// API callback
av({"version":"1.0","encoding":"UTF-8","entry":{"xmlns":"http://www.w3.org/2005/Atom","xmlns$blogger":"http://schemas.google.com/blogger/2008","xmlns$georss":"http://www.georss.org/georss","xmlns$gd":"http://schemas.google.com/g/2005","xmlns$thr":"http://purl.org/syndication/thread/1.0","id":{"$t":"tag:blogger.com,1999:blog-6793833887718883930.post-8648136477171789193"},"published":{"$t":"2015-10-19T16:05:00.000+05:30"},"updated":{"$t":"2017-09-13T16:02:19.128+05:30"},"category":[{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"رد رافضیت"},{"scheme":"http://www.blogger.com/atom/ns#","term":"سربکف2"}],"title":{"type":"text","$t":"صدیق کی خلافت و بیعت پر اعتراضات کے جواب"},"content":{"type":"html","$t":"\u003Cdiv dir=\"ltr\" style=\"text-align: left;\" trbidi=\"on\"\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\"سربکف\" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv style=\"text-align: center;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003E\u003Cbr \/\u003E\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003Cdiv dir=\"rtl\" style=\"text-align: right;\"\u003E\n\u003Cspan style=\"font-size: large;\"\u003Eاعتراض1:کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع تھا.تو کیا یہ درست ہے کہ حضرت علی\u0026nbsp; اور ان کے ہمراہ صحابہ کرام نے بیعت نہیں کی تھی جبکہ ایسا اجماع جس میں وہ شریک نہ ہوں اس پر خدا وند متعال نے لعنت فرمائی ہے جیسا کہ امام ابن حزم فرماتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eلعنة اللہ علی کلّ اجماع یخرج منہ علی بن أبی طالب ومن بحضرتہ من الصحابة ( المحلّٰی ٩:٣٤٥)\u003Cbr \/\u003Eالجواب:\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;پہلی بات یہ کہ ابن حزم کی اس عبارت کا ترجمہ اس طرح ہے لعنت ہو ایسے اجماع پر جس میں علی نہ ہوں یا جس میں صحابہ میں کسی کی موجودگی نہ ہو۔\u003Cbr \/\u003Eاجماع کے واسطے ضروری نہین ہے کہ ہر آدمی اس بات سے متفق ہو بلکہ جس کو غالب اکثریت اپنائے اسے اجماع ہی کہیں گے سیدنا صدیق کے خلافت پر بھی اجماع منعقد ہو چکا ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نھج بلاغہ میں قول ہے\u003Cbr \/\u003Eفَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَ سَمَّوْهُ إِمَاماً كَانَ ذَلِكَ لِلَّهِ رِضًا\u003Cbr \/\u003Eاگر مهاجرين و انصار کسی کی امامت پر اجماع کرلیں اور اسے پیشوا قرار دے تو اللہ تعالی کی رضا بھی اس میں شامل ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eاورپھر سیدنا صدیق کی خلافت پر تمام مہاجرین و انصار نے اتفاق کر لیا تھا جس سے یہ ثابت ہوا کہ ان کی خلافت متفق علیہ تھی۔\u003Cbr \/\u003Eقول ابن حزم رحمہ\u003Cbr \/\u003Eوَلَعْنَةُ اللَّهِ على كل إجْمَاعٍ يَخْرُجُ عنه عَلِيُّ بن أبي طَالِبٍ وَمَنْ بِحَضْرَتِهِ من الصَّحَابَةِ\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;اللہ کی لعنت ہو ایسے اجماع پر جس میں علی نہ ہوں یا جس میں صحابہ میں کسی کی موجودگی نہ ہو\u003Cbr \/\u003Eاول : ابن حزم\u0026nbsp; اللہ کی ان پر رحمت ہو کے یہ الفاظ کسی حدیث یا روایت سے نہیں ہیں بلکہ یہ ان کے اپنے الفاظ ہیں جس کی حیثیت ایک عالم کے قول کی ہے جس اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان الفاظ سے استدلال لینا کہ سیدنا صدیق کی خلافت پر اجماع نہیں تھا یقنن جہالت ہی ہے۔\u003Cbr \/\u003Eدوم : ابن حزم نے یہ الفاظ فقہاء پر بحث کرتے ہوئے کہیں ہیں جس میں ان کا مطلب تھا کہ کسی بھی فقہی مسئلہ میں اگر علی کے اور صحابہ کے موقف کو سائیڈ کردیا جائے تو ایسا فقہی اجماع کسی کام کا نہیں ہے ۔ اللہ ان پر رحم کرے ان مقصد یقنن فقہاء پر لعنت بھیجنا نہین تھا ۔\u0026nbsp; اتنی سی بات ہے اس مین کہیں پر بھی سیدنا صدیق کی خلافت کا زکر تک نہیں ہے ۔ پھر ہم پہلے بھی کہ چکے ہیں کہ سیدنا صدیق کی خلافت پر علی رضی راضی تھے ۔پھر بھی رافضیوں کا شک دور کرنے کے لئے بیعت صدیق کا احوال لکھ دیتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eحضرت علی کا صدیق کی بیعت کرنے کا احوال:\u003Cbr \/\u003Eابن كثير في البداية والنهاية (6\\693. في أحداث سنة 11:\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;وقد اتفق الصحابة –رضي الله عنهم– على بيعة الصديق في ذلك الوقت حتى علي بن أبي طالب والزبير بن العوام –رضي الله عنهما\u003Cbr \/\u003Eابن کثیر الدایہ میں نقل کرتے ہیں کہ تمام صحابہ حضرت ابی بکر صدیق کی بیعت پر متفق ہوگئے اور تو اور اس وقت علی ابن ابی طالب\u0026nbsp;\u0026nbsp; اور زبیر بن العوام\u0026nbsp;\u0026nbsp; نے بھی بیعت کرلی۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;امام عبداللہ\u0026nbsp; بن احمد بن حنبل اپنی کتاب سنن ص 554 میں نقل کرتے ہین\u003Cbr \/\u003Eحدثني عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى حدثنا داود بن أبي هند عن أبي نضرة قال لما اجتمع الناس على أبي بكر رضي الله عنه فقال ما لي لا أرى عليا قال فذهب رجال من الأنصار فجاءوا به فقال له يا علي قلت ابن عم رسول الله وختن رسول الله فقال علي رضي الله عنه لا تثريب يا خليفة رسول الله ابسط يدك فبسط يده فبايعه ثم قال أبو بكر ما لي لا أرى الزبير قال فذهب رجال من الأنصار فجاءوا به فقال يا زبير قلت ابن عمة رسول الله وحواري رسول الله قال الزبير لا تثريب يا خليفة رسول الله ابسط يدك فبسط يده فبايعه\u003Cbr \/\u003Eابی ندرہ سے روایت ہے کہ جب لوگ ابی بکر کی بیعت کر رہے تھے تو اس وقت انہوں نے کہا کہ مجھے کیا ہوا ہے کہ میں علی کو نہیں دیکہ رہا پھر انصار کا ایک آدمی گیا اور علی اس کے ساتھ آگئے صدیق نے کہا اے علی آپ کہ سکہتے ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ ان کے عمزاد ہیں تو علی نے کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ آپ مجھ\u0026nbsp; سے ناراض نہ ہوں اپنا ہاتھ بڑہائے آپ نے ہاتھ بڑہایا اور علی نے بیعت کرلی۔ پھر صدیق نے کہا کہ مجھے کیا ہواہے کہ میں زبیر کو نہیں دیکہ رہا انصار کا ایک آدمی گیا اور انہیں بلا کہ لایا صدیق نے کہا اے زبیر تم کہ سکتے ہو کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوپھی کے بیتے ہو زبیر نے کہا\u0026nbsp; اے خلیفہ رسول اللہ مجھ سے ناراض نہ ہوں اپنا ہاتھ بڑہائے آپ نے ہاتھ بڑہا یا اور زبیر نے بیعت کرلی۔\u003Cbr \/\u003Eیہ حدیث صحیح ہے اور اس کے اسناد قوی ہیں پھر اس حدیث کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ امام حاکم نے اپنی کتاب مستدرک (4457حدیث) مین نقل کیا ہے ان کہنا ہے کہ یہ حدیث شیخین کے طریقہ پر صحیح ہے۔ پھر بیہقی نے اپنی کتاب اعتقادات جلد 1 ص 349-350 مین اسے\u0026nbsp; ابی سعید الخدری سے نقل کیا ہے اس کا مضمون بھی ایسا ہی ہے اور بیہقی کی یہ حدیث صحیح ہے۔\u003Cbr \/\u003Eعبداللہ بن احمد بن حنبل اپنی کتاب سنن(2-563) میں قیس بن العبدی سے نقل کرتے ہیں کہ قیس کہتے ہیں کہ میں علی کو بصرہ میں خطبہ دیتے ہوئے دیکہا انہوں نے اللہ کی تعریف کی اس کا شکریہ ادا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی لوگوں کے لئے قربانیوں کا زکر کیا پھر اللہ نے انہیں موت دی تو مسلمانوں نے دیکہاکہ ان کو ابی بکر کی بیعت کرنی چاہئے تو انہوں ان کی بیعت کی میں نے بھی ان کی بیعت کی اور ان سے وفاداری کی وہ (مسلمان) ان سے خوش تھے ابی بکر نے اچھے کام کئے اور جہاد کیا یہاں تک اللہ نے ان کو موت دے دی ان پر اللہ کی رحمت ہو۔\u003Cbr \/\u003Eشیعہ کتب سے حوالے:\u003Cbr \/\u003Eمحمد بن حسن نوبختی فرق الشیعہ ص 30\u0026nbsp; پر لکہتے ہیں\u003Cbr \/\u003Eان علیا علیہ اسلام لھما الامر ورضی بذلک و بایعھما طائعا غیر مکرہ و ترک حقھ لھما فنحن راضون کما رضی لھ، لا یحل لنا غیر ذلک ولایسع منا احد الا ذالک و ان ولایۃ ابی بکر صارت رشدا وھدی ، لتسلیم علی ورضاہ۔\u003Cbr \/\u003Eترجمہ: کہ علی (ر) نے اُن (یعنی ابو بکر و عمر) کی خلافت کو تسلیم کر لیا تھا اور اُس پر راضی ھو گئے تھے ، اور بغیر کسی جبر کے اُن کی بیعت کر کے فرماںبرداری کی ، اور اُن کے حق میں دستبردار ھو گئے تھے۔ پس ہم بھی اس پر راضی ھیں جیسے وہ راضی تھے۔ اب ہمارے لئے یہ حلال نہیں کہ ہم اس کے علاوہ کچھ اور کہیں ، اور ہم میں سے کوئی اس کے سوا کچھ اور کہے۔ اور یہ کہ علی (ر) کی تسلیم (تسلیم کرنے) اور راضی ھونے کی وجہ سے ابو بکر (ر) کی ولایت ، راشدہ اور ھادیہ بن گئی\u003Cbr \/\u003Eشیخ علی البحرانی منار الہدی ص 685\u0026nbsp; پر لکہتے ہیں\u003Cbr \/\u003Eوكما ينقشع السحاب، فمشيت عند ذلك إلى أبي بكر فبايعته ونهضت في تلك الأحداث حتى زاغ الباطل وزهق وكانت كلمة الله هي العليا ولو كره الكافرون (2) فتولى أبو بكر تلك الأمور وسدد وقارب واقتصد، وصحبته مناصحا وأطعته فيما أطاع الله فيه جاهدا\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eیہ دیکھ کر کہ کہیں فتنے یا شر پیدا نہ ھو جائے ، میں ابوبکر (ر) کے پاس چل کر گیا اور اور اُن کی بیعت کرلی۔ اور اُن حوادث کے خلاف (ابوبکر(ر) کے ساتھ) کھڑا ھوگیا ، حتیٰ کہ باطل چلا گیا اور اللہ کا کلمہ بلند ھو گیا چاھے وہ کافروں کو برا لگے۔ پس جب ابوبکر (ر) نے نظام امارت سنبھالا اور حالات کو درست کیا اور آسانیاں پیدا کیں ، تو میں اُن کا مُصاحب شریک کار (ہم نشیں) بن گیا اور اُن کی اطاعت (فرماںبرداری) کی ، جیسے اُنہوں نے اللہ کی اطاعت کی۔\u003Cbr \/\u003Eامالی ص 507\u0026nbsp; میں شیخ طوسی نقل کرتے ہین۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;فبايعت أبا بكر كما بايعتموه، وكرهت أن أشق عصا المسلمين، وأن أفرق بين جماعتهم، ثم أن أبا بكر جعلها لعمر من بعده، وأنتم تعلمون أني أولى الناس برسول الله (صلى الله عليه وآله) وبالناس من بعده، فبايعت عمر كما بايعتموه،\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eترجمہ: پس میں نے ابو بکر (ر) کی اُسی طرح بیعت کی ، جس طرح تم لوگوں نے کی۔ اور میں نے یہ ناپسند کیا کہ مسلمانوں کی جماعت کے مابین کوئی پھوٹ یا تفرقہ پیدا ھو۔ پھر ابو بکر (ر) نے (خلافت) عمر (ر) کو سونپی ، اور (حالانکہ) تم جانتے ھو کہ رسول (ص) کے بعد اُن کے قریب ہم تھے۔ پس پھر میں نے بھی عمر (ر) کی اُسی طرح بیعت کی جس طرح تم لوگوں نے کی۔\u003Cbr \/\u003Eشیخ طبرسی الاحتجاج جلد ۱ ص 114 پر لکہتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eوروي عن الباقر عليه السلام قال: فلما وردت الكتب على أسامة انصرف بمن معه حتى دخل المدينة، فلما رأى اجتماع الخلق على أبي بكر انطلق إلى علي بن أبي طالب عليه السلام فقال له: ما هذا؟ قال له علي: هذا ما ترى. قال له أسامة: فهل بايعته؟ فقال: نعم يا أسامة.\u003Cbr \/\u003Eامام باقر سے روایت ھے: جب اسامہ (ر) کو (نبی (ص) کے وصال کا) خط پہنچا تو وہ ساتھیوں سمیت مدینہ آگئے ، اور دیکھا کہ ابوبکر (ر) کے پاس (بیعت کے لئے) لوگ جمع ھیں۔ تو وہ علی (ر) کے پاس گئے اور اُن سے پوچھا: یہ کیا ھے؟ علی (ر) نے اُن سے کہا: یہ وھی ہے جو تم دیکھ رھے ھو۔ اسامہ (ر) نے اُن سے پوچھا: کیا آپ نے بھی بیعت کر لی ھے؟ علی (ر) نے کہا: ہاں اسامہ (میں نے بھی بیعت کر لی ھے۔\u003Cbr \/\u003Eمحمد بن حسن طوسی تلخیص شافی جلد 3 ص 42 پر لکہتے ہیں\u003Cbr \/\u003Eلا اشکال فیہ : انھ علی علیہ السلام بایع مستدفعا للشر و فارا من الفتنہ۔\u003Cbr \/\u003Eاس میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ علی (ر) نے (ابوبکر کی) بیعت کرلی تاکہ شر دفع ھو اور فتنہ پیدا نہ ھو۔\u003Cbr \/\u003Eاس کے علاوہ دوسرے کتب اور نھج البلاغہ وغیرہ میں علی رضی اللہ کی بیعت کا زکر موجود ہے۔\u003Cbr \/\u003Eچناچہ یہ بات ثابت ہوئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جو ان کے سا تھ تھے انہوں نے بنا کسی جبر کے بیعت کرلی تھی اور انصار و مہاجرین نے تو پہلے ہی بیعت کر لی تھی ۔ اس بات سے ثابت ہوا کہ سیدنا صدیق کی خلافت پر تمام صحابہ کا اجماع ہوگیا تھا تو ابن حزم کی اس بات کا اطلاق خلافت صدیق پر نہیں ہوتا اور ابن حزم صحیح ہیں جس اجماع میں علی شامل نہ ہوں وہ اجماع کیسے ہو سکتا ہے ۔\u0026nbsp; شیعوں کو چاہئے کہ وہ اپنے امام کی بات مان لیں اور جس طرح نوبختی نے لکہا ہے کہ وہ ابی بکر سے راضی ہوگئے تھے وہ ان کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے۔ اسی طرح شیعے بھی یہود مدینہ کی طرح ہٹ دہرمی چھوڑ کر سیدنا صدیق کی\u0026nbsp; خلافت بلا فصل کو ہادیہ خلافت مان لیں۔ پر کیا کیا جا سکتا ہے یہود مدینہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے رہے اور اب ان کی اولاد شیعے بھی وہی کرہے ہیں رسول اللہ کے خلیفہ کا انکار کرتے رہے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eاعتراض 3:\u003Cbr \/\u003E\u003Cbr \/\u003Eآپ کہتے ہیں : ابوبکر کی بیعت تمام مہاجرو انصار کے اجماع کے ذریعہ حاصل ہوئی ، لیکن عمر بن خطاب نے کہا ہے : تمام مہاجرین، ابوبکر کی بیعت کے مخالف تھے ، علی (علیہ السلام) ، زبیر اور ان کے چاہنے والے بھی موافق نہیں تھے۔ ” حین توفی اللہ نبیہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ان الانصار خالفونا ، و اجتمعوا باسرھم فی سقیفة بنی ساعدة و خالف عنا علی والزبیر و من معھما”۔ (١)۔\u003Cbr \/\u003Eآپ کا دعوی صحیح ہے یا عمر بن خطاب کا دعوی صحیح ہے؟\u003Cbr \/\u003Eالجواب:\u003Cbr \/\u003Eہم اس بات کو تو ثابت کرچکے ہیں کہ تمام انصار و مہاجرین نے سیدنا صدیق کی بیعت کر لی تھی اور وہ سب کے سب سیدنا صدیق کے ساتھ خلافت کے کاموں میں لگ گئے تھے۔\u003Cbr \/\u003Eسقیفہ کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ کی روایت\u003Cbr \/\u003Eیہ ایک طویل روایت ہے ہم اس ضروری حصہ یہاں صحیح بخاری کتاب الحدود باب\u0026nbsp; رجم الحبلی سے نقل کردیتے ہیں\u003Cbr \/\u003Eإِنَّمَا کَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَکْرٍ فَلْتَةً وَتَمَّتْ أَلَا وَإِنَّهَا قَدْ کَانَتْ کَذَلِکَ وَلَکِنَّ اللَّهَ وَقَی شَرَّهَا وَلَيْسَ مِنْکُمْ مَنْ تُقْطَعُ الْأَعْنَاقُ إِلَيْهِ مِثْلُ أَبِي بَکْرٍ مَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُبَايَعُ هُوَ وَلَا الَّذِي بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلَا وَإِنَّهُ قَدْ کَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّی اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقُلْتُ لِأَبِي بَکْرٍ يَا أَبَا بَکْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی إِخْوَانِنَا هَؤُلَائِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ فَذَکَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَا أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْنَا نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَائِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَا لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمْ اقْضُوا أَمْرَکُمْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا هَذَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقُلْتُ مَا لَهُ قَالُوا يُوعَکُ فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَکَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِکُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا وَأَنْ يَحْضُنُونَا مِنْ الْأَمْرِ فَلَمَّا سَکَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ وَکُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَکْرٍ وَکُنْتُ أُدَارِي مِنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی رِسْلِکَ فَکَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَکَانَ هُوَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ وَاللَّهِ مَا تَرَکَ مِنْ کَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّی سَکَتَ فَقَالَ مَا ذَکَرْتُمْ فِيکُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْ رَضِيتُ لَکُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا فَلَمْ أَکْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا کَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِکَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَی قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَکْرٍ اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ إِلَيَّ نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْکُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَکَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ حَتَّی فَرِقْتُ مِنْ الِاخْتِلَافِ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَدَکَ يَا أَبَا بَکْرٍ فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ\u003Cbr \/\u003Eترجمہ:\u003Cbr \/\u003Eتمہیں کوئی شخص یہ کہہ کر دھوکہ نہ دے کہ ابوبکر کی بیعت اتفاقیہ تھی اور پھر پوری ہوگئی، سن لو کہ وہ ایسی ہی تھی لیکن ﷲ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے جس میں ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جیسی فضیلت ہو، جس شخص نے کسی کے ہاتھ پر مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بیعت کرلی تو اس کی بیعت نہ کی جائے- اس خوف سے کہ وہ قتل کردیے جائیں گے جس وقت ﷲ نے اپنے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی تو اس وقت وہ ہم سب سے بہتر ہے– مگر انصار نے ہماری مخالفت کی اور سارے لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور حضرت علی وزبیر نے بھی ہماری مخالفت کی اور مہاجرین ابوبکر کے پاس جمع ہوئے تو میں نے ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے ابوبکر ہم لوگ اپنے انصار بھائیوں کے پاس چلیں، ہم لوگ انصار کے پاس جانے کے ارادے سے چلے جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک بخت آدمی ہم سے ملے، ان دونوں نے وہ بیان کیا جس کی طرف وہ لوگ مائل تھی پھرانہوں نے پوچھا اے جماعت مہاجرین کہاں کا قصد ہے ہم نے کہا کہ اپنے انصار بھائیوں کے پاس جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا ہم تمہارے لئے مناسب نہیں کہ ان کے قریب جاؤ تم اپنے امر کا فیصلہ کرو میں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم ان کے پاس جائیں گے چناچہ ہم چلے یہاں تک کہ سقیقہ بنی ساعدہ میں ہم ان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو ان کے درمیان دیکھا کہ کمبل میں لپٹا ہوا ہے میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ سعد بن عبادہ، میں نے کہا کہ ان کو کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ ان کو بخار ہے ہم تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ ان کا خطیب کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور ﷲ کی حمدوثناء کرنے لگا جس کا وہ سزاوار ہے- پھر کہا امابعد، ہم ﷲ کے انصار اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین وہ گروہ ہو کہ تمہاری قوم کے کچھ آدمی فقر کی حالت میں اس ارادہ سے نکلے کہ ہمیں ہماری جماعت کو جڑ سے جدا کردیں اور ہماری حکومت ہم سے لے لیں- جب وہ خاموش ہوا تو میں نے بولنا چاہا، میں نے ایک بات سوچی رکھی کہ جس کو میں ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کرنا چاہتا تھا- اور میں ان کا ایک حد تک لحاظ کرتا تھا، جب میں نے بولنا چاہا تو ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے گفتگو کی وہ مجھ سے زیادہ بردباراور باوقار تھے- خدا کی قسم جو بات میری سمجھ میں اچھی معلوم ہوتی تھی اسی طرح یا اس سے بہتر پیرایہ میں فی البدیہہ بیان کی یہاں تک کہ وہ چپ ہوگئے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے جو خوبیاں بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو لیکن یہ امر (خلافت) صرف قریش کے لئے مخصوص ہے یہ لوگ عرب میں نسب اور گھر کے لحاظ سے اوسط ہیں میں تمہارے لئے ان دو آدمیوں میں ایک سے راضی ہوں ان دونوں میں کسی سے بیعت کرلو، چناچہ انہوں نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑا اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے (عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں) مجھے اس کے علاوہ انکی کوئی بات ناگوار نہ ہوئی، خدا کی قسم میں اس جماعت کی سرداری پر جس میں ابوبکر ہوں اپنی گردن اڑائے جانے کو ترجیح دیتا تھا، یا ﷲ مگر میرا یہ نفس موت کے وقت مجھے اس چیز کو اچھا کر دکھائے جس کو میں اب نہیں پاتا ہوں انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ ہم اس کی جڑ اور اس کے بڑے ستون ہیں اے قریش ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے شوروغل زیادہ ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ مجھے اختلاف کا خوف ہوا میں نے کہا اے ابوبکر اپنا ہاتھ بڑھائیے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین نے بھی بیعت کی پھر انصار نے ان سے بیعت کی۔\u003Cbr \/\u003Eاب یہ سوال کرنے ولا عقل کا دشمن ہے حضرت عمر\u0026nbsp; یہاں سیدنا صدیق کے خلیفہ بننے سے پہلے کا حال بتا رہے ہیں ظاہر اس وقت وہ خلیفہ نہیں تھے تو اس وقت اجماع کیسے ہو سکتا ہے ۔یہ سراسر جہوٹ و کذب ہے کہ تمام مہاجرین ابی بکر رضی اللہ عنہ کے مخالف تھے سیدنا عمر نے ایسا نہیں کہا بلکہ صرف علی و زبیر اور کچھ اور لوگ ہی علی کء گھر میں تھےمخالف وہ بھی نہیں تھے انہیں جیسے پتا چلا بیعت کے لئے آگئے ۔ لیکن جب سیدنا صدیق کی خلافت پر انصار نے اجماع کرلیا اور\u0026nbsp; مہاجرین نے بھی بیعت کی پھر علی و زبیر کی بیعت کرنے کے بعد ان کے ساتھ جو تھے انہوں نے بھی بیعت کی۔ تو عقل کے دشمن کیا یہ اجماع نہیں ہوا سب نے بیعت کی۔اس بات سے کس کو انکار ہے کہ انصار نے اپنا خلیفہ چننے کے لئے ہی اجتماع کیا تھا اور پھر اس بات سے کس کو انکا ر ہے کہ سیدنا\u0026nbsp; علی و زبیر بھی الگ تھے لیکن جب ان سب لوگوں نے سیدنا صدیق کی بیعت کر لی تو پھر یہ اجماع ہی ہوا نہ ۔ اب پتا نہیں کہ شیعہ اجماع کسے کہتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eاعتراض 4:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی نے ہرگز حضرت ابوبکر کی بیعت نہ کی اور اپنی مٹھی بند رکھی لیکن جب حضرت ابوبکر نے یہ صورت حال دیکھی تو خود اپنا ہاتھ حضرت علی کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اسی کو اپنی بیعت قرار دے دیا ؟جیسا کہ مسعودی لکھتے ہیں:\u003Cbr \/\u003Eفقالوا لہ : مدّ یدک فبایع ، فأبٰی علیہم فمدّوا یدہ کرھا فقبض علی أناملہفراموا بأجمعھم فتحھا فلم یقدروا فمسح علیھا أبوبکر وھی مضمونة ( اثبات الوصیة: ١٤٦؛ الشّافی ٣: ٢٤٤)\u003Cbr \/\u003Eاس کے باوجو د بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کی بیعت اہل حل و عقد کے اجماع سے واقع ہوئی .کیا اسی کو اجماع واتفاق کہتے ہیں؟ اور پھر اس حدیث ((علیّ مع الحقّ وا لحقّ مع علیّ یدور معہ حیث مادار)) مستدرک حاکم ٣: ١٢٥؛ جامع ترمذی ٥: ٥٩٢ ،ح٣٧١٤؛مناقب خوارزمی :١٧٦،ح ٢١٤؛فرائد السّمطین ١: ١٧٧،ح ١٤٠؛ شرح المواہب اللدنیة ٧: ١٣\u003Cbr \/\u003Eعلی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے .حق اسی طرف پھرتا ہے جہاں علی پھرجائیں.\u003Cbr \/\u003Eالجواب:\u003Cbr \/\u003Eیہ حوالے شیعہ کتب سے ہیں جو کہ ہمارے لئے حجت نہیں ہیں لیکن پھر کچھ عرض کردیتے ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eبیعت علی کا مکمل احوال از شیعہ و سنی کتب سوال 1 میں آگیا لیکن یہ بلکل ہی سفید جہوٹ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ نہیں کھولا تھاعلی نے بیعت کرتے وقت ہاتھ بند نہیں کیا تھا بلکہ خود سیدنا صدیق کو کہا کہ ہاتھ دیں تو انہوں آگے کیا اور علی نے بیعت کرلی ۔\u003Cbr \/\u003Eاس کا صحیح روایت سے ثبوت:\u003Cbr \/\u003Eامام عبداللہ\u0026nbsp; بن احمد بن حنبل اپنی کتاب سنن ص 554 میں نقل کرتے ہین\u003Cbr \/\u003Eفقال علي رضي الله عنه لا تثريب يا خليفة رسول الله ابسط يدك فبسط يده فبايعه\u003Cbr \/\u003Eتو علی نے کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ آپ مجھ\u0026nbsp; سے ناراض نہ ہوں اپنا ہاتھ بڑہائے آپ نے ہاتھ بڑہایا اور علی نے بیعت کرلی۔\u003Cbr \/\u003Eسیدنا علی سیدنا صدیق کی بیعت کے لئے بھاگتے ہوئے آئے تھے حتی کہ وہ ٹھیک سے قمیص بھی نہیں پہن سکے تھے تاکہ بیعت میں دیر نہ ہو جن کا حال یہ ہے اور\u0026nbsp; آپ کہتے ہیں کہ انہوں ہاتھ بند رکھا تھا۔\u003Cbr \/\u003Eتاریخ طبری جلد ۲ صفحہ 448\u003Cbr \/\u003Eعن حبيب ابن أبي ثابت قال كان علي في بيته إذ أتى فقيل له قد جلس أبو بكر للبيعة فخرج في قميص ما عليه إزار ولا رداء عجلا كراهية أن يبطئ عنها حتى بايعه ثم جلس إليه وبعث إلى ثوبه فأتاه فتخلله ولزم مجلس\u003Cbr \/\u003Eحبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ علی اپنے گھر میں تھے کہ کسی نے آکر کہا کہ ابوبکر مسجد میں بیعت لے رہے ہیں تو آپ فور ااٹھے اور قمیص پہنے بغیر اس خوف سے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے گھر سے مسجد آئے بیعت کی اور پھر ابی بکر کے ساتھ بیٹھے رہے اور کسی کو بھیج کر قمیص منگوا کر پہنی اور پھر وہیں بیٹھے رہے۔\u003Cbr \/\u003Eاس سے ظاہر ہوا کہ یہ روایت کہ انہوں ہاتھ بند رکہا تھا کذب ہیں۔\u003Cbr \/\u003Eباقی مستدرک وغیرہ کی روایات کہ حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ حق گو تھے اگر آپ دیکہتے کہ سیدنا صدیق حق پر نہیں ہیں تو ان کی بیعت کبھی نہیں کرتے بلکہ امام حسین کی طرح قربانی دیتے ۔ یہ بات شیعوں کا جاننی چاہئے کہ علی نے سیدنا صدیق کی بیعت کی مطلب وہ حق (یعنی صدیق) کے ساتھ تھے اور حق (صدیق) بھی ان کے ساتھ تھے وہ آپس میں سیر و شکر تھے ۔\u003Cbr \/\u003Eشیعوں اپنی گریبان میں جھانکو۔\u003Cbr \/\u003E\u0026nbsp;اب یہ شیعہ ہیں کہ ایک طرف تو کہتے ہیں علی حق ہیں اور دوسری طرف پھر صدیق کوحق نہین مانتے جسے علی حق مانتے ہیں ۔ اور ہم الحمداللہ ہمیشہ کہتے ہیں علی حق ہر ہیں۔ لیکن شیعہ کہتے ہیںکہ نہیں وہ حق پرست نہیں تھے وہ اپنی جان بچانے کے خاطر اسلام اور اس کے اصولوں کو پیچھے ڈال دیتے تھے۔اور حق سے دستبردار ہوجاتے تھے حق چھپاتے تھے ۔ اندر میں ایک اور باہر میں دوسرے ہوتے تھے ...۔ معاذاللہ اللہ کی لعنت ہو ایسے سوچ رکہنے والوں پر۔\u003Cbr \/\u003Eاعتراض 6:کیا یہ درست ہے کہ امام بخاری نے اسی حدیث کو اپنی کتاب میں چار مختلف مقامات پر نقل کیا ہے لیکن لفظ گناہگار ، خائن ، پیمان شکن کی جگہ کذا وکذا یا ((کلمتکما واحدة))لکھ دیاتاکہ یوں خلافت شیخین کے بارے میں اہل بیت پیغمبر ۖکی منفی نظر سے لوگ آگاہ نہ ہو پائیں؟؟\u003Cbr \/\u003Eکہا جاتا ہے کہ امام بخاری نے باب خمس ، نفقات ،اعتصام اور باب فرائض میں اس روایت کو نقل توکیا لیکن اس میں تبدیلی کردی .کتاب نفقات میں لکھا ہے ( تزعمان أنّ أبابکرکذا وکذا)) اور باب فرائض میں یوں لکھا ہے : ( ثم ّ جئتمانی وکلمتکما واحدة)\u003Cbr \/\u003Eالجواب\u003Cbr \/\u003Eامام بخاری ، ابن عبدالبر اور دیگر محدیثین نے یہ الفاظ مختلف سندوں کے ساتھ نقل کئے ہیں ضروری نہیں کہ انہوں یہ الفاط حذف کر دئے ہوں ہر راوی کا کلام اپنا ہوتا ہے حدیث کا مفہوم و مقصد تو وہی رہتا ہے لیکن راوی کے بیان مختلف ہوتا ہے\u003Cbr \/\u003Eامام بخاری کی سندیں یہ ہیں\u003Cbr \/\u003Eصحیح بخاری ٣: ٢٨٧، کتاب النفقات\u003Cbr \/\u003Eحدثنا سعيد بن عفير قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني مالك بن أوس بن الحدثان وكان محمد بن جبير بن مطعم\u003Cbr \/\u003Eکتاب الاعتصام بالکتاب والسنة\u003Cbr \/\u003Eحدثنا