بدھ، 13 ستمبر، 2017

عقائد علماء اہلحدیث...تیسری اور آخری قسط

عباس خان ﷾

عقیدہ نمبر 31
اگر امام کی نماز فاسد ہو جائے تو فقط امام نماز لوٹائے مقتدی نہیں۔
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب فرماتے ہیں:
امام حالت جنابت یا بغیر وضو کے نماز پڑھا دے یا کسی وجہ سے اس کی نماز فاسد ہو جائے تو فقط امام اپنی نماز لوٹائے مقتدیوں کو لوٹانے کی ضرورت نہیں اور نہ  ہی امام کا ذمہ ہے کہ وہ مقتدیوں کو یہ بتائے کہ  میں نے اس حالت میں نماز پڑھا دی ہے۔ (نزل الابرار ج 1 ص 101)
جبکہ  نبی کریمﷺ نے امام کو ضامن قرار دیا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر اسکی نماز صحیح ہو گی تو مقتدیوں کی بھی صحیح ہو گی اور اگر اس کی نماز فاسد ہو گی تو مقتدیوں کی بھی فاسد ہو گی۔
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار ہوتا ہے ۔
(مسند احمد ج 9 ح 4341)

عقیدہ نمبر 32
نا پاک اور پلید کپڑوں میں نماز بلکل صحیح ہے۔
نواب نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
ناپاک کپڑوں (جن پر پیشاب ، پاخانہ  وغیرہ گند لگا ہو) میں نماز صحیح ہے۔(عرف الجادی ص 21)
نواب صدیق حسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
”نمازی کے جسم پر نجاست (پیشاب، پاخانہ) لگا ہوا ہوا ہو تو بھی نماز باطل نہیں“۔ (بدور الاہلہ ص 38)

عقیدہ نمبر 33
گدھی کتیا  سورنی سب کا دودھ اہلحدیث کے ہاں پاک ہے۔
مجدد اہلحدیث نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں
” گدھی کتیا ، سورنی سب کا دودھ پاک ہے“۔ (بدور الاہلہ ص 18)
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
”کتے اور خنزیر کا جھوٹا پانی ، دودھ وغیرہ بھی پاک ہے“۔ (نزل الابرار فقہ نبی المختار ج 1 ص 30)


عقیدہ نمبر 34
توسل شرک  اور ناجائز ہے۔
مولوی محمد احمد  غیرمقلد صاحب لکھتے ہیں:
وسیلہ کا یہی وہ غیر مشروط طریقہ ہے جو انسان کو شرک میں مبتلا کر دیتا ہے۔(فتاویٰ صراط مستقیم ص 75)
طالب الرحمٰن زیدی صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
کسی فوت شدہ نبی یا وی کا وسیلہ دینا جائز نہیں۔ (آئیے عقیدہ سیکھئے ص 159)
جبکہ حدیث  میں ہے کہ
حضرت انس  ؓ فرماتے ہیں  کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں قحط پڑتا تو حضرت عمرؓ حضرت عباسؓ کے وسیلے سے اس طرح دعا کرتے 
«اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» (بخاری ج1 ص 137)
ایک اور حدیث میں  ہے
حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسَ المُقْرِي الْمِصْرِيُّ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ ” أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ , فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ , وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حَنِيفٍ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حَنِيفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ , إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي , وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ , وَرُحْ إِلَيَّ حَتَّى أَرُوحَ مَعَكَ , فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ , فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ عُثْمَانُ , ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ , فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ , فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ , وَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ , فَقَضَاهَا لَهُ , ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا ذَكَرْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ , وَقَالَ: مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ , فَأْتِنَا , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ , فَقَالَ: لَهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا , مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي , وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ
حضرت عثمانؓ بن حنیفؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عثمانؓ کے پاس ضرورت کیلئے آیا جایا کرتا تھا اور حضرت عثمان (غالباً  مصروفیت کی وجہ سے) اس کی طرف توجہ نہ فرماتے وہ شخص حضرت عثمان بن حنیفؓ سے ملا اور اس کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ وضو  کرکے مسجد میں جا کر  دو رکعات نماز پڑھو اور پھر کہو اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپکی طرف متوجہ ہوتا ہوں ہمارے پیارے نبیﷺ کے وسیلے سے۔
(معجم الصغير ج 1 ص 183-184  صحیح )

عقیدہ نمبر 35
عیسائیوں کا قبضہ بھی دارلاسلام ہوتا ہے۔
وکیل اہلحدیث محمد حسین بٹالوی صاحب لکھتے ہیں:
ہندوستان باوجود  یہ کہ عیسائی سلطنت کے قبضہ میں ہے دارالاسلام ہے۔٭(الاقتصاد فی مسائل اجہاد ص 25)

عقیدہ نمبر 36
حضرت عیسیٰؑ کے والد کا اثبات۔ العیاذ باللہ
مشہور غیرمقلد عالم عنایت اللہ اثری صاحب لکھتے ہیں:
عیسی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ تو اپنا شوہر اور اس کا باپ بتا رہی ہے اور باپ بیٹا بھی دونوں اسے تسلیم فرما رہے ہیں مگر صدیوں بعد لوگوں نے انہیں بے پدر بتایا اور آپ کی والدہ کو بے شوہر بتایا کیا خوب ہے۔(عیون زمزم ص 40)
نوٹ:
اس عقیدہ میں حضرت عیسیؑ کے لئے والد ثابت کیا گیا ہے حالانکہ حضرت عیسیٰؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے قرآن یہی بتاتا ہے۔

عقیدہ نمبر 37
مرزئیوں کے پیچھے نماز پڑھنا
مولوی عبد العزیز صاحب سیکرٹری جمعیہ مرکزیہ اہلحدیث ہند لاہور صاحب ،غیرمقلد ثناء اللہ امرتسری صاحب (جو کہ فرقہ اہلحدیث کے  ہاں شیخ الاسلام ہیں )کے بارے میں لکھتے ہیں۔
”آپ (ثناء اللہ امرتسری صاحب) نے لاہوری مرزئیوں کے پیچھے نماز پڑھی“۔
”آپ نے فتویٰ دیا کہ مرزئیوں کے پیچھے نماز جائز ہے“
”آپ نے مرزئیوں کو عدالت میں مرزئی وکیل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مرزئیوں کو مسلمان مانا“۔
العیاذ باللہ
(فیصلہ مکہ ص 36)


عقیدہ نمبر 38
جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا ضروری نہیں۔
چنانچہ نواب نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
ذبح کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی تو خیر ہے کھاتے وقت پڑھ لے۔(عرف الجادی 239)

عقیدہ نمبر 39
کپڑوں پر اگر حلال جانوروں کا پیشاب پاخانہ لگا ہوا ہو تو اس میں پڑھنی درست ہے۔
چنانچہ فرقہ اہلحدیث کے  ایک بڑے عالم لکھتے ہیں:
”اور جس کپڑے پر وہ (حلال جانوروں کا پیشاب پاخانہ) لگا ہوا ہو اس میں نماز پڑھنی درست ہے“۔٭
(فتاویٰ ستاریہ ج 1  ص 105)

عقیدہ نمبر 40
نماز کی طرف دعوت دینا درست نہیں۔
فرقہ اہلحدیث کے بڑے عالم طالب الرحمن صاحب کی ایک بڑی حماقت  لکھتے ہیں:
”کیا لوگوں کو نماز کی دعوت دینا اسوۂ رسولﷺ ہے ۔ اگر نہیں تو پھر نبیﷺ کے طریقے کو کیوں نہیں اپنایا جاتا“۔ (یعنی نماز کی دعوت نہ دی جائے)٭
(تبلیغی جماعت عقائد و نظریات ص 10)

