// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-6490621254269072351"},"published":{"$t":"2017-09-13T21:54:00.000+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T21:54:04.410+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد غیر مقلدیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف3"}],"title":{"type":"text","$t":"جھوٹے اہل حدیث۔۔۔تیسری اور آخری قسط"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cb\u003Eمفتی آرزومند سعد ﷾\u003C\/b\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"direction: rtl; text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجھوٹ نمبر ٨:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eابو اقبال سلفی اپنی کتاب مذہب حنفی کا دین اسلام سے اختلاف نامی کتاب میں لکھتا ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eحنفیہ سفر کے رخصت والی آیات کو نہیں مانتے۔ص ۲۳۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالجواب:یہ بھی اسکا صریح جھوٹ ہے۔فقہ حنفی کے تمام کتابوں میں یہ مسئلہ درج ہے کہ مسافر کے لئے نماز قصر ہے اور روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے۔فقہ حنفی کے ہر کتاب میں اس کے لئے الگ باب قائم ہے۔مثلا کنز الحقائق کی شرح البحر الرائق میں ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالبحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول - (5 \/ 82)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eبَابُ الْمُسَافِرِ ) أَيْ بَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِ ۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس طرح ہر کتاب میں یہ باب قائم ہے۔لیکن تعصب اور ضد میں آکر اس غیر مقلد نے احناف پر اتنا بڑا جھوٹ بول دیا کہ ایک عام آدمی بھی اسکے جھوٹ کو جان سکتا ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجھوٹ نمبر ٩:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eص ۳۶ پر ایک اور جھوٹ لکھا ہے کہ رفع الیدین کو نقل کرنے والے پچاس صحابہ ؓ ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالجواب: یہ بھی صریح جھوٹ ہے جو انکے بڑوں سے متواتر چلا آرہا ہے۔غیر مقلدین کے لئے ہمارا کھلا چیلنج ہے کہ آپ پچاس کے بجائے صرف پچیس صحابہ کرام ؓ سے اپنی رفع یدین ثابت کردیں ۔یعنی چار رکعت والی نماز میں دس جگہ ہمیشہ کرنے اور نہ اٹھارہ جگہ نہ کرنے کی ۔ہم ان کو فی \u0026nbsp;صحیح روایت انعام دینے کو تیار ہیں ۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجھوٹ نمبر ١٠:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eص ۳۷ پر لکھا ہے کہ احناف آمین کی احادیث کونہیں مانتے ۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالجواب: یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔احناف کے اردو ،عربی ،فارسی بلکہ ہر زبان کی نماز سے متعلق کتاب اٹھا کر دیکھا جا سکتاہے کہ احناف کے نزدیک آمین کی کیا حیثیت ہے ۔ایک ان پڑھ شخص بھی دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ یہ اللہ کا بندہ کتنا جھوٹ بولتا ہے ۔(فلعنۃ اللہ علی الکاذبین)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاسی صفحہ پر لکھا ہے کہ صحیح احادیث سے آمین کا بالجہر کہنا ثابت ہے ۔حالانکہ صفت صلوۃ النبی ﷺ میں غیر مقلدین کے شیخ البانی نے لکھا ہے کہ مقتدی کے اونچی آواز میں آمین کہنے پر کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجھوٹ نمبر ١١:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eص ۴۴ پر تو حد کردی ۔کہتا ہے کہ صبح کی نماز کے قائم ہونے کے بعد والی احادیث کو نہ ماننے والا کب مسلمان رہ سکتا ہے ۔لیکن اسلام کے علاوہ ایک حنفی مذہب ہے جو اسکی اجازت دیتا ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالجواب: قارئین کرام اس جھوٹ پر تبصرہ کرنے کے بجائے آپ ان احادیث کا مشاہدہ کریں جن میں صحابہ کرام ؓ سے نماز صبح کے قائم ہوتے ہوئے صبح کی سنتیں پڑھنا منقول ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے صبح کی جماعت کھڑی ہونے کے بعد دورکعت سنت پڑھی(مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۲ ص ۲۵۱)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن ابی موسی ؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ امام صبح کی نماز پڑھا رہے تھے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ستونے کے پاس کھڑے ہوکر اس کو ادا کیا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭حضرت ابو درداء ؓ کا عمل منقول ہے کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے \u0026nbsp;دیکھا کہ لوگو نما ز صبح باجماعت ادا ء کر رہے ہیں پھر بھی آپ نے صبح کی سنتیں پڑھ کر جماعت میں شرکت کی ۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم عمر بن الخطاب ؓ کے پاس آتے اس حال میں کہ ہم نے صبح کی سنتیں اداء نہ کی ہوتی تو ہم مسجد کے آخر میں سنتیں پڑھ کر جماعت میں شریک ہوجاتے ۔طحاوی جلد ۱ ص ۲۵۲۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالغرض ابو اقبال صاحب کا یہ کہنا کہ صرف احناف ہی اس کے قائل ہیں یہ نرا جھوٹ ہے اور اس نے اس فتوی کے ذریعہ جن صحابہ کرام ﷢کو دین اسلام سے خارج کردیا ہے اس کا حساب اللہ تعالی خود لے گا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eص ۴۹ پر لکھا ہے کہ احناف جمع بین الصلوتین کی احادیث کو نہیں مانتے ۔٭\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالجواب:یہ بھی اس کا جھوٹ ہے احناف کے ہاں جس سفر یا کسی سخت مجبوری کی وجہ سے جمع صوری کی احادیث پر عمل کرنا جائز ہے۔جسکا طریقہ احادیث کیا کتابوں میں اس طرح منقول ہے کہ ظہر کو موخر کرکے اخیر وقت میں اداء کیا جائے اور عصر کو مقدم کرکے ابتدائے وقت میں ادا کیا جائے اس طرح مغرب کی نماز کو موخر کرکے اخیر وقت میں ادا کیا جائے اور عشاء کی نماز کو مقدم کرکے اول وقت میں پڑھا جائے ۔اس کو جمع صوری کہا جاتا ہے اور اسکا انکار کسی حنفی نے نہیں کیا ۔چنانچہ فقہ حنفی کے معتبر کتاب تبیین الحقائق میں ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eتبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (1 \/ 423)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاحْتَرَزَ بِقَوْلِهِ فِي وَقْتٍ عَنْ الْجَمْعِ بَيْنَهُمَا فِعْلًا بِأَنْ صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا فِي وَقْتِهَا بِأَنْ يُصَلِّيَ الْأُولَى فِي آخِرِ وَقْتِهَا وَالثَّانِيَةَ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا فَإِنَّهُ جَمْعٌ فِي حَقِّ الْفِعْلِ\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس طرح فتاوی شامی میں ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eحاشية رد المختار على الدر المختار - (1 \/ 382)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;ما رواه مما يدل على التأخير محمول على الجمع فعلا لا وقتا أي فعل الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقته\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eناظرین احناف کا مسئلہ بالکل وہی ہے جو حدیث میں ہے ۔اس لئے یہ صاف جھوٹ ہے کہ احناف ان احادیث کو نہیں مانتے ،البتہ آج کل کے غیر مقلدین جو جمع حقیقی کرتے ہیں کہ ظہر کے وقت میں عصر اور ظہر دونوں پڑھ لیتے ہیں اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھ لیتے ہیں یہ شیعہ کا مسلک ہے ۔اہل سنت میں سے کوئی بھی اسکا قائل نہیں ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eص ۵۱ پر لکھا ہے کہ احناف سبحان اللہ والی احادیث کو نہیں مانتے ۔٭\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالجواب :احناف کے فقہ کے معتبر کتابوں میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ جب امام سے کوئی غلطی ہوجائے تو مقتدی سبحان اللہ کہہ کر امام کو لقمہ دے سکتا ہے۔مثلا عنایہ ،مبسوط اور بدائع یہ مسئلہ اس طرح ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالعناية شرح الهداية - (2 \/ 142)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eإذَا نَابَتْ أَحَدَكُمْ نَائِبَةٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّ التَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقَ لِلنِّسَاءِ\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالمبسوط للسرخسي ـ مشكول - (2 \/ 74)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eوَإِذَا مَرَّتْ الْخَادِمُ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ أَوْمَأَ بِيَدِهِ لِيَصْرِفَهَا لَمْ تُقْطَعْ صَلَاتُهُ ) لِمَا رَوَيْنَا { أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَارَ عَلَى زَيْنَبَ فَلَمْ تَقِفْ وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا نَابَتْ أَحَدَكُمْ نَائِبَةٌ فَلْيُسَبِّحْ ، فَإِنَّ التَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقَ لِلنِّسَاءِ\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eبدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (2 \/ 445)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eوَلَوْ دَفَعَ الْمَارَّ بِالتَّسْبِيحِ أَوْ بِالْإِشَارَةِ أَوْ أَخَذَ طَرَفَ ثَوْبِهِ مِنْ غَيْرِ مَشْيٍ وَلَا عِلَاجٍ لَا تَفْسُدُ صَلَاتُهُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ { فَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ } ، وَقَوْلِهِ { إذَا نَابَتْ أَحَدَكُمْ نَائِبَةٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّ التَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقَ لِلنِّسَاءِ }\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;ناظریں کرام یہ فقہ حنفی کا مسئلہ بالکل واضح ہے او ر احادیث کے مطابق ہے لیکن کیا کیا جائے تعصب کا کہ ابو الاقبال سلفی صاحب اس جھوٹ کو احناف کے ماتھے تھوپ کر لعنت کے مستحق بن گئے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eابو اقبال صاحب اور کے ہمنوا جماعت کا یہ شیوہ رہا ہے کہ جھوٹ بول کر اپنے مسلک کو فروغ دینا چاہتے ہیں ہم عوام سے یہی عرض کرتے ہیں کہ جو شخص ۱۰۰ صفحات کے ایک رسالہ میں اتنے جھوٹ بولتا ہے اس پر دین کے بارے میں اعتماد کرنا نادانی ہے ۔اللہ تعالی امت کو اس فتنہ کے شرور سے محفوظ کرے ۔آمین۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭٭٭\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/6490621254269072351\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2017\/09\/blog-post_36.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/6490621254269072351"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/6490621254269072351"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2017\/09\/blog-post_36.html","title":"جھوٹے اہل حدیث۔۔۔تیسری اور آخری قسط"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});