// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-6774611931728762080"},"published":{"$t":"2015-10-19T16:06:00.000+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T16:04:49.907+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد قادیانیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف2"}],"title":{"type":"text","$t":"قادیانیت: مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کے آئینےمیں(دوسری اور آخری قسط)"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"سربکف\" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015 \u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cspan style=\"color: #38761d;\"\u003Eفاروق درویش \u003C\/span\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین\u003Cbr \/\u003Eنمبر١ آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام )خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناء کار اور کسبیعورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ، حاشیہ ص ٧ مصنفہ غلام احمد قادیانی )\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٢ مسیح (علیہ السلام ) کا چال چلن کیا تھا ، ایک کھاؤ پیو ، نہ زاہد ، نہ عابد نہ حق کا پرستار ، متکبر ، خود بین ، خدائی کا دعویٰ کرنے والا ۔ (مکتوبات احمدیہ صفحہ نمبر ٢١ تا ٢٤ جلد ٣)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٣ یورپ کے لوگوںکو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے ۔ (کشتی نوح حاشیہ ص ٧٥ مصنفہ غلام احمد قادیانی )\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٤\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو\u003Cbr \/\u003Eاس سے بہتر غلام احمد ہے\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;(دافع البلاء ص ٢٠)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٥ عیسیٰ کو گالی دینے ، بد زبانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی اور چور بھی تھے ۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ص ٥،٦)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٦ یسوع اسلیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چلن ، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کادعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔ (ست بچن ، حاشیہ ، صفحہ ١٧٢، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی توہین\u003Cbr \/\u003Eپرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت لو ۔ ایک زندہ علی ( مرزا صاحب ) تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علی کرم اللہ وجہہ ) کو تلاش کرتے ہو۔ (ملفوظات احمدیہ ، ١٣١جلد اول )\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eحضرت فاطمہ الزاہرا رضی اللہ تعالی عنہا کی توہین\u003Cbr \/\u003Eحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں \u003Cbr \/\u003E( ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ٩مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eحضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی توہین\u003Cbr \/\u003Eنمبر١ دافع البلاء میں ص ١٣پر مرزا غلام احمد نے لکھا ہے میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بر تر ہوں۔\u003Cbr \/\u003Eنمبر٢ مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ (اعجاز احمدی صفحہ ٦٩)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٣ اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے ۔ (اعجاز احمدی صفحہ ٨١)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٤ کربلا ئیست سیر ہر آنم صد حسین اس در گر یبانم ۔ ۔ ۔ میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے ۔ میرے گریبان میں سو حسین پڑے ہیں ۔ (نزول المسیح ص ٩٩مصنفہ مرزا غلام احمد)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٥ اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے ۔ (دافع البلاء ص ١٣، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٦ تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے...۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔ ( اعجاز احمد ی ص ٨٢، مصنفہ مرزا غلام احمد )\u003Cbr \/\u003Eاس عبارت میں مرزا صاحب نے حضرت حسین کے ذکر کو \"گوہ\" کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eمکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی توہین\u003Cbr \/\u003Eنمبر١ حضرت مسیح موعود نے اسکے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہ آئے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے ۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا ۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔ (مرزا بشیر الدین محمود احمد مندرجہ حقیقت الرؤیا ص ٤٦)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٢ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے یعنی مکہ اور مدینہ اور قادیان کا ۔ (خطبہ الہامیہ ص ٢٠حاشیہ)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eمسلمانوں کی توہین\u003Cbr \/\u003Eنمبر١ کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔ (آئینہ کمالات ص ٥٤٧)\u003Cbr \/\u003Eنمبر٢ جو دشمن میرا مخالف ہے وہ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ہے۔ (نزول المسیح ص ٤، تذکرہ ٢٢٧))\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٣ میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ۔ (نجم الہدیٰ ص ٥٣مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٤ جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔\u003Cbr \/\u003E( انوارالاسلام ص ٣٠مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eاسلام کی مقدس اصطلاحات کا ناجائز استعمال\u003Cbr \/\u003Eنمبر١ ام المومنین کی اصطلاح کا استعمال مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کیلئے کیا جاتا ہے ۔یہ اصطلاح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کیلئے مخصوص ہے۔\u003Cbr \/\u003Eنمبر٢ سیدۃالنساء کی اصطلاح بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی کیلئے استعمال کی جاتی ہے حالانکہ حدیث پاک کی رو سے یہ اصطلاح صرف خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیلئے مخصوص ہے۔\u003Cbr \/\u003Eدین اسلام کی توہین\u003Cbr \/\u003Eقادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی نبوت کے بغیر دین اسلام لعنتی ، شیطانی ، مردہ اور قابل نفرت ہے ۔\u003Cbr \/\u003E(ضمیمہ براہین پنجم ص ١٨٣، ملفوظات ص ١٢٧جلد١)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eتمام مسلمانوں کو کافر قرار دینا\u003Cbr \/\u003Eنمبر١ جو شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا وہ کافر ہے۔ (حقیقت الوحی نمبر ١٦٣، از مرزا غلام احمد قادیانی )\u003Cbr \/\u003Eنمبر٢ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد ) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ (آئینہ صداقت ص ٣٥، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٣ تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا ۔ (محمد علی لاہور قادیانی مباحثہ راولپنڈی ص ٢٤٠)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٤ ہر ایک ایسا شخص جو موسی کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا ،یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (کلمۃ الفصل ص ١١٠ )\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eقرآن مجید کی توہین\u003Cbr \/\u003Eنمبر١ قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن عظیم سخت زبانی کے طریق کے استعمال کر رہا ہے ۔ (ازالہ اوہام ص ٢٨،٢٩)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٢ میں قرآن کی غلطیاں نکالنے آیا ہوں جو تفسیروں کی وجہ سے واقع ہو گئی ہیں ۔ (ازالہ اوہام ص ٣٧١)\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٣ قرآن مجید زمین پرسے اٹھ گیا تھا میں قرآن کو آسمان پر سے لایا ہوں ۔ (ایضاً حاشیہ ض ٣٨٠)\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eمرزا قادیانی کی تقلید میں قرآن ِ حکیم کی توہیں کرنے والے بد بخت مرتد قادیانی جمیل الرحمن کی طرف سے توہین قرآن کا ثبوت دیکھنے کیلئے میرا یہ نوٹ ملاحظہ کیجئے ، ذیل میں لنک دیا جا رھا ھے\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Ehttp:\/\/www.facebook.com\/note.php?note_id=457554438704\u003Cbr \/\u003Eحرمت ِ جہاد سے انکار\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eنمبر١ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔ (صفحہ ١٧ ضمیمہ بہ عنوان گورنمنٹ کی توجہ کے لائق شہادۃ القرآن )\u003Cbr \/\u003Eنمبر ٢\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;( ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ٤١ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)\u003Cbr \/\u003Eپاکستان پر قبضہ کرنے کے ارادے\u003Cbr \/\u003Eبلوچستان کی کل آبادی پانچ لاکھ یا چھ لاکھ ہے ۔زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے پس میں جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگو ں کیلئے یہ عمدہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں ۔ پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنالو تا کہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔ ( مرزا محمود احمد کا بیان مندرجہ الفضل ١٣اگست ١٩٤٨)\u003Cbr \/\u003Eپاکستان سے ازلی و ابدی دشمنی\u003Cbr \/\u003Eاللہ تعالیٰ اس ملک پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیگا ۔ آپ (احمدی) بے فکر رہیں ۔ چند دنوں میں (احمدی )خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو گیا ہے۔\u003Cbr \/\u003E( مرزا طاہر قادیانی خلیفہ چہارم کا سالانہ جلسہ لندن ١٩٨٥)\u003Cbr \/\u003Eاس مضمون کو تحریر کرتے ھوئے مرزا قادیانی اور اس کے تمام پیروکاروں کی کتابوں کے مکمل حوالہ جات ساتھ دیئے گئے ھیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس تحریر میں کسی دروغ گوئی سے کام لیا گیا ہے ... \u003Cbr \/\u003Eخاکسار......... فاروق درویش\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/6774611931728762080\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_71.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/6774611931728762080"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/6774611931728762080"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_71.html","title":"قادیانیت: مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کے آئینےمیں(دوسری اور آخری قسط)"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});