عقیدہ نمبر 41
کتا پاک ہے اور اس کا پاخانہ بھی نجس نہیں۔
فرقہ اہلحدیث کے ایک بڑے  عالم جنہیں فرقہ اہلحدیث امام شوکانی کے نام سے جانتی ہے لکھتے ہیں:
حدیث کی وجہ سے صرف کتے کا لعاب نجس ہے علاوہ ازیں اس کی بقیہ مکمل ذات یعنی گوشت ، ہڈیاں ، خون بال وغیرہ پاک ہے کیونکہ اصل طہات  ہے اور اس کی ذات کی نجاست کے متعلق کوئی دلیل  موجود نہیں“۔
(فقہ الحدیث ص 147)
کتے کا پاخانہ بھی پاک ہے۔
چنانچہ امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
اور لوگوں (غیرمقلدین) کا  اس میں بھی اختلاف ہے کہ کتے کا پاخانہ  نجس ہے یا نہیں لیکن حق بات یہ ہے کہ اس کے نجس ہونے کی کوئی دلیل نہیں“۔(نزل الابرار ص 50)
نواب نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
کتے اور خنزیر کے پلید ہونے کا دعویٰ ٹھیک نہیں۔(عرف الجادی ص 10)
عقیدہ نمبر 42
صحابہ کرامؓ میں سے بعض لوگ فاسق تھے العیاذ باللہ
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں سے جو فاسق تھے جیسے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہایے ہی   معاویہ رضی اللہ عنہ، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ، مغیر بن شیبہ رضی اللہ عنہاور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہکے متعلق۔
(نزل الابرار ج 3 ص 94)
نعوذ باللہ من ذالک

عقیدہ نمبر 43
رام چندر اور لکشمن نبی ہیں اور انہیں نبی ماننا واجب ہے۔
فرقہ اہلحدیث کے امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں۔
ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم دیگر انبیاء کی نبوت کا انکار کریں جن کا ذکر اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں نہیں کیا اور کافروں میں تواتر کے ساتھ وہ معروف ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ نیک انبیاء  تھے جیسے رام چندر لچھمن کرشن جی جو ہندؤں میں ہے اور زراتشت جو فارسیوں میں ہیں اور کنفیوس اور مہاتما بدھ جو چین اور جاپان میں ہے اور سقراط  جو یو نان میں ہیں ہم پر واجب ہے کہ ہم یوں کہیں ہم ان تمام انبیاء پر ایمان لائے اور ان میں  کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے  اور ہم سب کے فرمان بردار ہیں۔(ہدایۃ المہدی ص 85)
حافظ عبد القادر صاحب روپڑی غیرمقلد اس کا دفاع کرتے ہوئے فرماتےہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں بعض انبیاء کا ذکر آیا ہے اور بعض کا نہیں آیا۔۔۔۔ آگے فرماتے ہیں۔۔۔ اللہ تعالٰی نے عرب کے سوا اور نبیوں کا ذکر نہیں کیا جیسے ہندوستان ، چین ، یونان ، فارس ، یورپ  افریقہ ، امریکہ جاپان اور برما وغیرہ ۔۔۔۔  اس لئے  ان نبیوں کی نبوت سے انکار کرنا جائز نہیں۔۔۔۔ (آگے امام اہلحدیث وحید الزمان صاحب کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں۔) پس ہم پر واجب ہے کہ ہم کل انبیاء  پر ایمان لاویں اور ان میں سکی میں تفریق نہ کریں۔٭
(فتوحات اہلحدیث ص 148)
اگر قران پاک میں سب انبیاء کا ذکر نہیں آیا تو اس کا کیا مطلب ہے کہ کہیں سے بھی پکڑ پکڑ کے انبیاءٰ کی تعداد کو پورا کیا جائے؟ اور انہیں نبی ماننے کو واجب قرار دے دیا جائے؟ اور واجب کا انکاری گنہگار ہوتا ہے لیکن غیرمقلدین کے ہاں واجب اور فرض ایک ہی ہیں  لہذا   ان کے عقیدے کے مطابق رام چندر وغیرہ کو نبی نہ ماننے والا کافر ہوا؟

عقیدہ نمبر 44
نبی کریمﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں۔
مشہور  اہلحدیث نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:
”چنانچہ حضور اکرمﷺ نماز پڑھنے والوں کی ذات میں موجود اور حاضر ہوتے ہیں اسلئے نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ اس بات کا خصوصیت کے ساتھ خیال رکھے اور آپﷺ کی اس حاضری سے غافل نہ ہو“۔
(مسک الختام فی شرح بلوغ المرام ص 259-260)

عقیدہ نمبر 45
غیر اللہ سے مدد 
غیرمقلد عالم غلام رسول صاحب نبیﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
رحم یا نبی اللہ ترحم
یعنی  رحم کر اے اللہ کے نبی رحم کر
چونکہ جاہل غیرمقلدین کے ہاں کفر و شرک کے کوئی اصول متعین نہیں اسلئے ان کا جہاں جی چاہتا ہے کفر کفر کے فتوے لگاتے ہیں۔
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب  فرماتے ہیں:
قبلۂ دیں مددی، کعبۂ ایماں مددی 
ابن قیم مددی قاضئ شوکاں مددی
ترجمہ:
اے میرے دین کے قبلہ مدد کر اے میرے ایمان کے کعبہ مدد کر اے ابن قیم مدد کر اے قاضی شوکانی مدد کر۔
(ہدیۃ المہدی صفحہ 23)
نواب صدیق حسن خان صاحب فرماتے ہیں :
یا سیدی یا عروتی و وسیلتی
و یا عدتی فی شدۃ ورخائی 
قد جئت بابک ضارعا متضرعا 
متاوھا بتفنس الصد بتنفس الصعداء
مالکی ورائک مستغاث فارحمن 
یا رحمۃ للعالمین بکائی
ترجمہ:
اے میرے آقا اے میرے سہارے اور اے میرے وسیلے اور اے خوشحالی و بدحالی میں میری متاع میں روتا گڑ گڑاتا اور ٹھنڈی آہیں بھرتا ۔ آپ کے درپہ آیا ہوں آپ کے علاوہ میرا کوئی فریاد رس نہیں  ۔ سو اے رحمۃ للعالمین میری گریہ وزاری پر رحم فرما۔(ماثر صدیقی  ج 2 ص 30- 31)
غیرمقلدین سے سوال ہے کہ کیا ان کے یہ علماء مشرک ہوئے یا نہیں؟
 چونکہ غیرمقلدین کے ہاں کسی  پر کوئی فتوی دینا یا اس کی تکفیر کرنے کوئی احتیاط نہیں اسلئے غیرمقلدین کے ان علماء کا مشرک ہونا لازم آتا ہے۔

عقیدہ نمبر 46
زیادہ بھوک لگتی ہو تو روزہ معاف
نوب نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
روزہ رکھنے کیلئے استطاعت شرط ہے اس لئے جس کو بہت بھوک پیاس لگتی ہو یا جس کو بہت بھوک لگتی ہو اس کو روزہ رکھنا واجب نہیں۔
(عرف الجادی ص 80)

عقیدہ نمبر 47
عام عورتوں کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
عورتوں کو جائز ہے کہ غیر مردوں کو دیکھیں البتہ ازواج مطہرات کو یہ منع تھا۔(نزل الابرار ج 3 ص 74)
مجدد اہلحدیث نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:
پردہ کی آیات خاص ازواج مطہرات ہی کے بارے میں وارد ہوئی ہیں امت کی عورتوں کے واسطے نہیں ہیں۔
(البیان المرصوص ص 168)
نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
وہ آیت جن میں  پردہ کرنے کا حکم ہے وہ صرف رسول خداﷺ کی بیویوں کے ساتھ مختص ہے۔
(عرف الجادی ص 52)

عقیدہ نمبر 48
ماں بہن بیٹی وغیرہ  کی قبل و دبر کے سوا پورا بدن دیکھنا جائز ہے۔
نور الحسن صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
ماں بہن بیٹی وغیر ہ کی قبل و دبر (یعنی اگلی پچھلی شرمگاہ) کے سوا پورا بدن دیکھنا جائز ہے۔(عرف الجادی ص 52)

عقیدہ نمبر 49
کافر کے پیچھے نماز جائز 
امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں:
ولو اخبر بعد الصلوۃ بانه کافر فلا يعيدون
نماز پڑھانے کے بعد کافر نے  بتلایا کہ وہ کافر ہے تو بھی مقتدی اپنی نماز  کو نہیں دہرائیں گے۔(کنز الحقائق ص 24)
غیرمقلدین کا اس پر عمل:
خود غیرمقلدین کے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب مرزئیوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے(فیصلہ مکہ ص 36)

عقیدہ نمبر 50
قضا نمازیں معاف
نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں
اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ  جو نماز بلا عذر شرعی چھوڑ دی گئی ہو اس کی قضا واجب ہے۔(عرف الجاد ی ص 35)

علماء اہل حدیث اور ان کی تربیت کردہ  انکی نجس عوام کے چند عقائد و نظریات  جو ان میں پائے جاتے ہیں اور کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
1۔کرامت صاحب کرامت کے اختیار میں ہوتی ہے اللہ کے نہیں۔ 
2۔فقہاء سب گمراہ تھے۔
3۔نماز میں  آہستہ آمین کہنے والا یہودی ہے۔
جبکہ  خود یہ لوگ صرف فرض نماز میں دو جگہ اونچی آمین کہتے ہیں اور بقیہ 22 جگہ پر یہودیوں کی طرح کھڑے رہتے ہیں اور عورتین تو ان کی ہر وقت ہی یہودیوں کی طرح  نماز پڑھتی ہیں۔ 
4۔اجماعی  اور غیر اجتہادی مسائل میں اجتہاد کا کرنا
5۔قرآنی تعویذ لٹکنا بھی شرک ہے۔
6۔جہاں اللہ اب موجود ہے وہاں مخولوقات کو پیدا کرنے سے پہلے موجود نہ تھا
7۔قبر میں جسم عذاب و ثواب سے بری ہوتا ہے۔ 
8۔تین طلاق تین نہیں۔
9۔ قبر میں روح کے لوٹنے کا انکار 
جبکہ قبر میں روح کا لوٹنا صحیح صریح حدیث سے  بھی ثابت ہے۔
” حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک انصاری کے جنازہ کیلئے نکلے  اور قبرستان میں پہنچے لیکن ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی آپﷺ بھی وہاں جلوہ افروز ہوئے اور ہم بھی آپﷺ کے پاس ہی بیٹھ گئے آپ نے (ایک طویل حدیث میں)  مومن اور کافر کی وفات کا تذکرہ فرمایا اس میں مومن کے بارے میں یہ ارشاد  مذکور ہے کہ :
 ”مومن کی روح کو پھر (مرنے کے بعد) ساتوں آسمان پر پہنچا دیا جاتا ہے اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ میرے بندے کا نام علیین میں درج کر دو اور اس کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ میں نے ان کو زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی میں ان کو لوٹاؤنگا اور اسی سے دوسری مرتبہ نکالوں گا پس اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں ”من ربك“ تمہارا رب کون ہے۔۔۔ الخ“
اور اسی حدیث میں کافر کے بارے میں یہ الفاظ مذکور ہیں کہ 
”آسمانوں کے دروازے اس کیلئے نہیں کھلتے اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اس کی کارگذاری اور نام وغیرہ سجین میں لکھ دو جو ساتویں زمین میں ہے پھر اسکی روح وہاں سے پھینکی جاتی ہے پھر آپؐ نے ارشاد خدا وندی پڑھا کہ جو شخص اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرتا ہے پس گویا کہ وہ آسمان سے گرا اور اس کو پرندے اچک کر لے گئے یا ہوا نے  گہرے گڑھے میں ڈال دیا۔ اور پھر اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں ”من ربك“ تیرا رب کون ہے ۔۔۔ الخ“
امام حاکمؒ اس روایت کی متعدد اسانید نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
«هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِالْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو وَزَاذَانَ أَبِي عُمَرَ الْكِنْدِيِّ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ فَوَائِدُ كَثِيرَةٌ لِأَهْلِ السُّنَّةِ وَقَمْعٌ لِلْمُبْتَدِعَةِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِطُولِهِ، وَلَهُ شَوَاهِدُ عَلَى شَرْطِهِمَا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى صِحَّتِهِ» .
”یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔(اگے فرماتے ہیں) اس حدیث میں اہل سنت کے لئے کئی فوائد اور اہل بدعت کے عقائد کے قلع قمع کا خاصا ثبوت موجود ہے“۔ 
[المستدرك على الصحيحين : کتاب الإيمان :أَمَا حَدِيثُ مَعْمَر]
10۔اللہ کی صفت حاضر ناظر کا انکار
11۔ بدعی طلاق کو واقع نہ کرنے فتویٰ دینا
12۔ سلف احناف پر لعن طعن کرنا۔
13۔بزرگ گان دین کے اشعار  اور  صوفیا کی عبارات میں سے من پسند عقیدہ اخذ کرکے اس کی تکفیر کر لینا۔
14۔ اولی الامر سے فقیہ مراد لینے کو غلط کہنا
حضرت جابر بن عبداللہ  ؓ” اس آیت  (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں  ہیں کہ أُولِي الْفِقْهِ وَالْخَيْر”اولی الامر سے مراد  فقہ  والے ہیں“ یعنی کہ فقہاء کرام  ہیں۔امام حاکمؒ  اس کو حدیث کونقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ”یہ حدیث صحیح ہے“۔(مستدرک علي الصحیحین جلد۱ص۲۱۱:صحیح)
محدثین کے قاعدے کے مطابق صحابی کی تفسیر مسند اور مرفوع ہوتی ہے  یعنی آنحضرتﷺ کا فرمان ہوتی ہے اور اس کی طرح حجت ہوتی ہے۔
★امام حاکم ؒ فرماتے ہیں:
” تَفْسِيرَ الصَّحَابِيِّ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ“ ۔(المستدرك على الصحيحين ج۱ صفحہ ۷۲۶)
”صحابی کی تفسیر مسند ہوتی ہے“۔(یعنی آنحضرتﷺ کا فرمان ہوتی ہے)
15۔ائمہ اربعہؒ کے اجتہادی اختلافات کو قرآن سنت کی طرح لوٹانے کا دعویٰ کرکے خود عقائد میں بھی ایک دوسرے سے اختلاف کر لینا۔
16۔ ائمہ کے اجتہادی اختلافات کو گمراہی قرار دینا اور اپنے فروعی و اصولی دونوں اختلافات کو حق قرار دینا۔
17۔فقہ کے متعلق بدگمانیاں پھیلانا۔
18۔فقیہ کے کسی  غیر شرعی فعل  پر  کوئی شرعی حکم بتانے کو غلط کہنا۔
19۔ قرآن و سنت سے مسائل اخذ کرنے کا دعویٰ کرنا اور گند اور کچرہ جمع کرنا۔
20۔اپنے آپ کو فقہاء سے زیادہ حدیث کے سمجھنے والا کہنا۔
21۔ قرآن و حدیث کے ظاہری معنی پر اکتفاء کرلینا اور تفقہ حاصل نہ کرنا۔
22۔سماع موتیٰ کو شرک قرار دینا
جبکہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:
«وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ»[ المستدرك على الصحيحين (ج/1ص/536)  سندہ صحیح]
”  اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ (مردہ) اسوقت جوتیوں کی کھٹکھٹاہٹ سنتا ہے جب لوگ اس سے واپس ہوتے ہیں“۔
 امام حاکمؒ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ یعنی یہ حدیث صحیح ہے مسلم کی شرط پر۔
اس صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ مردہ دفن کے بعد قبر میں قبر سے واپس ہونے والے لوگوں کی جوتیوں کی کھٹکھٹاہٹ  اور آواز سنتا ہے اور جب یہ سنتا ہے تو انسانوں کی آواز بطریق اولٰی سنتا ہے۔ لیکن اس کے سننے سے یہ  بات نہیں کہ وہ سن کر  کسی کی کوئی مدد بھی کر سکتا ہے جیسا آج کل جاہل مشرکین کا خیال ہوتا  ہے اور یہ بھی نہیں کہ ان مشرکین کے ڈر سے بندہ نبیﷺ کی حدیث کا ہی انکار کر  دے۔
23۔غیر مدخولہ کو ایک لفظ سے تین طلاق دینے کو واقع نہ سمجھنا۔
24۔علماء سلف کی عبارات کو توڑ موڑ کر پیش کرنا اور ان کی طرف جھوٹ منسوب کر دینا۔ 
25۔فقہاء کرام پر کافروں والی آیات فٹ کرنا۔
26۔حدیث کے معنی میں صحابی کو بھی چھوڑنا تابعی کو بھی چھوڑنا اور ان کے خلاف اپنا من گھڑت معنی بیان کرنا۔
27۔اللہ کی ذات جہاں  مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے تھی اب وہاں نہیں ہے۔ 
28۔عرش اور اللہ  کی ذات کے درمیان بھی  ایک  فاصلہ غیر اللہ یعنی مخلوق ہے۔
29۔تین طلاق کو تین ماننا گمراہی ہے۔ 
30۔حدیث اور سنت میں کوئی فرق نہیں۔
31۔عورتیں بھی مردوں کی طرح ٹانگیں چوڑی کرکے نماز پڑھیں
32۔جماعت اہلسنت حنفی شافعی مالکی حنبلی کے مقابلے میں شیعوں اور مرزئیوں کے عقائد و مسائل کو ترجیح دینا
33۔ فاتحہ کے قرات ہونے کا انکار
34۔تواتر کا انکار
35۔قرآن حدیث کو جان چھڑانے کا ذریعہ بنانا۔
36۔ضعیف اور موضوع حدیث میں کوئی فرق نہ کرنا۔
37۔اپنی ذاتی تحقیق سے فقہ لکھ کر اسے نبیﷺمعصوم  کی طرف منسوب کر دینا۔
38۔نبیﷺ کی قبر اطہر کے پاس یہ عقیدہ رکھ کر صلاۃ سلام پیش کرنا ہے کہ نبیﷺ یہ نہیں سن رہے
39۔ اپنی ہر  غلطی کو اجتہادی خطا کا نام دے دینا
40۔اللہ کی صفات متاشابہات کو لغت سے سمجھنا۔
41۔امام ابو حنیفہؒ پر لعن طعن کرنا۔
42۔ بلا دلیل بات کی پیروی کو اتباع کہنا غلط ہے۔
43۔طلاق کی دل میں نیت سے بھی نکاح نہیں ہو گا بلکہ زنا ہوگا
44۔حد نہیں کا مطلب جائز ہونا ہوتا ہے۔ 
غیرمقلدین کے کئی جاہل علماء نے فقہ کے خلاف اپنی کتب اور تقاریر میں ایسا کہا ہے اور کہتے ہیں اور انکی عوام بھی یہی کہتی ہے۔ 
اب  ذرہ یہ لوگ ایک سوال کا جواب دیں کہ 
پیشاب پینے پر کتنی حد ہے؟
اگر  حد ہے تو حد دکھائیں  اگر نہیں ہے تو پی کر دکھائیں۔ 
٭٭٭

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں