ تسلیم کرنے سے انکار کرنے والا حرامی ہوتا ہے۔\" حافظ زبیر علی زئی صاحب کے اس شگوفے پر سہ ماہی \"قافلہ حق\" میں قسط وار تحقیقی مقالہ(ڈیٹ ایکسپائر) شائع ہوا\u0026nbsp; تھا۔ ملاحظہ ہو قافلہ حق 22ص\u0026nbsp; ٥٦اور قافلہ حق 23 ص٦١-از مولانا عاطف معاویہ ﷿ (مدیر)\u003Cbr \/\u003Eوحید الزمان صاحب\u003Cbr \/\u003Eجن کو بڑے بڑے علماء نے اپنا امام تسلیم کیا ہے۔ \u003Cbr \/\u003Eخود ایک جگہ غیرمقلدین کے ایک بڑے عالم رئیس ندوی صاحب\u0026nbsp; انہیں امام اہلحدیث قرار دیتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eملاحظہ ہو (سلفی تحقیقی جائزہ ص 635)\u003Cbr \/\u003Eاور یہ کذاب کہتا ہے کہ یہ غیر اہلحدیث اشخاص ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eنواب وحید الزمان صاحب\u0026nbsp; آخری دم تک اہلحدیث رہے۔\u003Cbr \/\u003Eاہل غیرمقلد عالم لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eمرحوم (وحید الزمان) حنبلی یا اہلحدیث تھے اور آخری دم تک اسی موقف پر رہے۔\u003Cbr \/\u003E(ماہنامہ محدث ج 35 جنوری 2003 ص 77)\u003Cbr \/\u003Eنوٹ : معلوم ہو گیا کہ وہ آخری دم تک اہلحدیث ہی تھے اور مولانا صاحب کی حنبلی ہونے والی بات\u0026nbsp; لطیفے سے کم نہیں۔\u003Cbr \/\u003Eوحید الزمان ، نواب صدیق حسن خان ، ثناء اللہ امرتسری صاحب اہلحدیث کے اسلاف تھے۔\u003Cbr \/\u003Eایک اور بڑے مولوی غیرمقلدین کے وحید الزمان ، نواب صدیق حسن خان صاحب ثناء اللہ امرتسری صاحب کے نام لکھ کر آگے لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;بلا شبہ ہمارے اسلاف\u0026nbsp;\u0026nbsp; تھے۔(حدیث اور اہل تقلید ص 162)\u003Cbr \/\u003Eاور آج کا ایک کذاب مولوی\u0026nbsp; زبیر علی زئی نامی کہتا ہے کہ یہ غیراہلحدیث اشخاص تھے۔\u003Cbr \/\u003Eامام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب کی کتاب \"نزل الابرار\"\u0026nbsp; فرقہ اہلحدیث کے نزدیک نہایت مفید کتاب ہے۔\u003Cbr \/\u003Eچنانچہ فرقہ اہلحدیث کے\u0026nbsp; شیخ الحدیث ثناء اللہ مدنی صاحب\u0026nbsp; نزل الابرار کے\u0026nbsp; متعلق لکھتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003E”فی جملہ کتاب نہایت مفید ہے“۔(فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ج 1 ص 493)\u003Cbr \/\u003Eنواب صدیق حسن خان صاحب بھی غیرمقلد ہی تھے۔\u003Cbr \/\u003Eخود نواب صدیق حسن خان صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eان احمقوں نے اتنا بھی خیال نہ کیا کہ میں تو مشہور اہل حدیث ہوں۔(ابکار المنن ص\u0026nbsp; 290)\u003Cbr \/\u003Eآج نواب صدیق حسن خان صاحب زندہ ہوتے تو آپنے شہرت دیکھ لیتے ۔\u003Cbr \/\u003Eیہی ہے علماء اہلحدیث کی کل اوقات جو بھی مرے اس کے گند سے جان چھڑانے کیلئے اسے اپنی جماعت سے خارج قرار دے دو ، یہ اللہ کی طرف سے ان پر خاص غضب ہے۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;غیرمقلدین کے ایک بڑے مولوی مولانا نذیر احمد رحمانی صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eآج اہلحدیث ہی نہیں احناف بھی حضرت نواب صدیق صاحب\u0026nbsp; کا مسلک اہلحدیث ہونا اتنا مشہور اور معروف ہے کہ شاید بہتوں کو تعجب ہو گا کہ اس عنوان پر گفتگو کرنے کی ہم نے ضرورت ہی کیوں محسوس کی۔