پیر، 19 اکتوبر، 2015

صدیق کی خلافت و بیعت پر اعتراضات کے جواب

"سربکف" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015

اعتراض1:کہا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر کی خلافت پر تمام مسلمانوں کا اجماع تھا.تو کیا یہ درست ہے کہ حضرت علی  اور ان کے ہمراہ صحابہ کرام نے بیعت نہیں کی تھی جبکہ ایسا اجماع جس میں وہ شریک نہ ہوں اس پر خدا وند متعال نے لعنت فرمائی ہے جیسا کہ امام ابن حزم فرماتے ہیں:
لعنة اللہ علی کلّ اجماع یخرج منہ علی بن أبی طالب ومن بحضرتہ من الصحابة ( المحلّٰی ٩:٣٤٥)
الجواب:
 پہلی بات یہ کہ ابن حزم کی اس عبارت کا ترجمہ اس طرح ہے لعنت ہو ایسے اجماع پر جس میں علی نہ ہوں یا جس میں صحابہ میں کسی کی موجودگی نہ ہو۔
اجماع کے واسطے ضروری نہین ہے کہ ہر آدمی اس بات سے متفق ہو بلکہ جس کو غالب اکثریت اپنائے اسے اجماع ہی کہیں گے سیدنا صدیق کے خلافت پر بھی اجماع منعقد ہو چکا ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نھج بلاغہ میں قول ہے
فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَ سَمَّوْهُ إِمَاماً كَانَ ذَلِكَ لِلَّهِ رِضًا
اگر مهاجرين و انصار کسی کی امامت پر اجماع کرلیں اور اسے پیشوا قرار دے تو اللہ تعالی کی رضا بھی اس میں شامل ہیں۔
اورپھر سیدنا صدیق کی خلافت پر تمام مہاجرین و انصار نے اتفاق کر لیا تھا جس سے یہ ثابت ہوا کہ ان کی خلافت متفق علیہ تھی۔
قول ابن حزم رحمہ
وَلَعْنَةُ اللَّهِ على كل إجْمَاعٍ يَخْرُجُ عنه عَلِيُّ بن أبي طَالِبٍ وَمَنْ بِحَضْرَتِهِ من الصَّحَابَةِ
 اللہ کی لعنت ہو ایسے اجماع پر جس میں علی نہ ہوں یا جس میں صحابہ میں کسی کی موجودگی نہ ہو
اول : ابن حزم  اللہ کی ان پر رحمت ہو کے یہ الفاظ کسی حدیث یا روایت سے نہیں ہیں بلکہ یہ ان کے اپنے الفاظ ہیں جس کی حیثیت ایک عالم کے قول کی ہے جس اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان الفاظ سے استدلال لینا کہ سیدنا صدیق کی خلافت پر اجماع نہیں تھا یقنن جہالت ہی ہے۔
دوم : ابن حزم نے یہ الفاظ فقہاء پر بحث کرتے ہوئے کہیں ہیں جس میں ان کا مطلب تھا کہ کسی بھی فقہی مسئلہ میں اگر علی کے اور صحابہ کے موقف کو سائیڈ کردیا جائے تو ایسا فقہی اجماع کسی کام کا نہیں ہے ۔ اللہ ان پر رحم کرے ان مقصد یقنن فقہاء پر لعنت بھیجنا نہین تھا ۔  اتنی سی بات ہے اس مین کہیں پر بھی سیدنا صدیق کی خلافت کا زکر تک نہیں ہے ۔ پھر ہم پہلے بھی کہ چکے ہیں کہ سیدنا صدیق کی خلافت پر علی رضی راضی تھے ۔پھر بھی رافضیوں کا شک دور کرنے کے لئے بیعت صدیق کا احوال لکھ دیتے ہیں۔
حضرت علی کا صدیق کی بیعت کرنے کا احوال:
ابن كثير في البداية والنهاية (6\693. في أحداث سنة 11:
 وقد اتفق الصحابة –رضي الله عنهم– على بيعة الصديق في ذلك الوقت حتى علي بن أبي طالب والزبير بن العوام –رضي الله عنهما
ابن کثیر الدایہ میں نقل کرتے ہیں کہ تمام صحابہ حضرت ابی بکر صدیق کی بیعت پر متفق ہوگئے اور تو اور اس وقت علی ابن ابی طالب   اور زبیر بن العوام   نے بھی بیعت کرلی۔
 امام عبداللہ  بن احمد بن حنبل اپنی کتاب سنن ص 554 میں نقل کرتے ہین
حدثني عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى حدثنا داود بن أبي هند عن أبي نضرة قال لما اجتمع الناس على أبي بكر رضي الله عنه فقال ما لي لا أرى عليا قال فذهب رجال من الأنصار فجاءوا به فقال له يا علي قلت ابن عم رسول الله وختن رسول الله فقال علي رضي الله عنه لا تثريب يا خليفة رسول الله ابسط يدك فبسط يده فبايعه ثم قال أبو بكر ما لي لا أرى الزبير قال فذهب رجال من الأنصار فجاءوا به فقال يا زبير قلت ابن عمة رسول الله وحواري رسول الله قال الزبير لا تثريب يا خليفة رسول الله ابسط يدك فبسط يده فبايعه
ابی ندرہ سے روایت ہے کہ جب لوگ ابی بکر کی بیعت کر رہے تھے تو اس وقت انہوں نے کہا کہ مجھے کیا ہوا ہے کہ میں علی کو نہیں دیکہ رہا پھر انصار کا ایک آدمی گیا اور علی اس کے ساتھ آگئے صدیق نے کہا اے علی آپ کہ سکہتے ہیں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے ہیں اور آپ ان کے عمزاد ہیں تو علی نے کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ آپ مجھ  سے ناراض نہ ہوں اپنا ہاتھ بڑہائے آپ نے ہاتھ بڑہایا اور علی نے بیعت کرلی۔ پھر صدیق نے کہا کہ مجھے کیا ہواہے کہ میں زبیر کو نہیں دیکہ رہا انصار کا ایک آدمی گیا اور انہیں بلا کہ لایا صدیق نے کہا اے زبیر تم کہ سکتے ہو کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوپھی کے بیتے ہو زبیر نے کہا  اے خلیفہ رسول اللہ مجھ سے ناراض نہ ہوں اپنا ہاتھ بڑہائے آپ نے ہاتھ بڑہا یا اور زبیر نے بیعت کرلی۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے اسناد قوی ہیں پھر اس حدیث کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ امام حاکم نے اپنی کتاب مستدرک (4457حدیث) مین نقل کیا ہے ان کہنا ہے کہ یہ حدیث شیخین کے طریقہ پر صحیح ہے۔ پھر بیہقی نے اپنی کتاب اعتقادات جلد 1 ص 349-350 مین اسے  ابی سعید الخدری سے نقل کیا ہے اس کا مضمون بھی ایسا ہی ہے اور بیہقی کی یہ حدیث صحیح ہے۔
عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنی کتاب سنن(2-563) میں قیس بن العبدی سے نقل کرتے ہیں کہ قیس کہتے ہیں کہ میں علی کو بصرہ میں خطبہ دیتے ہوئے دیکہا انہوں نے اللہ کی تعریف کی اس کا شکریہ ادا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی لوگوں کے لئے قربانیوں کا زکر کیا پھر اللہ نے انہیں موت دی تو مسلمانوں نے دیکہاکہ ان کو ابی بکر کی بیعت کرنی چاہئے تو انہوں ان کی بیعت کی میں نے بھی ان کی بیعت کی اور ان سے وفاداری کی وہ (مسلمان) ان سے خوش تھے ابی بکر نے اچھے کام کئے اور جہاد کیا یہاں تک اللہ نے ان کو موت دے دی ان پر اللہ کی رحمت ہو۔
شیعہ کتب سے حوالے:
محمد بن حسن نوبختی فرق الشیعہ ص 30  پر لکہتے ہیں
ان علیا علیہ اسلام لھما الامر ورضی بذلک و بایعھما طائعا غیر مکرہ و ترک حقھ لھما فنحن راضون کما رضی لھ، لا یحل لنا غیر ذلک ولایسع منا احد الا ذالک و ان ولایۃ ابی بکر صارت رشدا وھدی ، لتسلیم علی ورضاہ۔
ترجمہ: کہ علی (ر) نے اُن (یعنی ابو بکر و عمر) کی خلافت کو تسلیم کر لیا تھا اور اُس پر راضی ھو گئے تھے ، اور بغیر کسی جبر کے اُن کی بیعت کر کے فرماںبرداری کی ، اور اُن کے حق میں دستبردار ھو گئے تھے۔ پس ہم بھی اس پر راضی ھیں جیسے وہ راضی تھے۔ اب ہمارے لئے یہ حلال نہیں کہ ہم اس کے علاوہ کچھ اور کہیں ، اور ہم میں سے کوئی اس کے سوا کچھ اور کہے۔ اور یہ کہ علی (ر) کی تسلیم (تسلیم کرنے) اور راضی ھونے کی وجہ سے ابو بکر (ر) کی ولایت ، راشدہ اور ھادیہ بن گئی
شیخ علی البحرانی منار الہدی ص 685  پر لکہتے ہیں
وكما ينقشع السحاب، فمشيت عند ذلك إلى أبي بكر فبايعته ونهضت في تلك الأحداث حتى زاغ الباطل وزهق وكانت كلمة الله هي العليا ولو كره الكافرون (2) فتولى أبو بكر تلك الأمور وسدد وقارب واقتصد، وصحبته مناصحا وأطعته فيما أطاع الله فيه جاهدا

یہ دیکھ کر کہ کہیں فتنے یا شر پیدا نہ ھو جائے ، میں ابوبکر (ر) کے پاس چل کر گیا اور اور اُن کی بیعت کرلی۔ اور اُن حوادث کے خلاف (ابوبکر(ر) کے ساتھ) کھڑا ھوگیا ، حتیٰ کہ باطل چلا گیا اور اللہ کا کلمہ بلند ھو گیا چاھے وہ کافروں کو برا لگے۔ پس جب ابوبکر (ر) نے نظام امارت سنبھالا اور حالات کو درست کیا اور آسانیاں پیدا کیں ، تو میں اُن کا مُصاحب شریک کار (ہم نشیں) بن گیا اور اُن کی اطاعت (فرماںبرداری) کی ، جیسے اُنہوں نے اللہ کی اطاعت کی۔
امالی ص 507  میں شیخ طوسی نقل کرتے ہین۔
 فبايعت أبا بكر كما بايعتموه، وكرهت أن أشق عصا المسلمين، وأن أفرق بين جماعتهم، ثم أن أبا بكر جعلها لعمر من بعده، وأنتم تعلمون أني أولى الناس برسول الله (صلى الله عليه وآله) وبالناس من بعده، فبايعت عمر كما بايعتموه،

ترجمہ: پس میں نے ابو بکر (ر) کی اُسی طرح بیعت کی ، جس طرح تم لوگوں نے کی۔ اور میں نے یہ ناپسند کیا کہ مسلمانوں کی جماعت کے مابین کوئی پھوٹ یا تفرقہ پیدا ھو۔ پھر ابو بکر (ر) نے (خلافت) عمر (ر) کو سونپی ، اور (حالانکہ) تم جانتے ھو کہ رسول (ص) کے بعد اُن کے قریب ہم تھے۔ پس پھر میں نے بھی عمر (ر) کی اُسی طرح بیعت کی جس طرح تم لوگوں نے کی۔
شیخ طبرسی الاحتجاج جلد ۱ ص 114 پر لکہتے ہیں:
وروي عن الباقر عليه السلام قال: فلما وردت الكتب على أسامة انصرف بمن معه حتى دخل المدينة، فلما رأى اجتماع الخلق على أبي بكر انطلق إلى علي بن أبي طالب عليه السلام فقال له: ما هذا؟ قال له علي: هذا ما ترى. قال له أسامة: فهل بايعته؟ فقال: نعم يا أسامة.
امام باقر سے روایت ھے: جب اسامہ (ر) کو (نبی (ص) کے وصال کا) خط پہنچا تو وہ ساتھیوں سمیت مدینہ آگئے ، اور دیکھا کہ ابوبکر (ر) کے پاس (بیعت کے لئے) لوگ جمع ھیں۔ تو وہ علی (ر) کے پاس گئے اور اُن سے پوچھا: یہ کیا ھے؟ علی (ر) نے اُن سے کہا: یہ وھی ہے جو تم دیکھ رھے ھو۔ اسامہ (ر) نے اُن سے پوچھا: کیا آپ نے بھی بیعت کر لی ھے؟ علی (ر) نے کہا: ہاں اسامہ (میں نے بھی بیعت کر لی ھے۔
محمد بن حسن طوسی تلخیص شافی جلد 3 ص 42 پر لکہتے ہیں
لا اشکال فیہ : انھ علی علیہ السلام بایع مستدفعا للشر و فارا من الفتنہ۔
اس میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ علی (ر) نے (ابوبکر کی) بیعت کرلی تاکہ شر دفع ھو اور فتنہ پیدا نہ ھو۔
اس کے علاوہ دوسرے کتب اور نھج البلاغہ وغیرہ میں علی رضی اللہ کی بیعت کا زکر موجود ہے۔
چناچہ یہ بات ثابت ہوئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور جو ان کے سا تھ تھے انہوں نے بنا کسی جبر کے بیعت کرلی تھی اور انصار و مہاجرین نے تو پہلے ہی بیعت کر لی تھی ۔ اس بات سے ثابت ہوا کہ سیدنا صدیق کی خلافت پر تمام صحابہ کا اجماع ہوگیا تھا تو ابن حزم کی اس بات کا اطلاق خلافت صدیق پر نہیں ہوتا اور ابن حزم صحیح ہیں جس اجماع میں علی شامل نہ ہوں وہ اجماع کیسے ہو سکتا ہے ۔  شیعوں کو چاہئے کہ وہ اپنے امام کی بات مان لیں اور جس طرح نوبختی نے لکہا ہے کہ وہ ابی بکر سے راضی ہوگئے تھے وہ ان کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے۔ اسی طرح شیعے بھی یہود مدینہ کی طرح ہٹ دہرمی چھوڑ کر سیدنا صدیق کی  خلافت بلا فصل کو ہادیہ خلافت مان لیں۔ پر کیا کیا جا سکتا ہے یہود مدینہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے رہے اور اب ان کی اولاد شیعے بھی وہی کرہے ہیں رسول اللہ کے خلیفہ کا انکار کرتے رہے ہیں۔
اعتراض 3:

آپ کہتے ہیں : ابوبکر کی بیعت تمام مہاجرو انصار کے اجماع کے ذریعہ حاصل ہوئی ، لیکن عمر بن خطاب نے کہا ہے : تمام مہاجرین، ابوبکر کی بیعت کے مخالف تھے ، علی (علیہ السلام) ، زبیر اور ان کے چاہنے والے بھی موافق نہیں تھے۔ ” حین توفی اللہ نبیہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ان الانصار خالفونا ، و اجتمعوا باسرھم فی سقیفة بنی ساعدة و خالف عنا علی والزبیر و من معھما”۔ (١)۔
آپ کا دعوی صحیح ہے یا عمر بن خطاب کا دعوی صحیح ہے؟
الجواب:
ہم اس بات کو تو ثابت کرچکے ہیں کہ تمام انصار و مہاجرین نے سیدنا صدیق کی بیعت کر لی تھی اور وہ سب کے سب سیدنا صدیق کے ساتھ خلافت کے کاموں میں لگ گئے تھے۔
سقیفہ کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ کی روایت
یہ ایک طویل روایت ہے ہم اس ضروری حصہ یہاں صحیح بخاری کتاب الحدود باب  رجم الحبلی سے نقل کردیتے ہیں
إِنَّمَا کَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَکْرٍ فَلْتَةً وَتَمَّتْ أَلَا وَإِنَّهَا قَدْ کَانَتْ کَذَلِکَ وَلَکِنَّ اللَّهَ وَقَی شَرَّهَا وَلَيْسَ مِنْکُمْ مَنْ تُقْطَعُ الْأَعْنَاقُ إِلَيْهِ مِثْلُ أَبِي بَکْرٍ مَنْ بَايَعَ رَجُلًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُبَايَعُ هُوَ وَلَا الَّذِي بَايَعَهُ تَغِرَّةً أَنْ يُقْتَلَا وَإِنَّهُ قَدْ کَانَ مِنْ خَبَرِنَا حِينَ تَوَفَّی اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَنْصَارَ خَالَفُونَا وَاجْتَمَعُوا بِأَسْرِهِمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ وَخَالَفَ عَنَّا عَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَمَنْ مَعَهُمَا وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقُلْتُ لِأَبِي بَکْرٍ يَا أَبَا بَکْرٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی إِخْوَانِنَا هَؤُلَائِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْطَلَقْنَا نُرِيدُهُمْ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ لَقِيَنَا مِنْهُمْ رَجُلَانِ صَالِحَانِ فَذَکَرَا مَا تَمَالَأَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَا أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْنَا نُرِيدُ إِخْوَانَنَا هَؤُلَائِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَا لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَقْرَبُوهُمْ اقْضُوا أَمْرَکُمْ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّهُمْ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی أَتَيْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ فَإِذَا رَجُلٌ مُزَمَّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا هَذَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقُلْتُ مَا لَهُ قَالُوا يُوعَکُ فَلَمَّا جَلَسْنَا قَلِيلًا تَشَهَّدَ خَطِيبُهُمْ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَکَتِيبَةُ الْإِسْلَامِ وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ رَهْطٌ وَقَدْ دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ قَوْمِکُمْ فَإِذَا هُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْتَزِلُونَا مِنْ أَصْلِنَا وَأَنْ يَحْضُنُونَا مِنْ الْأَمْرِ فَلَمَّا سَکَتَ أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ وَکُنْتُ قَدْ زَوَّرْتُ مَقَالَةً أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أُقَدِّمَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَکْرٍ وَکُنْتُ أُدَارِي مِنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَتَکَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی رِسْلِکَ فَکَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ فَتَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ فَکَانَ هُوَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ وَاللَّهِ مَا تَرَکَ مِنْ کَلِمَةٍ أَعْجَبَتْنِي فِي تَزْوِيرِي إِلَّا قَالَ فِي بَدِيهَتِهِ مِثْلَهَا أَوْ أَفْضَلَ مِنْهَا حَتَّی سَکَتَ فَقَالَ مَا ذَکَرْتُمْ فِيکُمْ مِنْ خَيْرٍ فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا وَقَدْ رَضِيتُ لَکُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا فَلَمْ أَکْرَهْ مِمَّا قَالَ غَيْرَهَا کَانَ وَاللَّهِ أَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي لَا يُقَرِّبُنِي ذَلِکَ مِنْ إِثْمٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَأَمَّرَ عَلَی قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَکْرٍ اللَّهُمَّ إِلَّا أَنْ تُسَوِّلَ إِلَيَّ نَفْسِي عِنْدَ الْمَوْتِ شَيْئًا لَا أَجِدُهُ الْآنَ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَکَّکُ وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْکُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ فَکَثُرَ اللَّغَطُ وَارْتَفَعَتْ الْأَصْوَاتُ حَتَّی فَرِقْتُ مِنْ الِاخْتِلَافِ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَدَکَ يَا أَبَا بَکْرٍ فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعْتُهُ وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ ثُمَّ بَايَعَتْهُ الْأَنْصَارُ
ترجمہ:
تمہیں کوئی شخص یہ کہہ کر دھوکہ نہ دے کہ ابوبکر کی بیعت اتفاقیہ تھی اور پھر پوری ہوگئی، سن لو کہ وہ ایسی ہی تھی لیکن ﷲ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں سے کوئی شخص نہیں ہے جس میں ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ جیسی فضیلت ہو، جس شخص نے کسی کے ہاتھ پر مسلمانوں سے مشورہ کئے بغیر بیعت کرلی تو اس کی بیعت نہ کی جائے- اس خوف سے کہ وہ قتل کردیے جائیں گے جس وقت ﷲ نے اپنے نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی تو اس وقت وہ ہم سب سے بہتر ہے– مگر انصار نے ہماری مخالفت کی اور سارے لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور حضرت علی وزبیر نے بھی ہماری مخالفت کی اور مہاجرین ابوبکر کے پاس جمع ہوئے تو میں نے ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے ابوبکر ہم لوگ اپنے انصار بھائیوں کے پاس چلیں، ہم لوگ انصار کے پاس جانے کے ارادے سے چلے جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ان میں سے دو نیک بخت آدمی ہم سے ملے، ان دونوں نے وہ بیان کیا جس کی طرف وہ لوگ مائل تھی پھرانہوں نے پوچھا اے جماعت مہاجرین کہاں کا قصد ہے ہم نے کہا کہ اپنے انصار بھائیوں کے پاس جانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا ہم تمہارے لئے مناسب نہیں کہ ان کے قریب جاؤ تم اپنے امر کا فیصلہ کرو میں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم ان کے پاس جائیں گے چناچہ ہم چلے یہاں تک کہ سقیقہ بنی ساعدہ میں ہم ان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو ان کے درمیان دیکھا کہ کمبل میں لپٹا ہوا ہے میں نے کہا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ سعد بن عبادہ، میں نے کہا کہ ان کو کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ ان کو بخار ہے ہم تھوڑی دیر بیٹھے تھے کہ ان کا خطیب کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور ﷲ کی حمدوثناء کرنے لگا جس کا وہ سزاوار ہے- پھر کہا امابعد، ہم ﷲ کے انصار اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے مہاجرین وہ گروہ ہو کہ تمہاری قوم کے کچھ آدمی فقر کی حالت میں اس ارادہ سے نکلے کہ ہمیں ہماری جماعت کو جڑ سے جدا کردیں اور ہماری حکومت ہم سے لے لیں- جب وہ خاموش ہوا تو میں نے بولنا چاہا، میں نے ایک بات سوچی رکھی کہ جس کو میں ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے سامنے بیان کرنا چاہتا تھا- اور میں ان کا ایک حد تک لحاظ کرتا تھا، جب میں نے بولنا چاہا تو ابوبکر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے گفتگو کی وہ مجھ سے زیادہ بردباراور باوقار تھے- خدا کی قسم جو بات میری سمجھ میں اچھی معلوم ہوتی تھی اسی طرح یا اس سے بہتر پیرایہ میں فی البدیہہ بیان کی یہاں تک کہ وہ چپ ہوگئے انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے جو خوبیاں بیان کی ہیں تم ان کے اہل ہو لیکن یہ امر (خلافت) صرف قریش کے لئے مخصوص ہے یہ لوگ عرب میں نسب اور گھر کے لحاظ سے اوسط ہیں میں تمہارے لئے ان دو آدمیوں میں ایک سے راضی ہوں ان دونوں میں کسی سے بیعت کرلو، چناچہ انہوں نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑا اور وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے (عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں) مجھے اس کے علاوہ انکی کوئی بات ناگوار نہ ہوئی، خدا کی قسم میں اس جماعت کی سرداری پر جس میں ابوبکر ہوں اپنی گردن اڑائے جانے کو ترجیح دیتا تھا، یا ﷲ مگر میرا یہ نفس موت کے وقت مجھے اس چیز کو اچھا کر دکھائے جس کو میں اب نہیں پاتا ہوں انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ ہم اس کی جڑ اور اس کے بڑے ستون ہیں اے قریش ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک تم میں سے شوروغل زیادہ ہوا اور آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ مجھے اختلاف کا خوف ہوا میں نے کہا اے ابوبکر اپنا ہاتھ بڑھائیے، انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین نے بھی بیعت کی پھر انصار نے ان سے بیعت کی۔
اب یہ سوال کرنے ولا عقل کا دشمن ہے حضرت عمر  یہاں سیدنا صدیق کے خلیفہ بننے سے پہلے کا حال بتا رہے ہیں ظاہر اس وقت وہ خلیفہ نہیں تھے تو اس وقت اجماع کیسے ہو سکتا ہے ۔یہ سراسر جہوٹ و کذب ہے کہ تمام مہاجرین ابی بکر رضی اللہ عنہ کے مخالف تھے سیدنا عمر نے ایسا نہیں کہا بلکہ صرف علی و زبیر اور کچھ اور لوگ ہی علی کء گھر میں تھےمخالف وہ بھی نہیں تھے انہیں جیسے پتا چلا بیعت کے لئے آگئے ۔ لیکن جب سیدنا صدیق کی خلافت پر انصار نے اجماع کرلیا اور  مہاجرین نے بھی بیعت کی پھر علی و زبیر کی بیعت کرنے کے بعد ان کے ساتھ جو تھے انہوں نے بھی بیعت کی۔ تو عقل کے دشمن کیا یہ اجماع نہیں ہوا سب نے بیعت کی۔اس بات سے کس کو انکار ہے کہ انصار نے اپنا خلیفہ چننے کے لئے ہی اجتماع کیا تھا اور پھر اس بات سے کس کو انکا ر ہے کہ سیدنا  علی و زبیر بھی الگ تھے لیکن جب ان سب لوگوں نے سیدنا صدیق کی بیعت کر لی تو پھر یہ اجماع ہی ہوا نہ ۔ اب پتا نہیں کہ شیعہ اجماع کسے کہتے ہیں۔
اعتراض 4:کیا یہ صحیح ہے کہ حضرت علی نے ہرگز حضرت ابوبکر کی بیعت نہ کی اور اپنی مٹھی بند رکھی لیکن جب حضرت ابوبکر نے یہ صورت حال دیکھی تو خود اپنا ہاتھ حضرت علی کے ہاتھ پر رکھ دیا اور اسی کو اپنی بیعت قرار دے دیا ؟جیسا کہ مسعودی لکھتے ہیں:
فقالوا لہ : مدّ یدک فبایع ، فأبٰی علیہم فمدّوا یدہ کرھا فقبض علی أناملہفراموا بأجمعھم فتحھا فلم یقدروا فمسح علیھا أبوبکر وھی مضمونة ( اثبات الوصیة: ١٤٦؛ الشّافی ٣: ٢٤٤)
اس کے باوجو د بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کی بیعت اہل حل و عقد کے اجماع سے واقع ہوئی .کیا اسی کو اجماع واتفاق کہتے ہیں؟ اور پھر اس حدیث ((علیّ مع الحقّ وا لحقّ مع علیّ یدور معہ حیث مادار)) مستدرک حاکم ٣: ١٢٥؛ جامع ترمذی ٥: ٥٩٢ ،ح٣٧١٤؛مناقب خوارزمی :١٧٦،ح ٢١٤؛فرائد السّمطین ١: ١٧٧،ح ١٤٠؛ شرح المواہب اللدنیة ٧: ١٣
علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے .حق اسی طرف پھرتا ہے جہاں علی پھرجائیں.
الجواب:
یہ حوالے شیعہ کتب سے ہیں جو کہ ہمارے لئے حجت نہیں ہیں لیکن پھر کچھ عرض کردیتے ہیں۔
بیعت علی کا مکمل احوال از شیعہ و سنی کتب سوال 1 میں آگیا لیکن یہ بلکل ہی سفید جہوٹ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ نہیں کھولا تھاعلی نے بیعت کرتے وقت ہاتھ بند نہیں کیا تھا بلکہ خود سیدنا صدیق کو کہا کہ ہاتھ دیں تو انہوں آگے کیا اور علی نے بیعت کرلی ۔
اس کا صحیح روایت سے ثبوت:
امام عبداللہ  بن احمد بن حنبل اپنی کتاب سنن ص 554 میں نقل کرتے ہین
فقال علي رضي الله عنه لا تثريب يا خليفة رسول الله ابسط يدك فبسط يده فبايعه
تو علی نے کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ آپ مجھ  سے ناراض نہ ہوں اپنا ہاتھ بڑہائے آپ نے ہاتھ بڑہایا اور علی نے بیعت کرلی۔
سیدنا علی سیدنا صدیق کی بیعت کے لئے بھاگتے ہوئے آئے تھے حتی کہ وہ ٹھیک سے قمیص بھی نہیں پہن سکے تھے تاکہ بیعت میں دیر نہ ہو جن کا حال یہ ہے اور  آپ کہتے ہیں کہ انہوں ہاتھ بند رکھا تھا۔
تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ 448
عن حبيب ابن أبي ثابت قال كان علي في بيته إذ أتى فقيل له قد جلس أبو بكر للبيعة فخرج في قميص ما عليه إزار ولا رداء عجلا كراهية أن يبطئ عنها حتى بايعه ثم جلس إليه وبعث إلى ثوبه فأتاه فتخلله ولزم مجلس
حبیب بن ابی ثابت سے روایت ہے کہ علی اپنے گھر میں تھے کہ کسی نے آکر کہا کہ ابوبکر مسجد میں بیعت لے رہے ہیں تو آپ فور ااٹھے اور قمیص پہنے بغیر اس خوف سے کہ کہیں دیر نہ ہوجائے گھر سے مسجد آئے بیعت کی اور پھر ابی بکر کے ساتھ بیٹھے رہے اور کسی کو بھیج کر قمیص منگوا کر پہنی اور پھر وہیں بیٹھے رہے۔
اس سے ظاہر ہوا کہ یہ روایت کہ انہوں ہاتھ بند رکہا تھا کذب ہیں۔
باقی مستدرک وغیرہ کی روایات کہ حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ حق گو تھے اگر آپ دیکہتے کہ سیدنا صدیق حق پر نہیں ہیں تو ان کی بیعت کبھی نہیں کرتے بلکہ امام حسین کی طرح قربانی دیتے ۔ یہ بات شیعوں کا جاننی چاہئے کہ علی نے سیدنا صدیق کی بیعت کی مطلب وہ حق (یعنی صدیق) کے ساتھ تھے اور حق (صدیق) بھی ان کے ساتھ تھے وہ آپس میں سیر و شکر تھے ۔
شیعوں اپنی گریبان میں جھانکو۔
 اب یہ شیعہ ہیں کہ ایک طرف تو کہتے ہیں علی حق ہیں اور دوسری طرف پھر صدیق کوحق نہین مانتے جسے علی حق مانتے ہیں ۔ اور ہم الحمداللہ ہمیشہ کہتے ہیں علی حق ہر ہیں۔ لیکن شیعہ کہتے ہیںکہ نہیں وہ حق پرست نہیں تھے وہ اپنی جان بچانے کے خاطر اسلام اور اس کے اصولوں کو پیچھے ڈال دیتے تھے۔اور حق سے دستبردار ہوجاتے تھے حق چھپاتے تھے ۔ اندر میں ایک اور باہر میں دوسرے ہوتے تھے ...۔ معاذاللہ اللہ کی لعنت ہو ایسے سوچ رکہنے والوں پر۔
اعتراض 6:کیا یہ درست ہے کہ امام بخاری نے اسی حدیث کو اپنی کتاب میں چار مختلف مقامات پر نقل کیا ہے لیکن لفظ گناہگار ، خائن ، پیمان شکن کی جگہ کذا وکذا یا ((کلمتکما واحدة))لکھ دیاتاکہ یوں خلافت شیخین کے بارے میں اہل بیت پیغمبر ۖکی منفی نظر سے لوگ آگاہ نہ ہو پائیں؟؟
کہا جاتا ہے کہ امام بخاری نے باب خمس ، نفقات ،اعتصام اور باب فرائض میں اس روایت کو نقل توکیا لیکن اس میں تبدیلی کردی .کتاب نفقات میں لکھا ہے ( تزعمان أنّ أبابکرکذا وکذا)) اور باب فرائض میں یوں لکھا ہے : ( ثم ّ جئتمانی وکلمتکما واحدة)
الجواب
امام بخاری ، ابن عبدالبر اور دیگر محدیثین نے یہ الفاظ مختلف سندوں کے ساتھ نقل کئے ہیں ضروری نہیں کہ انہوں یہ الفاط حذف کر دئے ہوں ہر راوی کا کلام اپنا ہوتا ہے حدیث کا مفہوم و مقصد تو وہی رہتا ہے لیکن راوی کے بیان مختلف ہوتا ہے
امام بخاری کی سندیں یہ ہیں
صحیح بخاری ٣: ٢٨٧، کتاب النفقات
حدثنا سعيد بن عفير قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني مالك بن أوس بن الحدثان وكان محمد بن جبير بن مطعم
کتاب الاعتصام بالکتاب والسنة
حدثنا عبد الله بن يوسف حدثنا الليث حدثني عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني مالك بن أوس النصري وكان محمد بن جبير بن مطعم ذكر لي
کتاب الفرائض
حدثنا يحيى بن بكير حدثنا الليث عن عقيل عن ابن شهاب قال أخبرني مالك بن أوس بن الحدثان وكان محمد بن جبير بن مطعم ذكر لي
کتاب الخمس
حدثنا إسحاق بن محمد الفروي حدثنا مالك بن أنس عن ابن شهاب عن مالك بن أوس بن الحدثان وكان محمد بن جبير ذكر لي ذكرا من
كتاب المغازي » باب حديث بني النضير
حدثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري قال أخبرني مالك بن أوس بن الحدثان النصري أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه
یہاں تقریبن ہر سند ہی الگ ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ان احادیث کو بیان کرنے میں جو فرق ہے وہ راویوں کی وجہ سے ہو ۔ اب اگر امام بخاری نے اگر یہ الفاط حدیث میں سے ختم کردئے ہیں تو انہوں نے اس کو راوی کا کلام ہی سمجہا ہوگا مثلا۔ ایک روایت راوی کے الفاظ کچھ اور ہونگے دوسری روایت میں دوسرے راوی کے الفاظ  کچہ اور ہونگے اور پھر تیسری روایت میں راوی نے کذا کذا وغیرہ کہ کر الفاظ بیان کردئے ہونگے کیوں کہ بعض اوقات ہم ایسے کہ دیتے ہیں کہ اس نے ایسا ایسا کہا (اب اس ایسا ایسا کو  پھر راویون نے اپنے اندازوں پر بیان کیا ہوگا کسی نےکہا ہوگا کہ چور ، خائن تو کسی نے کہا ہوگا غاصب وغیرہ)۔ تو امام بخاری نے سمجھا ہوگا کہ یہ راویوں کی ہی بیان کردہ باتیں ہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا کسی کو صحیح معلوم نہیں اس لئے صحابہ سے حسن ظن رکہتے ہوئے یہ الفاط بیان نہیں کئے ہون۔ کیوں کہ انہیں راویوں کے مختلف  اندازوں کو بیان کرنے کے بجائے صحابہ سے حسن ظن رکہنا ہی آسان لگا ہوگا۔کیوں کہ صحابہ کی عدالت متفق علیہ ہے۔ یہی بات الماورزی نے کہی ہے امام نووی شرح صحیح مسلم جلد اول ص 90 پر ان سے نقل کرتے ہیں کہ انہون نے کہا اسی وجہ بعض اہل علم نے اپنے نسخہ میں ان الفاظ کو بیان نہیں کیا بلکہ اس کو راوی کا وہم قرار دیا  ۔
جبکہ صحیح مسلم کی دو سندوں کے راوی الگ ہیں اس لئے ممکن ہے کہ امام بخاری سے بیان کرنے والے نے یہ الفاظ نہیں کہے ہوں اور صرف کذا و کذا کہا ہو۔
٭٭٭
بشکریہ سرونٹ آف صحابہ

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں