پیر، 19 اکتوبر، 2015

کشمکش

"سربکف" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015
تعزیر بستوی                                            
 
میری رگ رگ میں خدا تو نے شرارے بھر کر
حکم صادر یہ کیا آگ نہ لگنے پائے

ایک سے ایک حسیں چیز بنا کر یہ کہا
خواہشِ نفس کبھی دل میں نہ جگنے پائے

میں فرشتہ  نہ پیمبر نہ صحابی کوئی
اکثر و بیشتر راہوں سے بھٹک جاتا ہوں

ایک سوکھی ہوئی لکڑی سی حقیقت میری
شعلہء نفس سے اک پل میں دہک جاتا ہوں

دل میں اٹھتی ہے کبھی ہوک عبادت میں کروں
تجھ سے رو رو کے گناہوں کی معافی چاہوں

لغزشِ پا کے سبب دہر کے میخانے میں
جو بھی نقصان ہوا اس کی تلافی چاہوں

لب پہ قرآن کی آیات سجائے رکھوں
اپنے کردار کو آئینہ بنائے رکھوں

آندھیاں لاکھ چلیں نفس کے صحراؤں میں
دل میں قندیل تقدس کی جلائے رکھوں

ایک دو روز ہی رہتا ہے تقدس لیکن
پھر اسی نفس کے بازار میں کھوجاتا ہوں

محفلِ رقص سجا لیتی ہے دنیا پھر سے
اس کی پازیب کی جھنکار میں کھو جاتا ہوں

ایسا کردے مرے مولا کہ وفادار رہوں
میں سدا تیری محبت میں گرفتار رہوں

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں