// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-6526321824555579938"},"published":{"$t":"2015-10-19T15:59:00.000+05:30"},"updated":{"$t":"2015-10-19T15:59:02.590+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"قرآنِ مقدس-تذکیر"}],"title":{"type":"text","$t":"تبلیغ-فریضہٴ عامہ یا خاصہ؟"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"سربکف\" میگزین 1-جولائی،اگست 2015\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cspan style=\"color: #38761d;\"\u003Eحکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ\u003C\/span\u003E\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eوَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; ١٠٤؁\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضرور ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہونگے۔ (ترجمہ بیان القرآن- سورہ ٣آلِ عمران، آیت ١٠٤)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیعنی ایک جماعت تم میں سے ایسی ہونی چاہیے جو داعی الی الخیر ہو۔ یعنی جو دین کی بقا میں کوشاں ہو اور شرعی امور اور دینی معاملات کا انتظام کرے اور امۃ منکم اس لئے فرمایا کہ اگر سب یہی کرنے لگیں تو کھیتی کون کرے گا اور نوکری تجارت وغیرہ کون کرے گا۔ یہ شریعت کا انتظام ہے کہ زراعت تجارت وغیرہ کو فرض کفایہ کیا ہے۔ اگر سب چھوڑ دیں تو سب کے سب گنہگار ہوں کیونکہ مجموعہ کو اسباب معیشت کی بھی حاجت ہے ورنہ سب ہلاک ہوجائیں اور نہ دنیا رہے نہ دین اور جو لوگ تارک اسباب ہیں ان کو جمعیت وتوکل بھی مباشرین اسباب ہی کی بدولت ہے گو ان احاد کی تعیین نہیں مگر مجموعہ میں ایسے احاد کا ہونا ضروری ہے خصوصاً ہم جیسے ضعفاء کے لئے تو اگر ظاہری سامان نہ ہو تو تشویش سے دین ہی میں خلل پڑنے لگے۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eحاصل یہ ہے کہ دنیا سے سب کو تعلق ہے کوئی سگا ہے کوئی سوتیلا اور مطلق مذموم بھی نہیں کیونکہ دنیا مطلقاً بری نہیں ہے بلکہ دنیا جو معصیت ہے صرف وہ بری ہے۔ اس لئے باری تعالیٰ نے ولتکن فرمایا کونوا نہیں فرمایا۔ جیسا کہ اوپر واعتصموا بحبل اللہ جمیعا فرمایا۔ اس لئے مقصود تو یہ کہ دین تو سب میں ہو لیکن ایک ایسی ہی جماعت ہو جو مولویت ہی کا کام کریں اور کچھ دوسرا کام نہ کریں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eوَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eلفظ منکم سے معلوم ہوتا ہے کہ سب اس کام کے لائق نہیں ہیں اور یہ تجربہ ہے کہ جو لوگ اس کے اہل نہیں سمجھتے جاتے۔ ان کا کہنا لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے اور جو لوگ اہل ہیں ان کا کہنا چنداں گران نہیں گزرتا۔ نیز علماء جو کچھ کہتے ہیں تہذیب سے اور شائستگی سے کہتے ہیں۔ غرض یہ طعن وتشنیع کا شیوہ مناسب نہیں ہے اپنے کام میں لگے رہو اگر کوئی برا ہو تم اس پر ترحم کرو اور اس کے لئے دعا کرو۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eتبلیغ کا ایک درجہ سب کے ذمہ ہے\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاللہ تعالیٰ نے ایک جگہ تو یوں فرمایا : ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر کہ اے مسلمانوں ! تمہارے اندر ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے۔ یہاں تو دعوت کو ایک جماعت کے ساتھ خاص فرمایا اور اس کے بعد ارشاد ہے :\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eکنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eکہ اے مسلمانو ! تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے ظاہر کئے گئے ہو۔ تم نیک کاموں کا حکم کرتے ہو، برے کاموں سے روکتے ہو۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہاں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو سب کے لئے عام کیا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ اس بالمعروف ونہی عن المنکر کا ایک درجہ ایسا بھی ہے جو سب کے ذمہ ہے اور علماء کے ساتھ خاص نہیں۔ (آداب تبلیغ)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاہل علم کی شان\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجن کو اس آیت میں فرماتے ہیں :\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eوَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; ١٠٤؁\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں) اس آیت میں یدعون (بلاویں) کا مفعول ذکر نہیں فرمایا یہ ذکر نہ کرنا مشیر (اشارہ کرنے والا) ہے اس کے عموم کی طرف مطلب یہ ہے کہ یدعون الناس یعنی عام لوگوں کو خیرکی طرف بلاویں تو یہ شان اہل علم کی ہے یعنی ان لوگوں کی جنہوں نے سب علوم کا بقدر ضرورت احاطہ کیا اور فرض یہ بھی ہے مگر فرض علی الکفایہ ہے۔ کہ امت میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہونا چاہئیں کہ جن سے عوام امت کا کام چلے اسی لئے محققین نے من کو اس آیت سے تبعیضہ کہا ہے یعنی تم میں بعض ایسے ہونے چاہئیں۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eدعوت عامہ کے اقسام\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہ ایک خاص جماعت کا کام ہے ساری امت کا کام نہیں ہے اور دعوت الی الخیر اور دعوت الی اللہ کے ایک ہی معنی ہیں سو اس میں تو اس کو صرف ایک خاص جماعت کا کام فرمایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر ارشاد ہے :\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eقل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی، وسبحن اللہ وما انا من المشرکین۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eکہ فرمادیجئے یہ میرا راستہ ہے بلاتا ہوں میں اللہ کی طرف بصیرت پر ہو کر میں اور جتنے میرے متبع ہیں اور حق تعالیٰ تمام برائیوں سے پاک ہیں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ دیکھئے یہاں پر مطلقا ومن اتبعنی ہے یعنی جتنے میرے متبع ہیں سب حق کی طرف بلاتے ہیں اس میں عموم ہے۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس خصوص اور اس عموم سے معلوم ہوا کہ اس کے درجات ومراتب ہیں ایک درجہ کا پہلی آیت میں ذکر ہے اور ایک درجہ کا دوسری آیت میں اور وہ درجات دو ہیں ایک دعوت عامہ ایک دعوت خاص پھر دعوت عامہ کی دو قسمیں ہیں ایک دعوت حقیقیہ اور ایک دعوت حکمیہ۔ دعوت حکیمہ وہ جو کہ معین ہو دعوت حقیقیہ میں میں نے آسانی کے لئے یہ لقب تجویز کئے ہیں ان میں اصل دو ہی قسمیں ہیں دعوت الی اللہ کی۔ دعوت عامہ، دعوت خاصہ۔ اور ایک قسم معین ہے دعوت عامہ کی۔ تو اسی طرح یہ کل تین قسمیں ہوگئیں۔ تو ہر شخص کے متعلق جدا جدا مرتبہ کے لحاظ سے ایک ایک دعوت ہوگی۔ چنانچہ دعوت خاصہ ہر مسلمان کے ذمہ ہے اور وہ وہ ہے جس میں خطاب خاص ہوانپے اہل وعیال کو، دوست احباب کو اور جہاں جہاں قدرت ہو اور خود اپنے نفس کو بھی۔ چنانچہ حدیث میں ہے کلکم راع وکلکم مسئول۔ کہ تم میں ہر ایک راعی ونگران ہے اور تم میں ہر ایک (قیامت میں) پوچھا جائے گا کہ رعیت کے ساتھ کیا کیا۔ یہ دعوت خاصہ ہے اور قرآن میں بھی ذکر ہے۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو عذاب دوزخ سے بچاؤ۔ یہ بھی دعوت خاصہ ہے کہ اپنے اہل وعیال کو عذاب دوزخ سے بچانے کا حکم ہے سو اس کا تو ہر شخص کو اپنے گھر میں اور تعلقات کے محل میں اہتمام کرنا چاہیے۔\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eعمومی دعوت میں تخصیص کا راز\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eایک اور دعوت عام ہے جس میں خطاب عام ہو یہ کام ہے صرف مقتداؤں کا۔ جیسا کہ ولتکن منکم امۃ الایہ سے معلوم ہورہا ہے اور اس تخصیص میں ایک راز ہے۔ وہ یہ کہ دعوت عامہ (یعنی وعظ) اس وقت مؤثر ہوتی ہے کہ جب مخاطب کے قلب میں داعی کی وقعت ہو۔ بلکہ مطلق دعوت میں بھی اگر داعی کی وقعت نہ ہو تو وہ مؤثر نہیں ہوتی تو عام دعوت میں عام مخاطبین کے قلب میں داعی کی وقعت ہونی چاہیے اور ظاہر ہے کہ بجز مقتداء کے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو عام لوگوں کے دل پر اثر ڈال سکے اور ایسے لوگ کتنے ہوتے ہیں۔ جو یہ سمجھتے ہوں کہ انظر الی ماقال ولا تنظر الی من قال اور یہ سمجھتے ہوں کہ \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eمردباید کہ گیرد اندر گوش\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eدرنبشت است پند بر دیوار\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(انسان کو چاہیے کہ نصیحت پر عمل کرے۔ وہ نصیحت کی بات خواہ دیوار پر لکھی ہوئی کیوں نہ ہو)(١)\u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(١)اشرف التفاسیر- از مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ، تفسیر سورہ ٣آلِ عمران، آیت ١٠٤، تاریخِ اشاعت غیر مذکور\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/6526321824555579938\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_19.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/6526321824555579938"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/6526321824555579938"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_19.html","title":"تبلیغ-فریضہٴ عامہ یا خاصہ؟"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});