ہفتہ، 16 ستمبر، 2017

Learn Hindi [Devanagari] through Urdu - Chapter 3

Learn Hindi [Devanagari] through Urdu - Chapter 3
ہندی (دیوناگری) رسم الخط بذریعۂ اردو ٹیوٹوریل از شکیب احمد

سبق ۳

آداب عرض ہے!
ہندی رسم الخط سیکھنے کے تیسرے سبق میں آپ آ پہنچے ہیں۔
ہم نے ۱۰  دس حروفِ علت میں سے۶ چھ اب تک پڑھ لیے ہیں۔ ذرا دہرائیے تو آپ نے کون سے چھ vowels سیکھے ہیں؟ 
اَ a
آ aa
اِ इ   i
ای ई   ee
اُ u
اُوऊ   oo
اور ان کی ماترائیں بھی تو سیکھی ہیں۔۔۔ وہ بھی یاد ہیں یا نہیں؟ کیونکہ ہم ماتراؤں کا استعمال حروف کی بہ نسبت زیادہ کرتے ہیں۔
اس سبق میں ہم سیکھیں گے صرف ۲ حروفِ علت اور ۴ حروفِ صحیح۔ تو آئیے، شروع کرتے ہیں۔
۲ حروفِ علت: 
اے e
یائے معروف کے لیے آپ نے کون سا حرفِ علت پڑھا تھا؟ وہ جس سے ”ای ی ی ی “ کی آواز نکلتی ہے؟ جی ہاں! ”ایई ee“ جس کی ماترا حرفِ علت کی دائیں جانب لگائی جاتی ہے۔ مثلاً ”ت“ کو ”تی“ کرنا ہو تو اس میں ” ई“ کی ماترا لگائی جائے گی۔ کچھ اس طرح ”ती“۔
آپ کو یاد ہوگا کہ ”ای“ کی ماترا کے وقت ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ یائے ”مجہول“ کے لیے ایک الگ حرفِ علت ہندی میں موجود ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ جس طرح اردو میں ”ای“ کی آواز کے لیے ”ی“ اور ”اے“ کی آواز کے لیے ”ے“ کا استعمال ہوتا ہے، اسی طرح ہندی میں بھی دو الگ حروف استعمال ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اردو میں ”ی“ یا ”ے“ اگر  لفظ کے درمیان میں آجائے تو دونوں کی شکل ایک جیسی ہوتی ہے۔ 
مثلاً : ۱۔ کیل 
۲۔ کیلا
مثال ۱ میں ”ی“ معروف درمیان میں آئی ہے۔ (کی ل)
مثال ۲ میں ”ے“ مجہول درمیان میں آئی ہے۔ (کے لا)
لیکن دونوں کی اشکال میں کوئی فرق نہیں۔ 
جبکہ ہندی میں آواز ”ای“ اور ”اے“ کی اشکال میں ہمیشہ فرق رہے گا۔ یعنی لفظ کے درمیان میں (مثلاً ماترا کی شکل میں) استعمال ہونے پر دونوں کی اشکال الگ ہی رہتی ہیں۔
خیر! تو ہم بات کر رہے تھے ہمارے نئے حرفِ علت ”ए “ کی۔
لکھنے کا طریقہ:
۱۔ پہلے دائیں طرف ایک عمودی/کھڑی لکیر کھینچیں جس کا اختتامی سرا ہلکا سا بائیں جانب اندر مڑا ہوا ہو۔
۲۔ پھر بائیں طرف  بالکل مساوی لمبائی کی عمودی لکیر کھینچیں، اور اس لکیر کو نیچے کی سمت دائیں جانب ترچھا بڑھا دیں۔ (مرحلہ ۲ کی  دونوں لکیریں بغیر قلم اٹھائے بنتی ہیں)
کیسا رہا؟ اس حرف کی شکل دیکھ کے یوں  لگتا ہے جیسے کوئی "لنگڑی" کھیل رہا ہو۔
”اے ए “ کی ماترا:  ◌े
جس حرفِ صحیح consonant کو ”اے“ کی آواز دینا ہو، اس کے اوپر ایک ترچھی لکیر ڈال دیں۔ (یہ ”اے“ کی ماترا ہے۔) مثلاً ”د“ کو ”دے“ کرنے کے لیے ”द“ پر ”اے“ کی ماترا کا اضافہ کیا جائے گا۔ اس طرح ”दे“۔ 
مثالیں(”ए “ اور ” ए “ کی ماترا):
۱۔  ایدھی एधी edhee
۲۔تھے थे the 
۳۔ بے نام बेनाम benaam
آخری مثال میں ”م“ کا حرف خوب اچھی طرح یاد کرلیا تھا یا نہیں؟ پوچھنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ ”م“ یعنی ”म“ اور ”بھ“ یعنی ”भ“ دونوں کی شکل میں بہت ہلکا سا فرق ہے جسے پچھلے سبق میں واضح کر دیا گیا تھا۔ 
چلیے۔ دوسرا حرفِ علت دیکھتے ہیں۔
اَے ai
شکل تو بہت آسان ہے۔پچھلے حرفِ علت اور اس میں   کیا فرق نظر آ رہا ہے؟
لکھنے کا طریقہ:
۱۔ ए کے اوپر بائیں جانب سے نیچے کی طرف ایک ترچھی لکیر کھینچ دیں۔
یاد رکھنے کا طریقہ:
ए میں ए کی ماترا (یعنی ◌े) کا اضافہ کر دیں۔ یہی اصول ऐ کی ماترا کے یاد رکھنے کے لیے بھی کارآمد ہوگا۔
اَے ऐ کی ماترا: ◌ै
کسی بھی حرفِ صحیح consonant  کو ”اَے“ کی آواز دینے کے لیے اس پر دو ترچھی لکیروں کا اضافہ کر دیں جو ایک ہی نقطہ پر آکر ملتی ہوں۔ مثلاً حرف ”م“ یعنی ”म“ کو ”مَے“ کرنے کے لیے اس پر اس طرح ” ऐ “ کی ماترا ڈالیں گے۔ ”मै“
مثالیں(ऐ اور ऐ کی ماترا):
۱۔ ایمن ऐमन aiman
۲۔ میدان मैदान maidaan
۳۔ پیمانہ(ہ=ا) पैमाना paimaanaa
بہت خوب!  یہ ہوئے اس سبق  کے حروفِ علت۔ اب چلتے ہیں حروفِ صحیح کی جانب۔  ایک یاد دہانی اور کراتا چلوں! جس طرح ہم نے سبق – ۲ میں "پھफ" کے نیچے ایک نقطہ لگا کر اسے "فफ़" بنا دیا تھا، یہ نقطہ کا جادو یہاں بھی چلے گا۔
چار حروفِ صحیح:
کَ/ق   ka
لکھنے کا طریقہ:
۱۔ ایک عمودی/کھڑی لکیر کھینچیں۔
۲۔ لکیر کے درمیان میں قلم رکھ کر  بائیں جانب ایک قوس کھینچیں اس طرح کہ عمودی لکیر قوس کا "منہ بند" کر دے۔
۳۔ بغیر قلم اٹھائے دائیں جانب بھی قوس کھینچیں جس کا منہ کھلا ہوا ہو۔
ک क کی شکل دیکھیے۔ ایک بار پھر دیکھیے۔ بائیں قوس کا منہ بند، دائیں قوس کا منہ کھلا ہوا۔ اب یہ مت پوچھ لیجیے گا کہ دائیں قوس کا بھی منہ بند کیوں نہیں کیا گیا؟ بھئی ہو سکتا ہے کہ بائیں قوس  "عمودی لکیر" کی بیوی اور دائیں قوس محبوبہ ہو۔ 
ک لکھنا تو آپ سیکھ گئے، اب مثالیں دیکھ لیجیے، جن میں ابھی ابھی سیکھے گئے حروفِ علت "اے ए " اور "اَے ऐ "اور ان کی ماتراؤں  کا بھی استعمال ہے۔
۱۔ کام काम kaam
۲۔ قدم क़दम kadam
۳۔ ایک एक ek
۴۔ قیدی क़ैदी kaidee
چلیے جناب۔ یہ حرف سیکھنے کے بعد  آپ کو "کام" لکھنا تو آگیا، اب کچھ کر بھی دکھائیے۔
اگلے حرف کی جانب چلتے ہیں جو کہ ک میں "ھ" کے اضافے سے حاصل ہوگی۔
کھَ/خ kha
لکھنے کا طریقہ:
۱۔ اوپر بائیں جانب سے شروع کرتے ہوئے نیچے کی جانب ایک چھوٹا قوس بنائیں۔
۲۔ بغیر قلم اٹھائے ایک قدرے بڑا قوس طشتری کی ماننددائیں جانب  پھیلا کر بنائیں۔
۳۔ دائیں جانب ایک عمودی لکیر یوں کھینچیں کہ "طشتری" کا دایاں سرا اس سے جا ٹکرائے۔
۴۔ عمودی/کھڑی لکیر کے بائیں طرف قوس بنائیں جس کا منہ عمودی لکیر بند کردے۔
نہیں! اب اس شکل میں بھی "بہت آسان ہے" نہیں کہوں گا۔ لیکن بہت مشکل بھی نہیں ہے۔ تھوڑا وقت لگے گا ذہن نشین کرنے میں، لیکن ہو جائے گا۔ مثالیں دیکھ لیجیے، ابھی یاد ہو جائے گا۔
مثالیں:
۱۔ کھیتی khetee खेती
۲۔ کھانا khaanaa खाना
۳۔ خفا khafaa ख़फ़ा
آخری مثال میں نقطے نے"کھख" کو "خ"سے  اور "پھफ" کو "ف" سے بدل کر دو مرتبہ جادو دکھایا ہے۔ 
اگلا حرف دیکھیے۔
گَ ga
اس میں لکھنے کا طریقہ واقعی دیکھا بھالا لگ رہا ہوگا؟
لکھنے کا طریقہ: 
۱۔ ایک عمودی / کھڑی لکیر کھینچیں اور اس کے سرے پربغیر قلم اٹھائے بائیں طرف ایک چھوٹا دائرہ(یا مثلث) بنادیں۔ 
۲۔ دائیں جانب ایک نسبتاً بڑی لکیر کھینچ دیں۔
مثالیں:
۱۔ گانا gaanaa गाना
۲۔ گائے gaae गाए
بہت خوب! اب آج کے سبق کا آخری حرف دیکھ لیجیے۔
گھَ/غ gha
لکھنے کا طریقہ:
۱۔ انگریزی کا الٹا 3 بنائیں جو بائیں جانب ذرا سا جھکا ہوا ہو۔
۲۔دائیں جانب ایک عمودی لکیر کھینچ دیں۔
مثالیں:
۱۔ گھُپ ghup घुप
۲۔ گھی ghee घी
ابہام کا ازالہ ۱:
گھُپ دیکھ کر آپ کچھ کنفیوژ تو نہیں ہو گئے؟ کوئی بات نہیں، شروع میں کچھ کنفیوژن تو چلتا ہی ہے۔ کنفیوشس نے کہا تھا-
" سیکھنے کے دوران آنے والا کنفیوژن یہ یقینی بناتا ہے کہ آپ بہت جلد سیکھنے کا عمل مکمل کر لیں گے، بشرطیکہ آپ سیکھنا جاری رکھیں۔"
سبق – ۲ کی مشق میں ایک لفظ "دھوپधूप " آپ کو ہندی میں لکھ کر اسے انگریزی اور اردو میں لکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔ اب ذرا "دھوپ" اور "گھپ" کا موازنہ دیکھ لیجیے۔
धूप
घुप
"اُउ" اور "اُوऊ" کی ماترا پہچاننے میں تو آپ ماہر ہیں، ہمیں  پتہ ہے اس میں کوئی غلطی نہیں کریں گے۔ توجہ دلانے کا مقصد "دھ " اور "گھ" کی ملتی جلتی اشکال ہیں۔یاد رکھیں۔ اگر شروع میں چھوٹا سا دائرہ ہے تو وہ "دھध" ہے، ورنہ "گھघ "۔
ابہام کا ازالہ ۲: 
خبردار! "بھ" اور" م" کی اشکال کے لیے یہ تیسری بار یاد دہانی ہو رہی ہے۔ اگر اب بھی یہ یاد نہ ہوا تو کہیں آپ نکھٹو شاگردوں میں نہ شامل ہو جائیں!
"بھभ" ، "مम" اور "گग"، تینوں کی اشکال کافی حد تک ملتی جلتی ہیں۔ اس میں کنفیوژن ہو تو یاد رکھنے کے لیےابھی ابھی سیکھے گئے حرف "گग" کو بنیاد بنا لیں۔
۱۔ "گग" کے چھوٹے دائرہ/مثلث اور دائیں جانب کی کھڑی لکیر کو ملانے پر "مम" حاصل ہوگا۔
۲۔ اور "مम " کی شروع میں ایک چھوٹے دائرے سے "بھभ" حاصل ہوگا۔
اشکال ایک بار پھر دیکھ لیں، ذہن نشین کر لیں۔ "گग"، "مम"، "بھभ"۔
اب تو کوئی ابہام نہیں؟
چلتے چلتے کنفیوشس والے اقتباس کے بارے میں جان لیجیے کہ وہ در اصل کنفیوشس کا نہیں ہے۔ہاں  اگر آپ ہمیں کنفیوشس ماننے کو تیار ہیں تو پھر انہیں کا ہے۔ آپ ہی بتائیے، ایسا نصیحت آمیز جملہ اگر ہم براہِ راست سبق کے درمیان شامل کرتے تو آپ کی جمائی کا ذمہ دار کون ہوتا؟ کنفیوشس کے نام کی وجہ سے آپ نے اسے کتنی غور سے پڑھا۔ ہمارا  نام ہوتا تو۔۔۔
خیر! اب آپ مشق کے ساتھ دو دو ہاتھ کریں،  ہم چلتے ہیں۔ اگلے سبق میں ملاقات ہوگی۔
والسلام!
مشق:
۱۔ اپنے کسی دوست کو ہندی میں "گدھے" لکھ کر بھیجیے۔ (ہم منتظر رہیں گے)
۲۔ ذیل کے الفاظ کو ہندی اور انگریزی رسم الخط میں لکھیے۔
عیب، باغی، خوفناک، غبن
۳۔ "کب کام آؤ گے بھائی؟"
"بھون کے مت کھا!"
اوپر لکھے دونوں جملے ہندی رسم الخط میں لکھیے۔
۴۔ ذیل کے ہندی متن کو اردو رسم الخط کا جامہ پہنائیے۔
मई की धूप
आख़ थू!
तू गाना गाता था?
۵۔ بلا کسی ہچکچاہٹ کے سبق پر تبصرہ و تنقید سے نوازیں کہ کس پہلو پر زیادہ زور دیا جانا چاہیے؟ طریقہ کار میں کیا تبدیلی کی جا سکتی ہے جس سےآپ کے لیے  سیکھنا اور آسان ہو سکے؟ کوئی تجویز جو سیکھنے کے عمل میں معاون ثابت ہو؟  سبق کا کون سا حصہ آپ کو مشکل لگتا ہے؟
 ٭٭٭

2 تبصرے:

  1. بہت خوبصورت طریقہ تعلیم ہے۔
    ایک گزارش ہے کہ سب سے پہلے حروف الگ الگ بیان کر دیں اس کے بعد حروف علت اور دیگر مجموعات احرف۔
    اس کے بعد کلمات مشترکہ اور پھر جملے۔
    مجموعی طور پر آپ کا طریقہ تدریس انتہائی عمدہ اور سہل الفہم ہے۔ الحمداللہ۔

    جواب دیںحذف کریں