// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-7165818204307220870"},"published":{"$t":"2015-10-19T16:03:00.004+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T16:00:52.859+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"دعوت حق غیر مسلموں میں"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف2"}],"title":{"type":"text","$t":"کم سنی میں حضرت عائشہ کا نکاح تحقیق و تجزیہ"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\"سربکف\" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cspan style=\"color: #38761d;\"\u003E\u003Cbr \/\u003Eحضرت عائشہ صدیقہ ر ضی ا للہ عنہا کا نکاح نبی ا کرم صلى الله عليه وسلم کےسا تھ کم سنی میں ہو ا یعنی 6\/ سا ل کی عمر میں نکاج ا و ر\u003Cbr \/\u003E9\/سا ل کی عمر میں رخصتی ہوئی، ا س سلسلہ میں معاندین ِ اسلام کی طرف سے یہ شکوک و شبہات قائم کئے جاتے ہیں کہ ا س کم سنی کی شادی پیغمبر اسلام صلى الله عليه وسلمکے لئےموزوں اور مناسب تھی؟ چنانچہ ایک یہود ی عالم نے ا نٹرنیٹ پر یہی اعترا ض پیش کیا ہے \u003Cbr \/\u003Eزیر\u0026nbsp; نظر مضمون میں ا سی کا مفصل ومدلل جواب دیاگیا ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eسوال:\n حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا نکاح نبی اکرم ﷺکے ساتھ کم سنی میں \nہوا، بیان کیا جاتاہے کہ ۶\/ سال کی عمر میں نکاح اور ۹\/سال کی عمر میں \nرخصتی ہوئی۔ اس سلسلہ میں معاندین اسلام کی طرف سے یہ شکوک و شبہات قائم \nکئے جاتے ہیں کہ اس کم سنی کی شادی پیغمبر اسلام ﷺکے لئے موزوں اور مناسب \nنہیں تھی۔ چنانچہ ایک یہودی عالم نے انٹرنیٹ پر یہی اعتراض پیش کیا ہے۔ آپ \nاس کا تحقیقی و تفصیلی جواب عنایت فرمائیں تو شکرگذار ہوں گا۔ (فاروق \nعبدالعزیز قریشی رنگ روڈ مہدی پٹنم، حیدرآباد)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجواب: حضرت عائشہ \nصدیقہ-رضی الله عنہا- سے جو حضوراکرم ﷺنے اُن کی کم سنی میں نکاح فرمایا \nاور پھر ان کی والدہ حضرت ام رومان-رضی الله عنہا- (زینب-رضی الله عنہا-) \nنے تین سال بعد ۹\/ سال کی عمر میں رخصتی کردی، اس پر بعض گوشوں سے اعتراضات\n اور شکوک و شبہات نئے نہیں ہیں؛ بلکہ پرانے ہیں، علماء اور محققین نے \nجوابات بھی دئیے ہیں، تاہم ذیل کی سطروں میں ایک ترتیب کے ساتھ جواب دینے \nکی کوشش کی جارہی ہے۔ امید کہ جواب میں تحقیق و تجزیہ کے جو پہلو سامنے \nآئیں گے، اُن سے ذہنی غبار دھل جائے گا اور ذہن کا مطلع بالکل صاف اور واضح\n ہوجائے گا۔ اس لیے مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر تفصیلی جواب لکھنے کی کوشش \nکی جارہی ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; اس میں کوئی شک نہیں کہ کارگاہِ عالم \nکا سارا نظام قانونِ زوجی (Law of Sex) پر مبنی ہے اور کائنات میں جتنی \nچیزیں نظر آرہی ہیں سب اسی قانون کا کرشمہ اور مظہر ہیں۔ (الذاریات:۴۹) یہ \nاور بات ہے کہ مخلوقات کا ہر طبقہ اپنی نوعیت، کیفیت اور فطری مقاصد کے \nلحاظ سے مختلف ہیں لیکن اصل زوجیت ان سب میں وہی ایک ہے۔ البتہ انواعِ \nحیوانات میں انسان کو خاص کرکے یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اس کے زوجین کا تعلق \nمحض شہوانی نہ ہو بلکہ محبت اور انس کا تعلق ہو دل کے لگاؤ اور روحوں کے \nاتصال کا تعلق ہو۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے راز دار اور شریک رنج و راحت ہوں،\n ان کے درمیان ایسی معیت اور دائمی وابستگی ہو جیسی لباس اور جسم میں ہوتی \nہے۔ دونوں صنفوں کا یہی تعلق دراصل انسانی تمدن کی عمارت کا سنگِ بنیاد ہے \nاس ربط و تعلق کے بغیر نہ انسانی تمدن کی تعمیر ممکن ہے اور نہ ہی کسی \nانسانی خاندان کی تنظیم۔ جب یہ قانونِ زوجی خالقِ کائنات کی طرف سے ہے تو \nیہ کبھی صنفی میلان کو کچلنے اور فنا کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ اس سے نفرت \nاور کلی اجتناب کی تعلیم دینے والا بھی نہیں ہوسکتا؛ بلکہ اس میں لازماً \nایسی گنجائش رکھی گئی ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اس اقتضاء کو پورا کرسکے \nحیوانی سرشت کے اقتضاء اور کار خانہٴ قدرت کے مقرر کردہ اصول و طریقہ کو \nجاری رکھنے کے لیے قدرت نے صنفی انتشار کے تمام دروازے مسدود کردئیے،اور \n”نکاح“ کی صورت میں صرف ایک دروازہ کھولا۔ کسی بھی آسمانی مذہب و شریعت نے \nاس کے بغیر مرد و عورت کے باہمی اجتماع کو جائز قرار نہیں دیا۔ پھر اسلامی \nشریعت میں یہاں تک حکم دیاگیا ہے کہ اس فطری ضرورت کو تم پورا کرو، مگر \nمنتشر اور بے ضابطہ تعلقات میں نہیں، چوری چھپے بھی نہیں، کھلے بندوں بے \nحیائی کے طریقے پر بھی نہیں؛ بلکہ باقاعدہ اعلان و اظہار کے ساتھ، تاکہ \nتمہاری سوسائٹی میں یہ بات معلوم اور مسلم ہوجائے کہ فلاں مرد اور عورت ایک\n دوسرے کے ہوچکے ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; نبی کریم ﷺایک ایسی قوم میں \nمبعوث ہوئے تھے، جو تہذیب و تمدن کے ابتدائی درجہ میں تھی آپ ﷺکے سپرد اللہ\n نے صرف یہی کام نہیں کیا تھا کہ اُن کے عقائد وخیالات درست کریں؛ بلکہ یہ \nخدمت بھی آپ ﷺکے سپرد تھی کہ ان کا طرزِ زندگی، بود وباش اور رہن سہن بھی \nٹھیک اور درست کریں۔ ان کو انسان بنائیں، انہیں شائستہ اخلاق، پاکیزہ \nمعاشرت، مہذّب تمدن، نیک معاملات اور عمدہ آداب کی تعلیم دیں، یہ مقصد محض \nوعظ و تلقین اور قیل و قال سے پورا نہیں ہوسکتا تھا، تیس سال کی مختصر مدتِ\n حیات میں ایک پوری قوم کو وحشیت کے بہت نیچے مقام سے اٹھاکر تہذیب کے بلند\n ترین مرتبہ تک پہنچادینا اس طرح ممکن نہ تھاکہ محض مخصوص اوقات میں ان کو \nبلاکر کچھ زبانی ہدایات دیدی جائیں۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ آپ ﷺخود اپنی \nزندگی میں ان کے سامنے انسانیت کا ایک مکمل ترین نمونہ پیش کرتے اور ان کو \nپورا موقع دیتے کہ اس نمونہ کو دیکھیں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق \nبنائیں۔ چنانچہ آپ ﷺنے ایسا ہی کیا۔ یہ آپ ﷺکا انتہائی ایثار تھا کہ آپ ﷺنے\n زندگی کے ہر شعبہ کو قوم کی تعلیم کے لیے عام کردیا۔ اپنی کسی چیز کو بھی \nپرائیویٹ اور مخصوص نہ رکھا۔ حتی کہ ان معاملات کو بھی نہ چھپایا جنھیں \nدنیا میں کوئی شخص عوام کے لئے کھولنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا۔ آپ ﷺنے اتنا \nغیر معمولی ایثار اس لئے کیا تاکہ رہتی دنیا تک کے لئے لوگوں کو بہترین \nنمونہ اور عمدہ نظیر مل سکے۔ اسی اندرونی اور خانگی حالات دنیا کے سامنے \nپیش کرنے کے لئے آپ ﷺنے متعدد نکاح فرمایا۔ تاکہ آپ ﷺکی نجی زندگی کے تمام \nحالات نہایت وثوق اور اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے آجائیں اور ایک کثیر \nجماعت کی روایت کے بعد کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے اور شریعت کے وہ \nاحکام ومسائل جو خاص عورتوں سے متعلق ہیں اور مردوں سے بیان کرنے میں حیاء \nاور حجاب مانع ہوتا ہے ایسے احکام شرعیہ کی تبلیغ ازواجِ مطہرات-رضی الله \nعنهن- کے ذریعہ سے ہوجائے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; تنہائی کے اضطراب میں، \nمصیبتوں کے ہجوم میں اور ستمگاریوں کے تلاطم میں ساتھ دینے والی آپ ﷺکی \nغمگسار بیوی ام الموٴمنین حضرت خدیجہ-رضی الله عنہا- کا رمضان ۱۰ ء نبوت \nمیں جب انتقال ہوگیا تو آپ ﷺنے چار سال بعد یہ ضروری سمجھا کہ آپ ﷺکے حرم \nمیں کوئی ایسی چھوٹی عمر کی خاتون داخل ہوں جھنوں نے اپنی آنکھ اسلامی \nماحول میں ہی میں کھولی ہو اور جو نبی ﷺکے گھرانے\u0026nbsp; میں آ کر پروان چڑھیں، \nتاکہ ان کی تعلیم و تربیت ہر لحاظ سے مکمل اور مثالی طریقہ پر ہو اور وہ \nمسلمان عورتوں اور مردوں میں اسلامی تعلیمات پھیلانے کا موٴثر ترین ذریعہ \nبن سکیں۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے مشیت الٰہی نے حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- \nکو منتخب فرمایا اور شوال ۳ ء قبل الہجرہ مطابق ۶۲۰\/ مئی میں حضرت \nعائشہ-رضی الله عنہا- سے آپ ﷺکا نکاح ہوا، اس وقت حضرت عائشہ کی عمر جمہور \nعلماء کے یہاں چھ سال تھی اور تین سال بعد جب وہ ۹ سال کی ہوچکی تھیں اور \nاُن کی والدئہ محترمہ حضرت ام رومان-رضی الله عنہا- نے آثار و قرائن سے یہ \nاطمینان حاصل کرلیا تھا کہ وہ اب اس عمر کو پہنچ چکی ہیں کہ رخصتی کی \nجاسکتی ہے تو نبی اکرم ﷺکے پاس روانہ فرمایا اور اس طرح رخصتی کا عمل انجام\n پایا۔ (مسلم جلد۲، صفحہ ۴۵۶، اعلام النساء صفحہ ۱۱، جلد ۳، مطبوعہ بیروت)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\n حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کے والدین کا گھر تو پہلے ہی نوراسلام سے منور \nتھا، عالمِ طفولیت ہی میں انہیں کا شانہٴ نبوت تک پہنچادیا گیاتاکہ ان کی \nسادہ لوح دل پر اسلامی تعلیم کا گہرا نقش مرتسم ہوجائے۔ چنانچہ ہم دیکھتے \nہیں کہ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- نے اپنی اس نوعمری میں کتاب وسنت کے علوم\n میں گہری بصیرت حاصل کی۔ اسوئہ حسنہ اور آنحضور ﷺکے اعمال و ارشادات کا \nبہت بڑا ذخیرہ اپنے ذہن میں محفوظ رکھا اور درس و تدریس اور نقل و روایت کے\n ذریعہ سے اُسے پوری امت کے حوالہ کردیا۔ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کے \nاپنے اقوال و آثار کے علاوہ اُن سے دوہزار دو سو دس (۲۲۱۰) مرفوع احادیث \nصحیحہ مروی ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ-رضی الله عنه- کو چھوڑ کر صحابہ \nوصحابیات میں سے کسی کی بھی تعدادِ حدیث اس سے زائد نہیں۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\n بعض مریضانہ ذہن و فکر رکھنے والے افراد کے ذہن میں یہ خلش اور الجھن پائی\n جاتی ہے کہ آپ ﷺکی حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے اس کم سنی میں نکاح کرنے \nکی کیا ضرورت تھی؟اور یہ کہ اس چھوٹی سی عمر میں حضرت عائشہ-رضی الله عنہا-\n سے نکاح کرنا آپ ﷺکے لئے موزوں اور مناسب نہیں تھا؟ چنانچہ ایک یہودی \nمستشرق نے انٹرنیٹ پر اس قسم کا اعتراض بھی اٹھایا ہے اور اس طرح اس نے بعض\n حقائق و واقعات، سماجی روایات، موسمی حالات اور طبی تحقیقات سے اعراض اور \nچشم پوشی کا اظہار بھی کیا ہے کہ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے نکاح اور \nرخصتی اس کم سنی میں کیوں کر ہوئی؟\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; یہ اعتراض \nدرحقیقت اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- میں وہ اہلیت \nوصلاحیت پیدا نہیں ہوئی تھی جو ایک خاتون کو اپنے شوہر کے پاس جانے کے لئے \nدرکار ہوتی ہے، حالانکہ اگر عرب کے اس وقت کے جغرافیائی ماحول اور آب و ہوا\n کا تاریخی مطالعہ کریں تو یہ واقعات اس مفروضہ کی بنیاد کو کھوکھلی کردیں \nگے، جس کی بناء پر حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کے نکاح کے سلسلہ میں ناروا \nاور بیجاطریقہ پر لب کو حرکت اور قلم کوجنبش دی گئی ہے۔ سب سے پہلے یہ ذہن \nمیں رہے کہ اسلامی شریعت میں صحت نکاح کے لیے بلوغ شرط نہیں ہے سورہ \n”الطلاق“ میں نابالغہ کی عدت تین ماہ بتائی گئی ہے، واللّائی لم یحضن \n(المائدہ:۴) اور ظاہر ہے کہ عدت کا سوال اسی عورت کے معاملہ میں پیدا ہوتا \nہے جس سے شوہر خلوت کرچکا ہو؛ کیوں کہ خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں سرے \nسے کوئی عدت ہی نہیں ہے۔ (الاحزاب:۴۹) اس لیے ”واللائی لم یحضن“ سے ایسی \nعورت کی عدت بیان کرنا جنھیں ماہواری آنا شروع نہ ہوا ہو صراحت کے ساتھ اس \nبات پر دلالت کرتا ہے کہ اس عمر میں نہ صرف لڑکی کا نکاح کردینا جائز ہے \nبلکہ شوہر کا اس کے ساتھ خلوت کرنا بھی جائز ہے۔ ( احکام القرآن للجصاص \nجلد۲، صفحہ ۶۲۔ الفقہ الاسلامی وادلتہ جلد ۷ صفحہ ۱۸)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\n حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کی نسبت قابل وثوق ذرائع سے معلوم ہے کہ ان کے \nجسمانی قوی بہت بہتر تھے اور ان میں قوت نشو و نما بہت زیادہ تھی۔ ایک تو \nخود عرب کی گرم آب و ہوا میں عورتوں کے غیرمعمولی نشوونماکی صلاحیت ہے۔ \nدوسرے عام طورپر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور \nذہنی قویٰ میں ترقی کی غیرمعمولی استعداد ہوتی ہے، اسی طرح قدوقامت میں بھی\n بالیدگی کی خاص صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے بہت تھوڑی عمر میں وہ قوت حضرت \nعائشہ-رضی الله عنہا- میں پیدا ہوگئی تھی جو شوہر کے پاس جانے کے لیے ایک \nعورت میں ضروری ہوتی ہے۔ داؤدی نے لکھا ہے کہ وکانت عائشة شبت شبابا حسنا \nیعنی حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- نے بہت عمدگی کے ساتھ سن شباب تک ترقی کی \nتھی (نووی ۴۵۶\/۳) حضرت عائشہ کے طبعی حالات تو ایسے تھے ہی، ان کی والدہ \nمحترمہ نے ان کے لیے ایسی باتوں کا بھی خاص اہتمام کیا تھاجو ان کے لیے \nجسمانی نشوونما پانے میں ممدومعاون ثابت ہوئی۔ چنانچہ ابوداؤد جلد دوم صفحہ\n ۹۸ اور ابن ماجہ صفحہ ۲۴۶ میں خود حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کا بیان \nمذکور ہے کہ ”میری والدہ نے میری جسمانی ترقی کے لیے بہترے تدبیریں کیں۔ \nآخر ایک تدبیر سے خاطر خواہ فائدہ ہوا، اور میرے جسمانی حالات میں بہترین \nانقلاب پیدا ہوگیا“ اس کے ساتھ اس نکتہ کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ \nحضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کو خود ان کی والدہ نے بدون اس کے کہ آنحضرت ﷺکی\n طرف سے رخصتی کا تقاضا کیاگیاہو، خدمتِ نبوی میں بھیجا تھا اور دنیا جانتی\n ہے کہ کوئی ماں اپنی بیٹی کی دشمن نہیں ہوتی؛ بلکہ لڑکی سب سے زیادہ اپنی \nماں ہی کی عزیز اور محبوب ہوتی ہے۔ اس لیے ناممکن اور محال ہے کہ انھوں نے \nازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت واہلیت سے پہلے ان کی رخصتی کردی\u0026nbsp; ہو \nاور اگر تھوڑی دیر کے لیے مان لیا جائے کہ عرب میں عموماً لڑکیاں ۹\/برس میں\n بالغ نہ ہوتی ہوں تواس میں حیرت اور تعجب کی کیا بات ہے کہ استثنائی شکل \nمیں طبی اعتبار سے اپنی ٹھوس صحت کے پس منظر میں کوئی لڑکی خلافِ عادت \n۹\/برس ہی میں بالغ ہوجائے، جو ذہن و دماغ منفی سوچ کا عادی بن گئے ہوں اور \nوہ صرف شکوک و شبہات کے جال بننے کے خوگر ہوں انھیں تویہ واقعہ جہالت یا \nتجاہل عارفانہ کے طور پر حیرت انگیز بناکر پیش کرے گا؛ لیکن جو ہرطرح کی \nذہنی عصبیت و جانبداری کے خول سے باہر نکل کر عدل و انصاف کے تناظر میں \nتاریخ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں وہ جان لیں کہ نہایت مستند طریقہ سے ثابت \nہے کہ عرب میں بعض لڑکیاں ۹\/برس میں ماں اور اٹھارہ برس کی عمر میں نانی بن\n گئی ہیں۔ سنن دار قطنی میں ہے حدثنی عباد بن عباد المہلبی قال ادرکت فینا \nیعنی المہالبة امرأة صارت جدة وہی بنت ثمان عشرة سنة، ولدت تسع سنین ابنة، \nفولدت ابنتہا لتسع سنین فصارت ہی جدة وہی بنت ثمان عشرة سنة (دارقطنی، \nجلد۳، صفحہ ۳۲۳، مطبوعہ: لاہور پاکستان) خودہمارے ملک ہندوستان میں یہ خبر \nکافی تحقیق کے بعد شائع ہوئی ہے کہ وکٹوریہ ہسپتال دہلی میں ایک سات سال سے\n کم عمر کی لڑکی نے ایک بچہ جنا ہے۔ (دیکھئے اخبار ”مدینہ“ بجنور، مجریہ \nیکم جولائی ۱۹۳۴\/ بحوالہ نصرت الحدیث صفحہ ۱۷۱)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; جب \nہندوستان جیسے معتدل اور متوسط ماحول وآب و ہوا والے ملک میں سات برس کی \nلڑکی میں یہ استعداد پیدا ہوسکتی ہے تو عرب کے گرم آب و ہوا والے ملک میں \n۹\/ سال کی لڑکی میں اس صلاحیت کا پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہی \nوجہ ہے کہ حضرت علی-رضی الله عنه- نے اپنی لڑکی ام کلثوم کا نکاح عروة بن \nالزبیر سے اور عروة بن الزبیر نے اپنی بھتیجی کا نکاح اپنے بھتیجے سے اور \nعبداللہ بن مسعود-رضی الله عنه- کی بیوی نے اپنی لڑکی کا نکاح ابن المسیب \nبن نخبة سے کم سنی میں کیا۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ جلد۷، صفحہ ۱۸۰)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\n ان حضرات کا کم سنی میں اپنی لڑکیوں کا نکاح کردینا بھی اس بات کی کھلی \nہوئی دلیل ہے کہ اس وقت بہت معمولی عمر میں ہی بعض لڑکیوں میں شادی وخلوت \nکی صلاحیت پیدا ہوجاتی تھی، تو اگر حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- کا نکاح \n۶\/برس کی عمر میں ہوا تو اس میں کیا استبعاد ہے کہ ان میں جنسی صلاحیتیں \nپیدا نہ ہوئی ہوں۔ جیساکہ ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ ان کی والدہ نے خصوصیت کے \nساتھ اس کا اہتمام کیا تھا الغرض شوہر سے ملنے کے لیے ایک عورت میں جو \nصلاحیتیں ضروری ہوتی ہیں وہ سب حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- میں موجود تھیں۔ \nلہٰذا اب یہ خیال انتہائی فاسد ذہن کا غماز ہوگا اور موسمی، ملکی، خاندانی \nاور طبی حالات سے اعراض اور چشم پوشی کا مترادف ہوگا کہ حضرت عائشہ-رضی \nالله عنہا- سے کم سنی میں شادی کرنے کی آپ ﷺکو کیا ضرورت تھی؟ علاوہ ازیں \nحضرت عائشہ کے ماسواء جملہ ازواج مطہرات-رضی الله عنهن- بیوہ، مطلقہ یا \nشوہر دیدہ تھیں، حضرت عائشہ-رضی الله عنہا- سے کم سنی میں ہی اس لئے نکاح \nکرلیا گیا تاکہ وہ آپ ﷺسے زیادہ عرصہ تک اکتسابِ علوم کرسکیں۔ اور حضرت \nعائشہ-رضی الله عنہا- کے توسط سے لوگوں کو دین و شریعت کے زیادہ سے زیادہ \nعلوم حاصل ہوسکیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺکی وفات کے بعد حضرت عائشہ-رضی الله \nعنہا-(48) اڑتالیس سال زندہ رہیں، زرقانی کی روایت کے مطابق ۶۶ھ میں حضرت \nعائشہ-رضی الله عنہا- کا انتقال ہوا۔ ۹\/برس میں رخصتی ہوئی آپ کے ساتھ ۹\/ \nسال رہیں اور آپ کی وفات کے وقت ان کی عمر ۱۸ برس تھی۔ (زرقانی، الاستیعاب)\n اور صحابہ و تابعین ان کی خداداد ذہانت و فراست، ذکاوت وبصیرت اور علم و \nعرفان سے فیض حاصل کرتے رہے،اور اس طرح ان کے علمی و عرفانی فیوض و برکات \nایک لمبے عرصہ تک جاری رہے۔ (زرقانی جلد ۳، صفحہ ۲۲۹-۲۳۶)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\n حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺکے سوا کوئی ایسا آدمی دنیا میں نہیں گزرا جو کامل ۲۳ \nبرس تک ہر وقت، ہر حال میں منظر عام پر زندگی بسر کرلے، سینکڑوں ہزاروں \nآدمی اس کی ایک ایک حرکت کے تجسس میں لگے ہوئے ہوں۔ اپنے گھر میں اپنی \nبیویوں اور اپنی اولاد کے ساتھ برتاؤ کرتے ہوئے بھی اس کی جانچ پڑتال ہورہی\n ہو اور اتنی گہری تلاش کے بعد نہ صرف یہ کہ اس کے کیریکٹر پر ایک سیاہ \nچھینٹ تک نظر نہ آئے؛ بلکہ یہ ثابت ہو کہ جو کچھ وہ دوسروں کو تعلیم دیتا \nتھا، خود اس کی اپنی زندگی اس تعلیم کا مکمل نمونہ تھی؛ بلکہ یہ ثابت ہوکہ \nاس طویل زندگی میں وہ کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی عدل وتقویٰ اور سچائی و \nپاکیزگی کے معیاری مقام سے نہیں ہٹا؛ بلکہ یہ ثابت ہوکہ جن لوگوں نے سب سے \nزیادہ قریب سے اس کو دیکھا وہی سب سے زیادہ اس کے گرویدہ اور معتقد ہوئے۔ \nصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp; یہی وجہ ہے کہ \nانسان کی پوری آبادی میں ”انسانِ کامل“ کہلائے جانے کے آپ ﷺہی مستحق ہیں \nاور عیسائی سائنسداں نے جب تاریخ عالم میں ایسے شخص کو جو اپنی شخصیت کے \nجگمگاتے اور گہرے نقوش چھوڑے ہیں سب سے پہلے نمبر پر رکھ کر اپنی کتاب \nکاآغاز کرنا چاہا تو اس نے دیانت کا ثبوت دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ الصلاة\n والسلام اوراپنے من پسند کسی سائنسداں کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ اس کی نظر \nانتخاب اسی پر پڑی اور اسی سے اپنی کتاب کاآغاز کیا جسے دنیا حضرت محمد ﷺکے\n نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ اس لئے آپ ﷺکی زندگی جلوت کی ہو یا خلوت کی \nایک کامل نمونہ ہے اور اس میں ایسا اعتدال و توازن پایا جاتا ہے کہ کسی قسم\n کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ اور جب کوئی ”یرقانی“ نظر والے آپ ﷺکی \nزندگی میں کسی کمی کو تلاش کریں تو حقیقت پسند شاعر یہ کہہ کر اس کی طرف \nمتوجہ ہوگا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eفرق آنکھوں میں نہیں، فرق ہے بینائی میں\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eعیب میں عیب، ہنرمند ہنر دیکھتے ہیں\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\u0026nbsp;\n انٹرنیٹ کی دنیا سے قریبی تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلام کے خلاف \nمختلف شکوک و شبہات اور فتنے پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس قسم کے \nشکوک وشبہات کاازالہ اور فتنوں کا سدِّباب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جو \nلوگ انٹرنیٹ کے ذریعہ فتنے کے شوشے چھوڑ دیتے ہیں ان کا منظم و منصوبہ بند \nطریقہ پرجواب دیا جائے کسی وجہ سے اگر علماء براہِ راست انگریزی میں جواب \nنہیں دے سکتے تو ان کا علمی تعاون حاصل کرکے جواب کی اشاعت عمل میں لائی \nجاسکتی ہے،1 زندگی کا کارواں جب چلتا ہے تو گرد و غبار کا اٹھنا لازمی ہے؛ \nلیکن منزل کی طرف رواں دواں رہنے ہی میں منزل پر پہنچا جاسکتا ہے؛ لیکن اس \nکے لئے قدم میں طاقت اور دست و بازو میں قوت چاہئے۔ ع\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس بحرِ حوادث میں قائم پہنچے گا وہی اب ساحل تک\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجو موجِ بلاء کا خوگر ہو رخ پھیرسکے طوفانوں کا \u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/7165818204307220870\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_49.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/7165818204307220870"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/7165818204307220870"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_49.html","title":"کم سنی میں حضرت عائشہ کا نکاح تحقیق و تجزیہ"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});