// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-7834954454761459609"},"published":{"$t":"2017-09-13T22:03:00.004+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T22:03:36.547+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد غیر مقلدیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف3"}],"title":{"type":"text","$t":"عورتوں کی امامت کا مسئلہ اور غیر مقلد علماء کا جھوٹ، خیانت اور دھوکہ"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cb\u003Eحافظ محمود احمد(عرف عبد الباری محمود)\u003C\/b\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eقارئین کرام! علمائے اہلحدیث (غیر مقلدین علماء) کو احناف اور فقہ حنفی سے اس قدر چڑٓ ہے کہ وہ جہل، جھوٹ، خیانت اور بد دیانتی کا سہارا لیکر آۓ دن فقہ حنفی اور احناف کو بدنام کرتے رہتے ہیں جس کا ایک نمونہ یہاں پیش کیا جاتا ہے ملاحظہ فرمائیں۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eفرقہ اہلحدیث کے ایک بہت بڑے عالم جنکا نام ابوالاقبال سلفی ہے، اپنی کتاب \"اصلی اسلام کیا ہے؟ اور جعلی اسلام کیا؟\" میں جگہ جگہ جھوٹ، خیانت اور بد دیانتی کا مظاہرہ کیا ہے، (تفصیل جاننے کیلئے دیکھئے: مولانا مرتضیٰ حسن صاحب سدھارتھ نگری کی کتاب \"ضدی ابلیس\" اور \"پردہ اُٹھ رہا ہے\")\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس کتاب کے صفحہ۴۷۹\/پر عورتوں کی امامت سے متعلق دو روایتیں نقل کرتے ہیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;عَنْ اُمِّ وَرَقَۃَ اَمَرَھَا اَنْ تَؤُمَّ اَھْلَ دَارِھَا. (ابوداؤد باب امامت النساء)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eرسول اللہ ﷺ نے (حضرت، ناقل) ام ورقہ(رضی اللہ عنہا، ناقل) کو اپنے گھر والوں کی امامت کرانے کا حکم دیا۔\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eعَنْ عَائِشَۃَ اَنَّھَا تَؤُمُّ النِّسَاءَ وَتَقُوْمُ وَسْطَھُنَّ. (مستدرک حاکم باب امامت المرأۃ)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eحضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا صف کے بیچ میں کھڑی ہوکر عورتوں کی امامت کراتی تھیں۔\"\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;پھر لکھتے ہیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;\"دونوں حدیثیں بالکل صاف اور واضح ہیں۔ ایک میں رسول کا حکم ہے ... دوسری میں زوجۂ رسولؐ کا اس پر عمل ہے۔ لیکن حنفی مذہب اللہ کے رسول کے اس حکم کو نہیں مانتا۔ نہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ﷝ کے اس حکم (یہاں سلفی صاحب نے اپنی جہالت سے حضرت عائشہ صدیقہؓ کے \"عمل\" کو \"حکم\" بنا دیا ہے، ناقل) پرعمل کرنے کو پسند کرتا ہے۔ بلکہ اپنی طرف سے گڑھ کر فتوی دیتا ہے۔ اور اس حکم رسولؐ کی مخالفت کرتا ہے۔\"\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہی سلفی صاحب اپنی ایک دوسری کتاب میں لکھتے ہیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;\"ناظرین یہ ہیں صحیح احادیث جن سے صاف طور پر ثابت ہے کہ عورتیں عورتوں کی امامت کرسکتی ہیں۔ لیکن حقانی اور حنفیہ ان تمام صحیح حدیثوں کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ عورت عورتوں کی امامت نہیں کراسکتی۔ یہ امت حنفیہ ہے اس لئے اسلام کے رسول کا حکم یہ کیوں کر مان سکتی ہے۔ \" (مذہبِ حنفی کا دینِ اسلام سے اختلاف، صفحہ ۴۵)\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;اس فرقہ کے ایک اور بڑے عالم حکیم صادق سیالکوٹی \u0026nbsp;اپنی کتاب \"سبیل الرسول\" میں لکھتے ہیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;\"حنفی بھائیو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف عورتوں کو بھی جماعت سے نماز پڑھنے کی اجازت دیں۔ عورت کی امامت عورت کے لئے روا رکھی، لیکن فقہ میں یہ کام منع قرار پائے کہ حدیث کی برابری کتنی بری چیز ہے\" (صفحہ ۱۵۷)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاسی فرقہ کے ایک اور مشہور غیر مقلد عالم فاروق الرحمٰن صاحب یزدانی حضرت عائشہؓ کی مستدرک حاکم اور ابوداؤد کے حوالہ سے روایت مع ترجمہ نقل کرکے لکھتے ہیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;\"اس روایت سے کس قدر واضح ہے کہ عورت عورتوں کی امامت کراسکتی ہے۔ ابوداؤد شریف کی روایت میں ام ورقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم \u0026nbsp;نے خود جماعت کرانے کا حکم دیا ہے اور مستدرک حاکم کی روایت میں فرض نماز کا بھی ذکر ہےکہ وہ امامت فرض نماز کی ہوتی تھی۔ مگر کیا کیا جائے اس رائے و قیاس کے مرض کا کہ حدیث پیغمر صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اس نے اپنا شعار بنالیا ہے چناچہ فقہ حنفی میں لکھاہے:\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eویکرہ للنساء ان یصلین وحدھن الجماعۃ [ہدایہ ج۱،ص۱۲۵، کتاب الصلوٰۃ، باب الامامۃ، شرح وقایہ ۱۷۶\/۱، قدوری ص۴۴]\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیعنی مکروہ سمجھا گیا ہے کہ عورتیں علیحدہ جماعت سے نماز پڑھیں۔ یعنی مردوں کی جماعت کے علاوہ جماعت کرائیں۔\"\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;مزید لکھتے ہیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;\"قارئین اوپر آپ نے حدیث پڑھی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ورقہؓ کو جماعت کرانے کا حکم دیا ہے مگر یہ فقہ حنفی ہے کہ اسے مکروہ سمجھ رہی ہے۔ تو گویا جس کام کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کرنے کا مشورہ ہی نہیں بلکہ کرنے کا حکم دیں لیکن فقاہت کا تقاضہ ہے کہ اس کو نا پسند کیا جائے۔ یہ حال ہے امت کے دعویداروں کا۔\" (احناف کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف، صفحہ ۳۱۸ و ۳۱۹)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;***الجواب***\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eقارئین کرام! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اس کی اجازت دے رکھی تھی کہ اگر عورتیں اپنی جماعت کریں تو ان کی نماز باطل نہیں ہوگی بلکہ جائز \u0026nbsp;ہوگی لیکن ابوالاقبال سلفی، حکیم صادق سیالکوٹی اور فاروق الرحمٰن یزدانی نے اس کو ایسا بیان کیا ہے کہ گویا صحابہ کرام﷢ اور اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس پر برابر عمل ہوتا رہا ہے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام﷢ کے زمانہ میں استمرار کے ساتھ \u0026nbsp;اس پر عمل نہیں تھا (جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp;لیکن ابوالاقبال سلفی، حکیم صادق سیالکوٹی اور فاروق الرحمٰن یزدانی کو چونکہ فقہ حنفی کو بدنام کرنا تھا اس لئے ایسا بیان کیا۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;قارئین کرام! ابوالاقبال سلفی اور صادق سیالکوٹی نے ہدایہ کو حدیث کے خلاف بتانے کے لئے ایک عبارت تو نقل کردی لیکن وہ عبارت اڑا دی جس سے کہ حدیث کے خلاف نہیں بلکہ اس کے موافق ہو رہی تھی. دیکھئے ہدایہ میں صاف لکھا ہے:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;وان فعلن قامۃ الامام وسطهن\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیعنی عورتیں اگر خود جماعت کریں تو جو عورت امام ہو ان کے بیچ میں کھڑی ہو. (دلیلیں آگے آرہی ہیں)\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;قارئین! ہدایہ کی یہ عبارت کتنی صاف ہے کہ اگر عورتیں ایسا کریں تو ان کی \u0026nbsp;نماز درست ہوگی اور انکی جماعت کا طریقہ بھی بتلادیا مگر اقبال سلفی اور صادق سیالکوٹی نے از راہ خیانت اس عبارت کو گول کر دیا اور جھوٹ بولتے ہوئے یہ بتلایا کہ فقہ حنفی میں عورتوں کی جماعت منع ہے. \u0026nbsp;(لعنت اللہ علی الکٰذبین)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u0026nbsp; \u0026nbsp; \u0026nbsp;قارئین! رہا مسئلہ فقہ حنفی میں عورتوں کی جماعت کے مکروہ ہونے کا،، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں خود اس کو نا پسند کیا گیا ہے۔ دیکھئے عورتوں کی جماعت سے متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"لا خیر فی جماعۃ النساء الا فی المسجد او فی جنازۃ قتیل\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیعنی عورتوں کی جماعت میں کوئ بھلائی نہیں ہے الا یہ کہ مسجد \u0026nbsp;میں یا مقتول کے جنازہ میں\"\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(رواہ احمد والطبرانی فی الاوسط بحوالہ اعلاء السنن جلد۴ صفحہ ۲۴۲)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی جماعت میں خیریت (یعنی بھلائی) کی نفی فرمائی ہے جو اس کے کراہیت کی کافی دلیل ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاور خلیفۂ راشد حضرت علی﷛ فرماتے ہیں:\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"لا تؤم المرأۃ \u0026nbsp;۔یعنی عورت امامت نہ کرے \" (المدونۃ الکبریٰ جلد ۱ صفحہ ۸۶)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E*مرد و عورت کی امامت کی جائے قیام میں فرق کی دلیل*\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eمرد امامت میں آگے کھڑا ہوگا اس لئے کہ حضرت سمرہ بن جندبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ جب ہم تین (آدمی) ہوں (اور با جماعت نماز پڑھنے لگیں) تو ہم میں ایک آگے ہو جایا کرے۔ (ترمذی شریف جلد ۱، باب ماجاء فی الرجل یصلی مع الرجلین)\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاور حضرت جابرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سلسلہ کا اپنا واقعہ یوں بیان کیا ہے ایک موقع پر:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھما کر مجھے اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا، اتنے میں (حضرت) جبار \u0026nbsp;بن صخرؓ بھی وضو کرکے آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑ کر پیچھے کر دیا (اب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے آگے)۔ دیکھیے: صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقاق)\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eجبکہ عورت امام کی جائے قیام کے بارے میں درج ذیل روایتیں آئی ہیں۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(۱) حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: \"تؤم المرأۃ النساء تقوم فی وسطھن\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیعنی عورت (اگر) عورتوں کی امام بنے تو ان کے درمیان کھڑی ہو\" (مصنف عبدالرزاق جلد ۳ صفحہ ۱۴۰)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(۲) حضرت ریطہ حنفیہؓ روایت کرتی ہیں:\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(ایک دفعہ) حضرت عائشہؓ نے فرض نماز میں عورتوں کی امامت کرائیں تو ان کے درمیان کھڑی ہوئیں۔ (مصنف عبدالرزاق، جلد ۳ صفحہ۱۴۱)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(۳) یحیٰ بن سعید خبر دیتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نفل نماز میں عورتوں کی امامت کراتی تھیں تو ان کے صف میں کھڑی ہوتی تھیں۔(حوالہ سابق)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(۴) حضرت عائشہؓ ماہ رمضان میں عورتوں کی امامت کرتی تھیں تو بیچ میں کھڑی ہوتی تھیں۔\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(کتاب الآثار ، باب المرأۃ النساء...)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E(۵) نصب الرایہ کتاب الصلاۃ میں ہے کہ:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eعن ام الحسن انھا رأت ام سلمۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم تؤم النساء فتقوم معھن فی صفھن\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیعنی حضرت ام حسن سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت ام سلمہؓ کو دیکھا کہ وہ عورتوں کی امامت کرتی تھیں تو ان کے ساتھ ان کے صف میں کھڑی ہوتی تھیں.\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eفائدہ: ان احادیث و آثار سے معلوم ہوا کہ مرد امامت میں صف میں آگے کھڑا ہوگا، جبکہ عورت امامت میں صف کے آگے نہیں، بلکہ درمیانِ صف کھڑی ہوگی۔ اور یہ بھی صاف معلوم ہوا کہ عورتوں کی اپنی جماعت فی نفسہ جائز ہے \u0026nbsp;لہذا اگر وہ اپنی جماعت کرنا چاہیں تو منع نہیں ہے، لیکن شریعت کی نظر میں یہ بہتر و پسندیدہ بھی نہیں ہے جیساکہ اوپر میں گزرچکا ہے کہ \u0026nbsp;آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں خیریت (یعنی بھلائی) کی نفی کی ہے جو \"لا خیر فی جماعۃ النساء الا فی المسجد او فی جنازۃ قتیل\" سے واضح ہے۔\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eیہی وجہ ہے کہ زمانہ خیر القرون میں اس کا رواج نہ تھا۔ حضرت عائشہؓ، حضرت ام سلمہؓ نے جو امامت کرائ ہیں تو یہ ابتداء اسلام میں تھا، بعد میں منسوخ ہو گیا۔ چنانچہ ابوداؤد کی شرح بذل المجہود میں ہے:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eالا ﺍﻥ ﺟﻤﺎﻋﺘﮭﻦ ﻣﮑﺮﻭھۃ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻭ ﻋﻨﺪ ﺍﻟﺸﺎﻓﻌﯽ مستحبۃ ﮐﺠﻤﺎعۃ ﺍﻟﺮﺟﺎﻝ ﻭ ﯾﺮﻭﯼ ﻓﯽ ﺫﻟﮏ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻟﮑﻦ ﺗﻠﮏ ﮐﺎﻧﺖ ﻓﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ ﺍﻻﺳﻼﻡ ﺛﻢ ﻧﺴﺨﺖ ...\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"یعنی ہمارے نزدیک عورتوں کی جماعت مکروہ ہے امام شافعیؒ کے نزدیک مستحب ہے جیسے مرد کی جماعت اور یہ کہ جو روایت کی گئی ہے عورتیں امامت کرواتی تھیں تو یہ ابتداء اسلام میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا\" (جلد ۴ صفحہ ۲۰۹)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاسی طرح مولانا عبدالحئ لکھنویؒ فرماتے ہیں:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eﻓﺎین ﺫﺍﻟﻚ ﻣﻦ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ ﺍﻻﺳﻼﻡ\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eﻟﻜﻦ یمکن ﺍﻥ یقال ﺍﻧﻪ ﻣﻨﺴﻮﺥ\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"یعنی تو ایسا ہے کہ یہ ابتداء اسلام سے، لیکن ممکن ہے کہ اسے منسوخ کہا جائے\" دیکھئے: (حاشیۂ ہدایہ)\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eلہذا خلاصہ کلام یہ کہ:\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eعورتوں کی اپنی جماعت فی نفسہ جائز ہے \u0026nbsp;لہذا اگر وہ اپنی جماعت کرنا چاہیں تو منع نہیں ہے، لیکن شریعت کی نظر میں یہ بہتر و پسندیدہ بھی نہیں ہے۔\u0026nbsp;\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاللہ پاک ہم کو صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E٭٭٭\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: justify;\"\u003E\n\u003Cbr \/\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/7834954454761459609\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2017\/09\/blog-post_24.html#comment-form","title":"1 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/7834954454761459609"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/7834954454761459609"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2017\/09\/blog-post_24.html","title":"عورتوں کی امامت کا مسئلہ اور غیر مقلد علماء کا جھوٹ، خیانت اور دھوکہ"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"1"}}});