ہفتہ، 16 ستمبر، 2017

Learn Hindi [Devanagari] through Urdu - Chapter 2

Learn Hindi [Devanagari] through Urdu - Chapter 2

ہندی (دیوناگری) رسم الخط بذریعۂ اردو ٹیوٹوریل از شکیب احمد

سبق ۲

سر بکف کی اشاعت کی مصروفیت(جسے پہلے ہی ہفتہ بھر تاخیر ہو چکی تھی) کے سبب ہم یہاں کا  سبق جلد پیش نہیں کر سکے، اس کے لیے ہماری جانب سے دلی معذرت قبول فرمائیں۔ لیکن اس تاخیر کا ازالہ کرنے کے لیے اس سبق میں ۲ کی بجائے ۴ حروفِ علت مزید شامل کیے ہیں۔
آپ لوگوں کے سیکھنے کی رفتار اور امنگ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ کیا یہ بات آپ کو عجیب نہیں لگتی کہ وہ رسم الخط جو پاکستان والے”ذرا“ سی محنت سے محض چھ یا سات اسباق میں سیکھ سکتے ہیں، اسے اب تک آپ سے دور کیوں رکھا گیا ہے؟ یا یہ کہ ہندوستانی فلموں میں تھوک کے بھاؤ سے اردو الفاظ استعمال کرنے کے باوجود عوام کو اردو سے کیوں دور رکھا گیا ہے؟   ہند و پاک کی سیاست نے عوام کی دوریاں بڑھا دی ہیں۔ یہ اسباق بھی انہیں دوریوں کو مٹانے کی ایک کوشش ہے۔
چلیے! بہت باتیں ہو گئیں۔ اگلے سبق کی جانب چلتے ہیں۔
اس سبق میں ہم ہندی کے مزید ۴ حروفِ علتVowels اور ۵ حروفِ صحیح Consonants سیکھیں گے۔ 
۴ حروفِ علت( Vowels)
اِ
इ 
i
لکھنے کا طریقہ:
۱۔ ایک بہت ہی مختصر سی عمودی/کھڑی لکیر کھینچیں۔
۲۔ انگریزی کا sبنائیں۔
۳۔ آخر میں ایک ”دُم“ بنا دیں۔ خیال رہے کہ پورا حرف لکھتے وقت ایک بھی مرتبہ قلم کاغذ سے اٹھنا نہیں چاہیے۔
یہ زیر کی حرکت ہے۔ اس کی مثالیں دیکھیے۔
۱۔ اِتنا इतना itnaa
۲۔ عِناد इनाद inaad
 آپ نے پہلے سبق میں پڑھا ہے، یاد دہانی کے لیے دہرا لیجیے۔ اگر حروفِ علت کو  کسی حرفِ صحیحconsonant کے ساتھ استعمال کرنا ہو تو دوسری اور مختصر شکل استعمال کی جاتی ہے جسے ”ماترا“ کہتے ہیں۔ مثلاً  आکودرمیان میں استعمال کرنے کے لیے आ کی ماترا(◌ा) استعمال کی جائے گی۔ جیسے दादा
इ کی ماترا: ि
غور سے دیکھیے۔ یوں لگتا ہے گویا اگلے حرف پر سایہ کیا جا رہا ہو۔ کسی بھی حرفِ صحیحconsonant پر آپ نے زیر کی حرکت ڈالنی ہے، تو آپ ”اس کے پہلے“ یہ ماترا ڈالیں گے۔
مثلاً
دِن दिन din
نِدا निदा nidaa
آسان لگا؟ اگلا حرفِ علت اس سے بھی آسان لگے گا۔
اِی/عی
ई 
ee
ई کی ماترا: ◌ी
کیا نئی بات نظر آئی؟ مجھے پورا یقین ہے کہ ”لکھنے کا طریقہ“ تو آپ خود ہی سمجھ گئے ہوں گے۔
لکھنے کا طریقہ: 
۱۔इ  بنا کر اس کے اوپر ایک”جھٹکا“ لگا دیں۔ خیال رہے، یہ جھٹکا ”چھت“ کے اوپرباہر  کی جانب ہے۔
اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ یہ ”ای“ کی آواز یائے معروف کے ساتھ ہے۔ یعنی ”ای ی ی ی ی ی ی“۔ یائے مجہول یعنی ”اے“ کے لیے الگ حرفِ علت ہے جسے ہم اگلے سبق میں نمٹائیں گے، ان شاء اللہ۔ 
ई کی ماترا بھی بالکل इ کی ماترا کی مانند ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ इ کی ماترا(ि) حرفِ صحیح consonant کے بائیں جانب تھی، اور ई کی ماترا(◌ी) دائیں جانب ہے۔
مثالیں(”ای“ اور اس کی ماترا):
۱۔ عید ईद eed
۲۔ دھنی धनी dhanee
۳۔ تین तीन teen
اگلا حرفِ علت دیکھتے ہیں۔
اُ
उ 
u
بہت ہی آسان شکل ہے۔ یہ پیش کی حرکت ہے۔
لکھنے کا طریقہ: 
۱۔ انگریزی کا 3بنادیں۔
उ کی شکل اور ہمارے سیکھے گئے پہلے حرفِ علت ” अ “  سے ملتی ہے۔ فرق واضح ہے۔  अ میں ہم 3بنانے کے بعد ایک چھوٹی افقی لکیر اور پھر ایک عمودی لکیر کا اضافہ کرتے ہیں۔ جبکہ उ میں ایسا کچھ نہیں ہے، محض انگریزی کا 3 ہے۔ اور چھت تو ہر جگہ ڈالنی ہی پڑتی ہے۔
उ کی ماترا:  ◌ु
کسی بھی حرفِ صحیحconsonantمیں◌ु کا اضافہ کرنے سے اس پر پیش کی حرکت لگ جاتی ہے۔
مثالیں(उ اور उ کی ماترا):
۱۔ اُسامہ उसामह usaamah
۲۔ دُھن धुन dhun
جس حرف پر پیش لگانا ہو اس حرف کے نیچے◌ु لگا دیں۔ 
خوب!  اگلے حرفِ علتvowel کی جانب چلیں؟ 
اُو
ऊ 
oo
یہ کیسا نظر آ رہا ہے؟ یہ در اصل उ ہی کی شکل کی دائیں جانب ایک ”جھٹکے“ کا اضافہ ہے۔
لکھنے کا طریقہ:
۱۔ انگریزی کا 3 تین بنائیں۔
۲۔ دائیں جانب ایک جھٹکے کا اضافہ کر دیں۔
اُو ऊ  کی ماترا: ◌ू
ماترا بھی उ کی ماترا ◌ु کی مانند ہے۔ بس ◌ु میں جھٹکا بائیں رخ پر جاتا ہے اور ऊ   کی ماترا یعنی ◌ू میں دائیں جانب۔ یہ اردو کے ”و“ (معروف)کا متبادل ہو جاتا ہے۔
مثالیں(ऊ   اور ऊ   کی ماترا): 
۱۔ اُوبنا ऊबना oobnaa
۲۔ دودھ दूध doodh
اپنے اب تک کے سیکھے گئے حروفِ علت vowels کو ایک مرتبہ دہرائیے۔ 
اَ۔۔۔آ۔۔۔ اِ۔۔۔اِی ۔۔۔اُ۔۔۔اُو۔۔۔
a…aa…i…ee…u…oo
आ ◌ा
इ 
ि
ई ◌ी
उ ◌ु
ऊ ◌ू
اسے دہرائیے۔ اشکال کو ذہن نشین کیجیے۔ دہراتے ہوئے حروف پر اپنی نگاہ رکھیے۔
بہت خوب! اس سبق کے حروفِ علت ختم ہوئے۔ اب ہم ۵ حروفِ صحیح کی طرف چلتے ہیں۔
پَ
pa
پ کی شکل، اردو کے چھ ۶ سے ملتی ہے۔ بس اس کا اوپری حصہ انگریزی کے u کی طرح  تھوڑا زیادہ گہرا ہے۔
لکھنے کا طریقہ:
ا۔ انگریزی کا uبنائیں۔
۲۔ uکے دائیں جانب کی لکیر کو نیچے کی جانب کھینچ دیں۔ پورا حرف ایک ہی مرتبہ میں بغیر ہاتھ اٹھائے بنایا جاتا ہے۔
مثالیں:
۱۔ پتہ पता pataa
۲۔ پانی पानी paanee
۳۔ تھاپ थाप thaap
مثال ۲ میں ”نی“ آپ نے کیسے لکھا ہے؟ بالکل درست۔ یہ ”ای“ کی ماترا  ہے جو حرف کے دائیں جانب ڈالی جاتی ہے۔ 
پہلے سبق میں آپ نے جو حروف سیکھے تھے، وہ یاد کیجیے۔ ت کے بعدتھ۔ د کے بعد دھ۔ ویسے ہی، پ کے بعد؟ جی ہاں! پ کے بعد  پھ کی شکل کا حرف آئے گا۔
پھَ
pha
یہاں प میں محض دائیں طرف ایک قوس کا اضافہ نظر آتا ہے، لیکن عموماً یہ ایسے نہیں لکھا جاتا، اس کے لکھنے میں درمیان کی ”کھڑی ڈنڈی“ پہلے بنا دی جاتی ہے۔
لکھنے کا طریقہ:
۱۔  ایک عمودی لکیر/کھری ڈنڈی بنائیں۔
۲۔ بائیں طرف اوپر سے شروع کرتے ہوئے دائیں طرف نیچے تک (حرف کی شکل دیکھیے) قوس کھینچیے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ”پھ“ سے آپ ”ف“ کا کام بھی نکال سکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو محض پھ फ نیچے ایک نقطہ ڈالنا ہوگا۔ اس طرح۔۔۔ फ़
چنانچہ آپ ”پ“ کی شکل کو”ف“ سمیت یاد رکھ سکتے ہیں۔
(بائیں سے دائیں پڑھیے)
ف/پھَ
फ/फ़
pha/fa
اس اصول کو یاد رکھیں، کیونکہ یہ اصول ہر جگہ کام میں آئے گا۔ ک کو ق، جھ کو ز/ض/ظ، کھ کو خ، گ کو غ۔۔۔ ہر جگہ تبدیلی کے لیےحرف کے نیچے بس ایک نقطہ کافی ہے۔ بلکہ یقین کریں تو اس نقطے کا بھی ہم اردو والے ہی تکلف کرتے ہیں، ہمارا ذووق جو ٹھہرا۔ ورنہ زیادہ تر ہندی والے ”فقیر“ کو ”پھکیر“ ہی لکھتے ہیں۔ 
مثالیں دیکھیے۔
۱۔ پھن फन phan
۲۔ فَن फ़न fan
۳۔ فِدا फ़िदा fidaa
اگلے حرف کی طرف چلتے ہیں۔
بَ
ba
لکھنے کا طریقہ:
۱۔ چھوٹی سی بیضوی شکل بنائیں، جو دائیں طرف سے کھلی ہوئی ہو۔
۲۔ دائیں طرف ایک عمودی لکیر کھینچ دیں جس سے بیضوی شکل کا کھلا ہوا حصہ بند ہو جائے۔
۳۔ بیضوی شکل کے درمیان میں ایک ترچھی لکیر کھینچ دیں۔ (لکیر کا آغاز اوپر سے ہو)
یہ ب ہے۔  بیضوی شکل یا دائرے کے درمیان میں ترچھی لکیر، بس اسی حرف میں آتی ہے۔اس لیے اسے پہچاننا بہت آسان ہے۔  اس کی مثالیں دیکھیے۔
۱۔ بُت बुत but
۲۔ باپ बाप baap
اگلا حرف، ظاہر ہے ب میں ”ھ“ کے اضافے کے ساتھ ہوگی۔ یعنی بھ۔ 
بھَ
bha
لکھنے کا طریقہ: 
۱۔ بہت چھوٹا سا دائرہ بنائیں۔
۲۔ دائرے کے دائیں جانب سے ایک عمودی/کھڑی لکیر کھینچ کر ایک نسبتاً چھوٹا دائرہ(یا مثلث) بنائیں۔
۳۔ مثلث کے دائیں جانب افقی لکیر کھینچیں۔ یہاں تک ایک بھی مرتبہ قلم، کاغذ سے نہیں اٹھنا چاہیے۔
۴۔ دائیں طرف ایک عمودی لکیر کھینچ دیں۔
भ کی مثالیں دیکھیے۔
۱۔ بھاپ भाप bhaap
۲۔ بھوت भूत bhoot
آسان تھا؟ بہت خوب۔اب  آج کے سبق کا آخری حرف دیکھیے۔ اور اپنی پیٹھ ٹھونکیے۔
مَ
ma
شکل میں آپ کو کیا خاص بات نظر آئی؟ صحیح سمجھے۔ بھ(भ)کی شکل  میں سے پہلا دائرہ/بیضوی شکل ہٹا دی گئی ہے۔ لکھنے کے لیے آپ بھ کے step 2 سے شروع کریں گے۔
لکھنے کا طریقہ: 
۱۔ ایک عمودی/کھڑی لکیر کھینچ کر ایک چھوٹا دائرہ(یا مثلث) بنائیں۔
۲۔ مثلث کے دائیں جانب افقی لکیر کھینچیں۔ پورے حرف بنانے میں  ایک بھی مرتبہ قلم، کاغذ سے نہیں اٹھنا چاہیے۔
مثالیں دیکھیے:
۱۔ مدد मदद madad
۲۔ دھوم धूम dhoom
دوسری مثال میں ”دھ“ کی شکل پر کون سی ماترا ہے؟ جی پہچانیے! ہم نے اسی سبق میں پڑھا ہے۔ یہ ”اُو ऊ“ کی ماترا ہے۔
بہت خوب! تو اب آپ نے یہ سبق بھی کر لیا۔ یہ سبق پچھلےسبق کی نسبت زیادہ طویل تھا، چنانچہ ہو سکتا ہے آپ کو الفاظ کی اشکال grasp کرنے میں دقت کا سامنا ہو۔ اگر ایسا ہو بھی تو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جس شکل کے یاد کرنے میں دقت ہو اسے لکھ کر دیکھ لیں۔ ان کے اردو متبادل ساتھ ہی لکھے ہوئے ہیں۔ ان کی مدد سے آپ با آسانی اشکال یاد کر لیں گے۔
آپ نے سبق کس حد تک سمجھا ہے، اسے جانچنے کے لیے مشق کیجیے۔ نیز یہ بھی ضرور بتائیے کہ اگلا سبق کتنے روز بعد پیش  کیا جانا چاہیے۔
اگلے سبق میں ہم  دو حروفِ علت، چار حروفِ صحیح اور ہندی میں جزم و تشدید لگانا سیکھیں گے۔
مشق ۲
1. آپ نے جو نئے  پانچ حروفِ صحیحconsonants  یاد کیے ہیں، انہیں بغیر دیکھے اپنی مشقی کاپی میں لکھیں۔ 
2. سیکھے گئے(بشمول سبق ۱ کے)  تمام حروفِ علت ان کی ماتراؤں کے ساتھ لکھیے۔
3. پھ کو ف لکھنے کے لیے ہم کیا کرتے ہیں؟ نیز اس کی مدد سے ہم اردو کے کن کن حروف کی تشکیل کر سکتے ہیں جو ہندی میں explicitly موجود نہیں۔
4. مندرجہ ذیل الفاظ کو ہندی(دیوناگری) میں لکھیے۔
بھات، نام، بھون، بدنام،تبھی، منع(اشارہ: ع کو الف کا قائم مقام مانا جائے گا)
5. مندرجہ ذیل الفاظ کے اردو اور انگریزی متبادل لکھیے۔
फ़ना, धूप, बत़न, बिना, बधाई
6. سبق سے بین السطور آپ نے کیا بات اخذ کی جسے آپ اس سبق کو  یاد رکھنے یا  سمجھنے کے لیے معاون سمجھتے ہیں؟
٭٭٭

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں