// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-779016484633334833"},"published":{"$t":"2015-10-19T16:04:00.001+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T16:02:12.247+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد رافضیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف1"}],"title":{"type":"text","$t":"خلافتِ راشدہ  کے دلائل"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"سربکف\" میگزین 1-جولائی،اگست 2015\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eخلفائے راشدینؓ مسلمانوں کے متخب امام اور اللہ تعالیٰ کے موعود خلفاء تھے\u003Cbr \/\u003Eمولانہ محمد\u0026nbsp; یوسف\u0026nbsp; شہید\u0026nbsp; رحمہ اللہ علیہ\u0026nbsp; اس بات پر اپنی\u0026nbsp; مشہور کتاب\u0026nbsp; شیعہ سنی اختلافت اور صراط مستقیم میں فرماتے ہیں یہ چاروں حضرات خلفائے راشدینؓ ہیں، جو افضل البشرﷺ ‘‘خیرامت’’ کے متخب امام اور اللہ تعالیٰ کے موعود خلیفہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خلافت سے پہلے ان کے استخلاف فی الارض کی پیش گوئی فرمائی اور اس پیش گوئی میں ان کی اقامت دین اور حفظ ملت کے اوصاف کو بطور خاص ذکر فرمایا۔ پھر آنحضرت ﷺ کے بعد جب ان پیش گوئیوں کے ظہور کا وقت آیا تو حضرات مہاجرین و انصار ؓ کو توفیق خاص عطا فرمائی کہ ان خلفاء اربعہ ؓ کو اپنا امام اور خلیفہ بنائیں تاکہ ان کے ذریعہ موعود پیش گوئیاں پوری ہوں اور اقامت دین و حفظ ملت کا عظیم الشان کارنامہ پردہ غیب سے منصہ شہود پر جلوہ گر ہو۔\u003Cbr \/\u003Eقرآن کریم میں اس قسم کی آیات بہت ہیں مگر خلفاء اربعہؓ کے بابرکت عدد کی مناسبت سے یہاں قرآن کریم کی چار پیش گوئیوں کے ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں:\u003Cbr \/\u003Eپہلی پیش گوئی: مظلوم مہاجرین کو تمکین فی الارض نصیب ہوگی اور وہ اقامت دین کا فریضہ انجام دیں گے\u003Cbr \/\u003Eالَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ(الحج 40)\u003Cbr \/\u003Eالَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ\u0026nbsp; (الحج 41 )\u003Cbr \/\u003Eیہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے\u003Cbr \/\u003Eیہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے۔یہ آیت کریمہ دو پیش گوئیوں پر مشتمل ہے ایک یہ کہ مہاجرین کو اقتدار نصیب ہوگا اور دوسرہ یہ کہ ان کا\u0026nbsp; اقتدار اقامت دین\u0026nbsp; امر بلمعروف\u0026nbsp; ور نہی عن المنکر کا زریعہ ہوگا\u003Cbr \/\u003Eاس آیت کے مطابق مہاجرین اولین میں سے چار حضرات کو اقتدار عطا کیا گیا اور دنیا نے دیکہا کہ کس طرح ان حضرات نے اقامت دین کا کام کیا بلکہ جناب صدیق نے زکواۃ کے انکاریوں سے جہاد کا اعلان کیا ۔\u003Cbr \/\u003Eدوسری آیت\u003Cbr \/\u003Eوَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ( 55 )\u003Cbr \/\u003Eجو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں\u003Cbr \/\u003Eلفظ منکم سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ جو حضرات نزول آیت کے موقع پر موجود تھے یہ پیش گوئی ان کے لئے نہ کہ صدیوں بعد میں آنے والوں کے لئے ۔ اس آیت کا بلخصوص خطاب صحابہ ہی تھے ۔ اور ان سے چار وعدے کئے گئے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eپہلا وعدہ : اس جماعت کے کچھ لوگوں کو خلیفہ بنا دیا جائے گا اور ان کی خلافت منشا الہی ہوگی ۔\u003Cbr \/\u003Eدوسرا وعدہ: اللہ تعالی اپنے پسندیدہ دین کو ان خلفاء کے زریعہ سے دنیا میں ہمیشہ کے لئے قائم کردین گے ۔ یعنی وہ خلفاء دین السلام کی اشاعت کے لئے اللہ کے الا کار ہونگے\u003Cbr \/\u003Eتیسرا وعدہ: ان کے خوف کو امن سے بھر دیا جائے گا آج جو ان کو خطرہ\u0026nbsp; لاحق ہے وہ پھر ختم ہوجائے\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;اس کے\u0026nbsp; بر عکس شیعہ عقیدہ امامت کے مطابق شیعوں کے اماموں\u0026nbsp; کو خوف ساری زندگی ساتھ رہا اس لئے تکیہ کرتے رہے (١)\u003Cbr \/\u003Eچوتھا وعدہ :وہ اللہ کے فرمانبردار ہوںگے اور شرک و بدعت کو اکھاڑ پھینکیں\u0026nbsp; گے۔\u003Cbr \/\u003Eومن کفر بعد ذالک فاولئک ھم الفاسقون۔\u003Cbr \/\u003Eیعنی ان حضرات کا استخلاف حق تعالیٰ شانہ کا عظیم الشان انعام ہے۔ جو لوگ اس جلیل القدر نعمت کی ناقدری و ناشکری کرین گے وہ قطعاً فاسق اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان ٹھہریں گے۔\u003Cbr \/\u003Eنزول آیت کے وقت تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ قرعہ فال کس کس کے نام نکلتا ہے؟ خلافت الٰہیہ موعودہ کا تاج کن کن خوش بختوں کے سر پر سجایا جاتا ہے؟ کون کون خلیفہ ربانی ہوں گے؟ اور ان کی خلافت کی کیا ترتیب ہوگی؟ لیکن آنحضرت ﷺ کے بعد جب یہ وعدہ الٰہی مفصہ شہود پر جلوہ گر ہوا تب معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ شانہ کے یہ عظیم الشان وعدے انہی چار اکابر سے متعلق تھے جن کو خلفائے راشدینؓ کہا جاتا ہے۔\u003Cbr \/\u003Eگزشتہ بالا دونوں آیات سے معلوم ہوچکا ہے کہ خلفاء اربعہؓ حق تعالیٰ شانہ کے ‘‘موعود امام’’ تھے ، حکمت خداوندی نے ان حضرات کو خلافت نبوت کے لئے پہلے سے نامزد کر رکھا تھا، اور تنزیل محکم میں ان کی خلافت کا اعلان فرما رکھا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان خلفاء ربانی اور ائمہ ہدیٰ کے ذریعہ دین وملت کی حفاظت ہوئی اور وہ تمام امور جو امامت حقہ اور خلافت نبویہ سے وابستہ ہیں ان اکابر کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے\u003Cbr \/\u003E(١)اور ایک امام\u0026nbsp; مارے خوف\u0026nbsp; کے اب بھی \"غائب \" ہیں،\u0026nbsp; غالب امکان ہے کہ یہ خوف سنیوں کا ہوگا۔ (مدیر)\u003Cbr \/\u003Eتیسری پیش گوئی\u003Cbr \/\u003Eأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (المائدہ 54)\u003Cbr \/\u003Eاے ایمان والو اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈریں یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور الله بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے\u003Cbr \/\u003Eاس آیت میں جناب صدیق اکبر کی خلافت کی پیش گوئی ہے ۔ وصال نبوی کے بعد جب لوگ ہر طرف سے مرتد ہونے لگے ماسواء مکہ ،مدینہ ، اور طائف کے باقی سارہ عرب اس کی لپیٹ مین آگیا ۔ تو جناب صدیق نے بہت ہی زبردست طریقہ سے اس ی سرکوبی کی او آپ اور آپ کے ساتھی\u0026nbsp; اس آیت کا مصداق بنے ۔اللہ تعالی نے آپ کے اور آپکے ساتھیوں کے جو اوصاف بتائے وہ یہ ہیں ۔\u003Cbr \/\u003E1۔اللہ تعلی ان سے محبت رکہتے ہیں\u003Cbr \/\u003E2۔یہ اللہ تعلی سے سچی محبت رکہتے ہیں\u003Cbr \/\u003E3۔مسلمانوں ہر شفیق و مہربان ہیں\u003Cbr \/\u003E4۔کافرون پر سخت ہیں اور ان پر غالب ہیں\u003Cbr \/\u003E5۔یہ مجاہد ہیں محض رضا ئے الٰہی\u0026nbsp; کے لئے جہاد کرتے ہیں\u003Cbr \/\u003E6۔یہ کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے ( یاد رہے جناب صدیق نے جب زکواۃ کے انکاریوں سے اعلان جہا د کیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں تو آپ نے کسی کے پرواہ\u0026nbsp; نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ نماز و زکواۃ میں فرق کرتے ہیں میں ان سے جہاد کرون گا)\u003Cbr \/\u003Eحضرت صدیق اکبرؓ نے مسلمانوں کی از سر نو شیرازہ بندی کی اور پورے عرب کو نئے سرے سے متحد کر کے ایمان و اخلاص اور جہاد فی سبیل اللہ کے راستہ پر ڈال دیا۔ اور ان کے ہاتھ میں علم جہاد دے کر ان کو قیصرو کسریٰ سے بھڑایا۔ لہٰذا اس قرآنی پیش گوئی کا اولین مصداق حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے رفقاء ہیں۔ رضی اللہ عنہم وارضا ھم یہاں ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے\u003Cbr \/\u003Eوہ یہ کہ غزوہ خیبر میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا:\u003Cbr \/\u003Eترجمہ: ‘‘میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ و رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔ ’’\u003Cbr \/\u003Eاس ارشاد کے وقت آنحضرت ﷺ نے اس شخصیت کا نام نامی مبہم رکھا تھا۔ اس لئے ہر شخص کو تمنا تھی کہ یہ سعادت اس کے حصہ میں آئے۔ اگلے دن جب جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دیا گیا تو اس پیش گوئی کے مصداق میں کوئی التباس نہیں رہا اور سب کو معلوم ہوگیا کہ اس بشارت کا مصداق حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔\u003Cbr \/\u003Eٹھیک اسی نہج پر سمجھنا چاہئے کہ اس آیت شریفہ میں جس قوم کو مرتدین کے مقابلہ میں لائے جانے کی پیش گوئی فرمائی گئے ہے نزول آیت کے وقت ان کے اسمائے گرامی کی تعین نہیں فرمائی گئے تھی۔ اس لئے خیال ہوسکتا تھا کہ خدا جانے کون حضرات اس کا مصداق ہیں؟ لیکن جب وصال نبویﷺ کے بعد فتنہ ارتداد نے سراٹھایا اور اس کی سرکوبی کے لئے حضرت صدیق اکبرؓ اور ان کے رفقاء ؓ کو کھڑا کیا گیا، تب حقیقت آشکارا ہوگئی اور التباس واشتباہ باقی نہ رہا کہ اس پیش گوئی کا مصداق یہی حضرات تھے اور انہی کے درج ذیل سات اوصاف بیان فرمائے گئے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eچوتھی آیت\u003Cbr \/\u003Eلِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًاحَسَنًا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (الفتح\u0026nbsp; 16 )\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے یا تو تم جنگ کرتے رہو گے یا پھر وہ اسلام لے کر ائیں اگر تم حکم مانو گے تو خدا تمہیں اچھا بدلا دے گا اور اگر اگر منھن پھیر لو گے جیسا کہ پہلے پھیرلیا تھا تو اللہ تم کوبری تکلیف کی سزا دےگا۔\u003Cbr \/\u003Eیہ آیت دعوت اعراب کہلاتی\u0026nbsp; ہے\u0026nbsp; یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے حضور علیہ السلام سے حدیبیہ کے موقع پر پہلو تہی کی تھی انہیں بتایا جا رہا کہ آئندہ تمہیں جنگجو قوموں کے مقابلے مین نکلنے کی دعوت دی جائے گی اور تم کو یہاں تک جنگ کرنا ہوگی کہ وہ اسلام لے آئیں یا جزیہ دے کر اسلام کے زیر اثر آجائیں ۔ عربوں کو یہ دعوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں دی گئی کیون کہ آپ کے زمانے میں\u0026nbsp; دوسری قوموں سے جنگ کی نوبت نہین آئی تھی ۔بلکہ جناب صدیق کے زمانے میں جہاد شام و عراق کے لئے انہیں نکلنے کے کی دعوت دی گئی اور خلفاء ثلاثہ کے زمانہ مبارک مین ہی یہ مقامات اسلام کے زیر اثر آئے اس سے ان کی خلافت ،اللہ تعالی کی موعودہ خلافت ہی بنتی ہے۔\u003Cbr \/\u003Eچناچہ قرآن کریم کی یہ پیش گویاں خلافاء ثلاثہ\u0026nbsp; ہی پوری کرتے ہیں نہ ہی ان کے علاوہ کوئی مہاجر\u0026nbsp; خلیفہ بنا اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی نے مرتدیں سے قتال کیا ۔ اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی نے اعراب کو دعوت جہاد دی۔\u003Cbr \/\u003Eاس سے خلفاءراشدہ موعودہ ثابت ہوتی ہے اور نہ صرف یہ بلکہ اس کو نہ ماننے والا بحکم قرآن بدکردار بنتا ہے ۔(١)\u003Cbr \/\u003E(١)بشکریہ سرونٹ آف صحابہ\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/779016484633334833\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_10.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/779016484633334833"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/779016484633334833"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_10.html","title":"خلافتِ راشدہ  کے دلائل"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});