عبد الله بن يوسف حدثنا الليث حدثني عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني مالك بن أوس النصري وكان محمد بن جبير بن مطعم ذكر لي\u003Cbr \/\u003Eکتاب الفرائض\u003Cbr \/\u003Eحدثنا يحيى بن بكير حدثنا الليث عن عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني مالك بن أوس بن الحدثان وكان محمد بن جبير بن مطعم ذكر لي\u003Cbr \/\u003Eکتاب الخمس\u003Cbr \/\u003Eحدثنا إسحاق بن محمد الفروي حدثنا مالك بن أنس عن ابن شهاب عن مالك بن أوس بن الحدثان وكان محمد بن جبير ذكر لي ذكرا من\u003Cbr \/\u003Eكتاب المغازي » باب حديث بني النضير\u003Cbr \/\u003Eحدثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري قال أخبرني مالك بن أوس بن الحدثان النصري أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه\u003Cbr \/\u003Eیہاں تقریبن ہر سند ہی الگ ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ان احادیث کو بیان کرنے میں جو فرق ہے وہ راویوں کی وجہ سے ہو ۔ اب اگر امام بخاری نے اگر یہ الفاط حدیث میں سے ختم کردئے ہیں تو انہوں نے اس کو راوی کا کلام ہی سمجہا ہوگا مثلا۔ ایک روایت راوی کے الفاظ کچھ اور ہونگے دوسری روایت میں دوسرے راوی کے الفاظ\u0026nbsp; کچہ اور ہونگے اور پھر تیسری روایت میں راوی نے کذا کذا وغیرہ کہ کر الفاظ بیان کردئے ہونگے کیوں کہ بعض اوقات ہم ایسے کہ دیتے ہیں کہ اس نے ایسا ایسا کہا (اب اس ایسا ایسا کو\u0026nbsp; پھر راویون نے اپنے اندازوں پر بیان کیا ہوگا کسی نےکہا ہوگا کہ چور ، خائن تو کسی نے کہا ہوگا غاصب وغیرہ)۔ تو امام بخاری نے سمجھا ہوگا کہ یہ راویوں کی ہی بیان کردہ باتیں ہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا کسی کو صحیح معلوم نہیں اس لئے صحابہ سے حسن ظن رکہتے ہوئے یہ الفاط بیان نہیں کئے ہون۔ کیوں کہ انہیں راویوں کے مختلف\u0026nbsp; اندازوں کو بیان کرنے کے بجائے صحابہ سے حسن ظن رکہنا ہی آسان لگا ہوگا۔کیوں کہ صحابہ کی عدالت متفق علیہ ہے۔ یہی بات الماورزی نے کہی ہے امام نووی شرح صحیح مسلم جلد اول ص 90 پر ان سے نقل کرتے ہیں کہ انہون نے کہا اسی وجہ بعض اہل علم نے اپنے نسخہ میں ان الفاظ کو بیان نہیں کیا بلکہ اس کو راوی کا وہم قرار دیا\u0026nbsp; ۔\u003Cbr \/\u003Eجبکہ صحیح مسلم کی دو سندوں کے راوی الگ ہیں اس لئے ممکن ہے کہ امام بخاری سے بیان کرنے والے نے یہ الفاظ نہیں کہے ہوں اور صرف کذا و کذا کہا ہو۔\u003Cbr \/\u003E٭٭٭\u003Cbr \/\u003Eبشکریہ سرونٹ آف صحابہ\u003C\/span\u003E\u003C\/div\u003E\n\u003C\/div\u003E\n"},"link":[{"rel":"replies","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/feeds\/8648136477171789193\/comments\/default","title":"Post Comments"},{"rel":"replies","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_81.html#comment-form","title":"0 Comments"},{"rel":"edit","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/8648136477171789193"},{"rel":"self","type":"application/atom+xml","href":"https:\/\/www.blogger.com\/feeds\/6793833887718883930\/posts\/default\/8648136477171789193"},{"rel":"alternate","type":"text/html","href":"https:\/\/www.sarbakaf.com\/2015\/10\/blog-post_81.html","title":"صدیق کی خلافت و بیعت پر اعتراضات کے جواب"}],"author":[{"name":{"$t":"Sarbakaf"},"uri":{"$t":"http:\/\/www.blogger.com\/profile\/14532797594298636576"},"email":{"$t":"noreply@blogger.com"},"gd$image":{"rel":"http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail","width":"32","height":"32","src":"\/\/blogger.googleusercontent.com\/img\/b\/R29vZ2xl\/AVvXsEhtvwoNjHyOwLDeuaxZ26SYu4o6bymW3_VQUqWvJ_axM6x07cNgRPfGmRl3ViSRf9Hh9ECejnpF0kzl25u3-vpV5AFEFpp-v32L-g3y2DtQQzrDZmeOcB2RixaGCImGCQ\/s220\/sarbakaf.png"}}],"thr$total":{"$t":"0"}}});