(١)\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;(اہلحدیث اور سیاست ص 138)\u003Cbr \/\u003Eنور الحسن خان صاحب جو کہ نواب صدیق حسن خان صاحب کے بیٹے تھے\u0026nbsp; نور الحسن صاحب نے اہلحدیث کی فقہ ”عرف الجادی “ نامی کتاب لکھی اور اپنے مسلک کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔\u003Cbr \/\u003Eاور آج کا یہ کذاب مولوی کہتا ہے کہ یہ غیر اہلحدیث اشخاص تھے اور اللہ کا ان پر غضب دیکھئے کہ خود اس کے اپنے ہی جماعت کے کسی دوسری مولوی نے اسکے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جو اس نے دوسرے اپنے بڑے مولویوں کے ساتھ کیا تھا۔\u003Cbr \/\u003Eقرآن و حدیث کے نام پر جمع کئے گئے علماء اہلحدیث کے عقائد و نظریات جماعت اہلحدیث پر حجت ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eڈاکٹر محمد بہاولدین صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E(١)ضرورت یوں\u0026nbsp; محسوس کی کہ کچھ لوگ\u0026nbsp; اپنے باپ کو باپ تسلیم نہیں کر رہے تھے(مدیر)\u003Cbr \/\u003E” بعض عوام کا لانعام گروہ اہل حدیث میں ایسے بھی ہیں جو اہل حدیث کہلانے کے مستحق نہیں۔ ان کو لامذہب ، بدمذہب ، ضال مضل جوکچھ کہو، زیبا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ خود کتاب و سنت کا علم رکھتےہیں نہ اپنے گروہ کے اہل علم کا اتباع کرتے ہیں ۔ کسی سے کوئی حدیث سن کر یا کسی اردو مترجم کتاب میں دیکھ کر نہ صرف اس کے ظاہر ی معنی کے موافق عمل کرنے پر صبر و اکتفا کرتے ہیں۔ بلکہ اس میں اپنی خواہش نفس کے موافق استنباط و اجتہاد بھی شروع کر دیتے ہیں ۔جس\u0026nbsp; میں وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسرے کو بھی گمراہ کرتے ہیں“۔(تاریخ اہلحدیث ص 164) \u003Cbr \/\u003Eپہلے تو یہ تمام عقائد غیرمقلدین پر حجت ہیں کیونکہ یہ لوگ یہی دعوے کرتے ہیں کہ ہماری جماعت صرف قرآن اور حدیث کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کرتی اور\u0026nbsp; یہ تو پھر ان کے\u0026nbsp; بڑے بڑے علماء ہیں ۔ ہاں اگر\u0026nbsp; وہ اپنے دعوے میں جھوٹے تھے تو پھر پہلے اس بات کا اقرار کریں۔\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کو ننگا کرنے والا اصول\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;چنانچہ ایک غیرمقلد عالم لکھتا ہے۔\u003Cbr \/\u003E”کسی گروہ کے عقاےد اس کے علماء اور اکابرین طے کرتے ہیں“۔( کیا علمادیوبند اہلسنت ہیں ص 8)\u003Cbr \/\u003Eاب\u0026nbsp; ہم ان شاء اللہ اس گروہ کے علماٰء اور اکابرین کے عقائد سامنے لاتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 1\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث\u0026nbsp;\u0026nbsp; اللہ\u0026nbsp; کی ذات کو محدود مانتا ہے اور اللہ کیلئے مکان اور جہت کا قائل ہے۔\u003Cbr \/\u003Eملاحظہ فرمائے فرقہ اہلحدیث\u0026nbsp; کے ایک بڑے عالم طالب الرحمٰن\u0026nbsp; صاحب\u0026nbsp;\u0026nbsp; کی ایک ویڈیو کلپ\u003Cbr \/\u003Ehttp:\/\/goo.gl\/jDD6sO\u003Cbr \/\u003Eنزل الابرار جو کہ غیرمقلدین کے لئے فی جملہ نہایت مفید کتاب ہے۔ (فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ص 493) \u003Cbr \/\u003Eمیں\u0026nbsp; لکھا ہے کہ \u003Cbr \/\u003E”وهو في جهة\u0026nbsp; الفوق ، ومكانه العرش“\u003Cbr \/\u003Eوہ (اللہ) اوپر کی جہت میں ہے اور اس کا مکان عرش ہے۔(نزل الابرار ص 3 کتاب الایمان)\u003Cbr \/\u003Eنوٹ : نواب وحید الزمان صاحب کو خود ان کے ایک بڑے جید عالم نے امام اہلحدیث قرار دیا ہے۔ دیکھئے (سلفی تحقیقی جائزہ ص 635)\u003Cbr \/\u003Eاللہ تعالٰی\u0026nbsp; کا کوئی مکان ہے؟\u003Cbr \/\u003Eوقال الإمام الحافظ الفقيه أبو جعفر أحمد بن سلامة الطحاوي الحنفي (321 ھ) في رسالته\u0026nbsp; ★\u003Cbr \/\u003E(متن العقيدة الطحاوية)ما نصه: \"وتعالى أي الله عن الحدود والغايات والأركان والأعضاء والأدوات، لا تحويه الجهات الست كسائر المبتدعات \" اهـ. \u003Cbr \/\u003Eامام الطحاوي الحنفي كبار علماء السلف میں سے ہیں اپنی کتاب (العقيدة الطحاوية) میں یہ اعلان کر رہے کہ\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;”الله تعالی ” مکان و جھت و حدود“ سے پاک ومُنزه ومُبرا ہے“\u0026nbsp; (متن العقيدة الطحاوية صفحہ ۱۵)\u003Cbr \/\u003Eشیخ نظام الدین الهنديؒ اللہ کیلئے مکان\u0026nbsp; کا اثبات کرنے والے کو کافر لکھتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eقال الشيخ نظام الهندي: \"ويكفر بإثبات المكان لله\" (في كتابه الفتاوى الهندية المجلد الثاني صفحه 259)\u003Cbr \/\u003E★قال الإمام محمد بن بدر الدين بن بلبان الدمشقي الحنبليؒ\u0026nbsp; اللہ تعالٰی کی ذات کو ہر مکان میںموجود\u0026nbsp; یا کسی ایک مکان میں ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔ \u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;\"فمن اعتقد أو قال إن الله بذاته في كل مكان أو في مكان فكافر\" (في كتابه مختصر الإفادات ص: 489).\u003Cbr \/\u003E★الشيخ محمود محمد خطاب السبكيؒ اللہ تعالٰی کیلئے جھت کے قائل کو کافر قرار دیتے ہیں \"وقد قال جمع من السلف والخلف: إن من اعتقد أن الله في جهة فهو كافر\".(إتحاف الكائنات)\u003Cbr \/\u003E★الله\u0026nbsp; کیلئے جسم جھت کے قائل پر چاروں آئمہ امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبلؒ کا کفر کا فتویٰ۔\u003Cbr \/\u003E(وفي المنهاج القويم على المقدمة الحضرمية )في الفقه الشافعي لعبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر بافضل الحضرمي: \"واعلم أن القرافي وغيره حكوا عن الشافعي ومالك وأحمد وأبي حنيفة رضي الله عنهم القول بكفر القائلين بالجهة والتجسيم وهم حقيقون بذلك\"اهـ\u003Cbr \/\u003Eومثل ذلك نقل ملا علي القاري (في كتابه المرقاة في شرح المشكاة)\u003Cbr \/\u003E★محدث محمد زاهد بن الحسن الکوثریؒ فرماتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eحيث تواتر ان ابا حنيفة كان يكفر من زعم فياللہ انه متمكن بمكان (تانیب الخطيب ص 101)\u003Cbr \/\u003E”یہ بات امام ابو حنیفہؒ سے تواتر سے ثابت ہے کہ وہ اس شخص کو کافر مانتے تھے جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ کسی مکان میں متمکین ہیں“۔ ( یعنی کسی خاص مکان میں ہی ہیں اور بس)\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر2\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث اللہ تعالٰی کیلئے جسم کے اعضا\u0026nbsp; کے قائل ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے امام اہلحدیث نواب وحید الزمان خان صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eاللہ تعالٰی کے لئے اس کی ذات مقدس کے لائق بلاتشبیہ یہ اعضا ثابت ہیں چہرہ آنکھ ہاتھ مٹھی کلائی درمیانی انگلی کے وسط سے کہنی تک کا حصہ سینہ پہلو کوکھ پاؤں ٹانگ پنڈلی، دونوں بازو(ترجمہ ہدیۃ المہدی ص 27)\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 3\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث اللہ کی صفات متشابہات کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے اور لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ ان متشابہات کے جو ظاہری معنی ہمیں معلوم ہیں وہی اللہ کی بھی مراد ہے لیکن کیفیت اس کی معلوم نہیں۔ \u003Cbr \/\u003Eمحدث امام جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eوَجُمْهُورُ أَهْلِ السُّنَّةِ مِنْهُمُ السَّلَفُ وَأَهْلُ الْحَدِيثِ عَلَى الْإِيمَانِ بِهَا وَتَفْوِيضِ مَعْنَاهَا الْمُرَادِ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلَا نُفَسِّرُهَا مَعَ تَنْزِيهِنَا لَهُ عَنْ حَقِيقَتِهَا.\u003Cbr \/\u003Eترجمہ:جمہور اہل سنت جن میں سلف اور اہلحدیث (محدثین) شامل ہیں ان کا مذہب (نصوص صفات پر) ایمان رکھنا ہے ساتھ اس کے کہ ان کے معنی مراد کو اللہ کی طرف سپرد کر دیا جائے اور ہم ان کی تفسیر نہیں کرتے جبکہ ان کے ظاہری معنی سے اللہ کو پاک قرار دیتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eجبکہ\u0026nbsp; فرقہ سلفیہ کا دعوی ہے\u0026nbsp; کہ نصوص صفات پر ایمان لانے\u0026nbsp; کیلئے صفات\u0026nbsp; متشابہات کے معنی مراد کا معلوم ہونا ضروری ہے۔\u003Cbr \/\u003Eامام سیوطی ؒ کی اس عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اہلحدیث عالم شمس افغانی سلفی جو کہ جامعہ اثریہ بشاور کا بانی ہے\u0026nbsp; لکھتا ہے:\u003Cbr \/\u003Eهذا النص اولا صريح في التفويض المبدع المتقول علي السلف من جانب اهل الجهل والتجهيل والتعطيل وهم المبتدعة الخلف\u003Cbr \/\u003Eوثانياً قوله : مع تنزيھنا لهو عن حقيقتها ، صارخ بالتعطيل صراخ\u0026nbsp; ثكالي الجهمية\u003Cbr \/\u003Eترجمہ:میں کہتا ہوں یہ عبارت پہلے تو اس تفویض میں صریح ہے جو کہ جھوٹے طور پر سلف کی طرف منسوب کیا گیا ہے (نعوذ باللہ) کہ اہل جہل تجہیل اور اہل تعطیل کی طرف سے جو کہ متاخرین بدعتی ہیں دوسرا یہ کہ امام سیوطی (رحمہ اللہ) کی یہ عبارت کہ ہم ان کے ظاہری حقیقی معنی سے اللہ کو\u0026nbsp; پاک قرار دیتے ہیں واضح طور پر تعطیل فریاد کر رہی ہے ان جہمی عورتوں کی فریاد کی طرح جو بچوں سے محروم ہو گئی ہوں۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;(والعیاذ باللہ)\u003Cbr \/\u003E(عداء الماتریدية للقعيدة السلفية قوله 28)\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 3\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے عقیدہ کے مطابق اللہ کی صفات متاشابہات پر ایمان لانے کیلئے ضروری ہے اللہ کی مراد کا بھی علم ہو جیسے صفات غیر متشابہات کے متعلق\u0026nbsp; ہوتا ہے۔\u003Cbr \/\u003Eاللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ (آل عمران آیت 7)\u003Cbr \/\u003E\"وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں محکم (یعنی انکے معنیٰ واضح ہیں) وہ اصل ہیں کتاب کی اور دوسری ہیں متشابہ( یعنی جنکے معنیٰ\u0026nbsp; معین نہیں) سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے اور مضبوط علم والے کہتےہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے۔\"\u003Cbr \/\u003Eہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کی غیر متشابہات صفات بھی ہیں جیسے علم ، حیات ، قدرت ، سمع ، بصر وغیرہ\u003Cbr \/\u003Eاب ہم اور آپ دونوں ان کے متعلق یہی کہتے ہیں کہ اللہ کا علم ہے لیکن ہمارے علم کی طرح نہیں اللہ کی حیات ہے لیکن ہماری حیات کی طرح نہیں۔\u003Cbr \/\u003Eیہ صفات تو غیر متشا بہات تھیں۔\u003Cbr \/\u003Eاب جو متشابہات ہیں جیسے\u0026nbsp;\u0026nbsp; ید ، قدم ، وجہ ، استوی علی العرش ، نزول الی سماء\u003Cbr \/\u003Eان صفات کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ\u0026nbsp; ہم نہیں جانتے کہ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسے حق جانتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جب تک مراد معلوم نہیں ہو گی تب تک ایمان نہیں لایا جاسکتا۔\u003Cbr \/\u003Eجب کہ نام نہاد ان صفات\u0026nbsp; متشابہات کے متعلق بھی وہی بات کہتے ہیں جو آپ غیر متشابہات صفات کے متعلق کہتے ہیں اللہ کا\u0026nbsp; ید (ہاتھ) وجہ (چہرہ) استوی علی العرش سے جو اللہ کی مراد ہے وہ آپ کو معلوم\u0026nbsp; ہے جیسا غیر متشابہات صفات کی مراد معلوم ہے اور کیسے ہے اس کی کیفیت کیا ہے وہ آپ کو معلوم نہیں جیسا\u0026nbsp; کہ غیر متشابہات صفات کی معلوم نہیں۔\u003Cbr \/\u003Eاب انہوں نے صفات متشابہات اور غیر متشابہات کا بلکل فرق ہی مٹا دیا اور دونوں کیلئے ایک ہی ضابطہ مقرر کر دیا اگر صفات متشابہات اور غیر متشابہات ایک ہی ہیں تو ان کی تقسیم کیوں کی گئی اور اگر\u0026nbsp; ان متشابہات کو بھی غیر متشابہات کی طرح رکھنا تھا تو\u0026nbsp; اللہ نے ایسا کیوں فرمایا کہ اس قرآن میں متشابہات بھی موجود ہیں؟\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر4\u003Cbr \/\u003Eخدا جس صورت میں چاہے ظاہر ہو سکتا ہے۔\u003Cbr \/\u003Eامام اہلحدیث نواب وحید الزمان خان صاحب خدا کی صورت کا عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eوہ جس صورت میں چاہے ظاہر ہو (ترجمہ ہدیۃ المہدی ص 26)\u003Cbr \/\u003Eمعاذ اللہ لوگوں کے عقائد کو خراب کرنے کیلئے لوگوں کے ذہنوں میں\u0026nbsp; خدا کی صورت کا تصور بنایا جا رہا ہے جبکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے\u003Cbr \/\u003Eليس كمثله شيء\u003Cbr \/\u003Eوہ کسی شے کی مثل نہیں۔ (الشوری 11)\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر5\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے نزدیک بیس رکعت تراویح بدعت ہے۔\u003Cbr \/\u003Eلکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E”بیس رکعت تراویح پڑھنا سنت رسول نہیں بلکہ بدعت ہے“۔ (مذہب حنفی کا دین اسلام سے اختلاف ص 69)\u003Cbr \/\u003Eالعیاذباللہ\u003Cbr \/\u003Eبیس رکعت تراویح کب سے ہو رہی ہے؟\u003Cbr \/\u003Eبیس رکعت تراویح صحابہ کرام اور تابعین کے پاک زمانے سے چلی آرہی ہیں۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «كُنَّا نَقُومُ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرِ»\u003Cbr \/\u003Eالسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا\u003Cbr \/\u003Eہم لوگ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحا بہ رضی اللہ عنہم ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;20 رکعت اور تین\u0026nbsp; وتر پڑھا کرتے تھے۔( معرفة السنن والآثار ج 4 ص 42 : صحیح)\u003Cbr \/\u003Eأخبرنَا أَبُو عبد الله مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد الله بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ أُبَيًّا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يَصُومُونَ النَّهَار وَلَا يحسنون أَن (يقرؤا) فَلَوْ قَرَأْتَ الْقُرْآنَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا (شَيْءٌ) لَمْ يَكُنْ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَكِنَّهُ أَحْسَنُ فَصَلَّى بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَة\u003Cbr \/\u003Eترجمہ:…”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں لوگوں کو رات کے وقت نماز پڑھایا کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: لوگ دن کو روزہ رکھتے ہیں، مگر خوب اچھا پڑھنا نہیں جانتے، پس کاش! تم رات میں ان کو قرآن سناتے۔ اُبیّ نے عرض کیا: یا امیرالموٴمنین! یہ ایک ایسی چیز ہے جو پہلے نہیں ہوئی۔ فرمایا: یہ تو مجھے معلوم ہے، لیکن یہ اچھی چیز ہے۔ چنانچہ اُبیّ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو 20 رکعتیں پڑھائیں۔( الأحاديث المختارة ج 3 ص 367 : صحیح)\u003Cbr \/\u003Eأَبُو الخضيب قَالَ يحيى بْن مُوسَى قَالَ نا جَعْفَر بْن عون سَمِعَ أبا الخضيب الجعفِي كَانَ سويد بْن غفلة يؤمنا فِي رمضان عشرين ركعة.\u003Cbr \/\u003Eترجمہ:…”ابوالخصیب کہتے ہیں کہ: سوید بن غفلہ ہمیں رمضان میں بیس ( 20 ) رکعتیں پڑھا تے تھے۔”\u003Cbr \/\u003E(التاريخ الكبير ج 9 ص 28)\u003Cbr \/\u003Eحضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کا شمار کبار تابعین میں ہے، انہوں نے زمانہٴ جاہلیت پایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اسلام لائے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کی، کیونکہ مدینہ طیبہ اس دن پہنچے جس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہوئی، اس لئے صحابیت کے شرف سے مشرف نہ ہوسکے، بعد میں کوفہ میں رہائش اختیار کی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے خاص اصحاب میں تھے، ۸۰ھ میں ایک سو تیس برس کی عمر میں انتقال ہوا۔(تقریب التهذيب ج 1 ص 341)\u003Cbr \/\u003Eاگر یہ بدعت ہے تو یہ بدعت شروع سے\u0026nbsp; آج تک حرم اور مسجد نبوی میں جاری ہے۔\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 6\u003Cbr \/\u003Eفرقہ\u0026nbsp; اہلحدیث کے امام الہند محمد جونا گڑھی لکھتا ہے کہ :\u003Cbr \/\u003Eحضرت عمرؓ کی سمجھ معتبر نہ تھی (شمع محمدی ص 22)\u003Cbr \/\u003Eاور حضرت عمرؓ کی سمجھ کے معتبر نہ ہونے پر دلائل بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسے دلائل جس سے کل کو یہی لوگ کہہ سکتے ہیں کہ معاذ اللہ نبیﷺ کی سمجھ بھی معتبر نہیں۔\u003Cbr \/\u003Eالعیاذ باللہ جس عمرؓ کے متعلق نبیﷺ فرماتے ہیں\u003Cbr \/\u003E«لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ» \u003Cbr \/\u003Eاگر میرے بعد کوئی نبی ہوتے تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتے۔(سنن الترمذي ج 5 ص 619)\u003Cbr \/\u003Eان عمرؓ کے متعلق یہ رافضی کہتا ہے کہ ان کی سمجھ معتبر نہ تھی\u003Cbr \/\u003Eآخر ایسا کہہ کر یہ لوگوں\u0026nbsp; کو کیا\u0026nbsp;\u0026nbsp; سبق دینا چاہتے ہیں؟\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 7\u003Cbr \/\u003Eقربانی میں مرزئی بھی شریک ہو سکتا ہے۔\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلد عالم محمد علی جانباز صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E”باقی رہی مرزائی کی شرکت تو اس کے متعلق بھی حرام کا فتوی نہیں لگا سکتے“۔(فتاویٰ علمائے حدیث ج 13 ص 89)\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 8\u003Cbr \/\u003Eامام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی فرض ہے اور\u003Cbr \/\u003Eامام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے والے کی کوئی نماز نہیں ہوتی وہ بے نمازی ہے۔\u003Cbr \/\u003Eالعیاذ باللہ\u003Cbr \/\u003Eمفتی عبد الستار صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E”فاتحہ ہر ایک مقتدی و منفرد و امام پر واجب ہے اور اس کے ترک سے بالکل نماز نہیں“۔(فتاویٰ ستاریہ ج 1 ص 54)\u003Cbr \/\u003Eفرقہ اہلحدیث کے شیخ الکل میاں نذیر حسن دہلوی صاحب لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003E”فاتحہ خلف الامام پڑھنا فرض ہے بغیر فاتحہ پڑھے ہوئے نماز نہیں ہوتی“۔(فتاویٰ نذیریہ ج 1 ص 398)\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;محب اللہ شاہ راشدی صاحب لکھتے ہیں\u003Cbr \/\u003E”سورۃ فاتحہ کے سوائے کوئی بھی نماز ہرگز نہیں ہو گی۔ صرف ایک رکعت میں بھی نہیں پڑھی تو اس کی وہ رکعت نہیں ہوئی\u0026nbsp; وہ نماز خواہ اکیلے پڑھے یا پڑھنے والا امام ہو یا مقتدی“۔(مقالات راشدیہ ص 67)\u003Cbr \/\u003Eیہ الگ بات ہے کہ ان کے اس مسئلہ کی ایک بھی صحیح صریح مرفوع حدیث دنیا میں موجود نہیں۔\u003Cbr \/\u003Eان کی بنیادی 2 ہی دلیلیں ہیں\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;ایک صحیح بخاری سے \u003Cbr \/\u003Eفاتحہ کے بغیر نماز نہیں۔۔۔ الخ\u003Cbr \/\u003Eجواب:\u003Cbr \/\u003Eیہی حدیث صحیح مسلم میں بھی موجود ہے اور امام مسلمؒ نے اس کے بعد سند نقل کرکے اس میں اضافہ بھی نقل کیا ہے اور پوری حدیث یوں ہے۔\u003Cbr \/\u003E37 - (394) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ، الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ مِنْ بِئْرِهِمْ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ» [ص:296] وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ فَصَاعِدًا\u003Cbr \/\u003E(صحیح مسلم ج 1 ص 295)\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;نبی کریمﷺ فرماتے ہیں جو سورۃ فاتحہ اور کچھ زائد قرآن نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَنْ صَلَّی رَکْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَکُونَ وَرَائَ الْإِمَامِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ(جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 301:صحیح )\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں جس نے ایک رکعت بھی سورت فاتحہ کے بغیر پڑھی گویا کہ اس نے نماز ہی نہیں پڑھی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔\u003Cbr \/\u003Eغیرمقلدین کی دوسری اور آخری مرفوع\u0026nbsp;\u0026nbsp; دلیل حضرت عبادہ بن صامتؓ\u0026nbsp;\u0026nbsp; سے ہے جس میں ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہو گی ۔۔۔ الخ\u003Cbr \/\u003Eیہی غیرمقلدین\u0026nbsp; کی اس مسئلہ میں اکلوتی دلیل ہے جسے خؤد ان کے\u0026nbsp; محدث البانی صاحب نے ضعیف قرار دیا ہے۔\u003Cbr \/\u003E(سنن ابی داؤد ص 144)\u003Cbr \/\u003Eیہی انتہائی ضعیف حدیث ان کا ہر\u0026nbsp; عامی جاہل اور عالم جاہل لئے گومتا ہے\u0026nbsp; تمام امت کی نماز کو باطل قرار دینے کیلئے۔\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 9\u003Cbr \/\u003Eمرزئی اسلامی فرقہ ہے۔(١)\u003Cbr \/\u003Eثناء اللہ امرتسری صاحب نے مرزئیوں کو اسلامی فرقوں میں شمار کیا ہے۔ دیکھئے (ثنائی پاکٹ بک ص 55)\u003Cbr \/\u003Eعقیدہ نمبر 10\u003Cbr \/\u003Eاجماع حجت شرعیہ نہیں۔\u003Cbr \/\u003Eویسے تو تمام غیرمقلدین اجماع امت کے منکر ہیں چاہے عملاً ہوں یا قولاً لیکن ہم ان کے بڑے\u0026nbsp; مولوی سے دکھاتے ہیں\u003Cbr \/\u003Eحافظ عبد المننان نور پوری صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eاجماع صحابہ ؓ اور اجماع ائمہ مجتہد کا دین میں حجت ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔ (مکالمات نور پوری ص 85)\u003Cbr \/\u003Eلعنت اللہ علی الکاذبین\u003Cbr \/\u003E(١)\u0026nbsp; جناب زبیر علی زئی اگر موجود ہوتے تو شاید کہتے \" یہ بھی غیر اہلِ حدیث اشخاص میں سے ہیں\"(مدیر)\u003Cbr \/\u003Eاللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتے ہیں\u003Cbr \/\u003Eوَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا \u003Cbr \/\u003E(سورۃ نساء آیت ١١٥) \u003Cbr \/\u003E\"اور جو کوئی مخالفت کرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کہ کھل چکی اس پرسیدھی راہ اور چلے سب مسلمانوں کے راستہ کے خلاف تو ہم حوالہ کریں گے اس کو وہی طرف جو اس نے اختیار کی اور ڈالیں گے ہم اس کو دوزخ میں اور وہ بہت بری جگہ پہنچا\"\u003Cbr \/\u003Eیہ اجماع\u0026nbsp; کی حجیت نہیں تو اور کیا ہے اور یہ\u0026nbsp; سب سے افضل ہستیاں صحابہ اور ائمہ مجتہدین کے اجماع کا\u0026nbsp; انکار کر رہا ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(جاری)\u003Cbr \/\u003E٭٭٭\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/3441947210928554529\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_21.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/3441947210928554529"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/3441947210928554529"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_21.html","title":"عقائد علماء اہلحدیث"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});