پیر، 19 اکتوبر، 2015

تبلیغ-فریضہٴ عامہ یا خاصہ؟

"سربکف" میگزین 1-جولائی،اگست 2015
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ     ١٠٤؁
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضرور ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہونگے۔ (ترجمہ بیان القرآن- سورہ ٣آلِ عمران، آیت ١٠٤)

یعنی ایک جماعت تم میں سے ایسی ہونی چاہیے جو داعی الی الخیر ہو۔ یعنی جو دین کی بقا میں کوشاں ہو اور شرعی امور اور دینی معاملات کا انتظام کرے اور امۃ منکم اس لئے فرمایا کہ اگر سب یہی کرنے لگیں تو کھیتی کون کرے گا اور نوکری تجارت وغیرہ کون کرے گا۔ یہ شریعت کا انتظام ہے کہ زراعت تجارت وغیرہ کو فرض کفایہ کیا ہے۔ اگر سب چھوڑ دیں تو سب کے سب گنہگار ہوں کیونکہ مجموعہ کو اسباب معیشت کی بھی حاجت ہے ورنہ سب ہلاک ہوجائیں اور نہ دنیا رہے نہ دین اور جو لوگ تارک اسباب ہیں ان کو جمعیت وتوکل بھی مباشرین اسباب ہی کی بدولت ہے گو ان احاد کی تعیین نہیں مگر مجموعہ میں ایسے احاد کا ہونا ضروری ہے خصوصاً ہم جیسے ضعفاء کے لئے تو اگر ظاہری سامان نہ ہو تو تشویش سے دین ہی میں خلل پڑنے لگے۔
حاصل یہ ہے کہ دنیا سے سب کو تعلق ہے کوئی سگا ہے کوئی سوتیلا اور مطلق مذموم بھی نہیں کیونکہ دنیا مطلقاً بری نہیں ہے بلکہ دنیا جو معصیت ہے صرف وہ بری ہے۔ اس لئے باری تعالیٰ نے ولتکن فرمایا کونوا نہیں فرمایا۔ جیسا کہ اوپر واعتصموا بحبل اللہ جمیعا فرمایا۔ اس لئے مقصود تو یہ کہ دین تو سب میں ہو لیکن ایک ایسی ہی جماعت ہو جو مولویت ہی کا کام کریں اور کچھ دوسرا کام نہ کریں۔
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ
لفظ منکم سے معلوم ہوتا ہے کہ سب اس کام کے لائق نہیں ہیں اور یہ تجربہ ہے کہ جو لوگ اس کے اہل نہیں سمجھتے جاتے۔ ان کا کہنا لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے اور جو لوگ اہل ہیں ان کا کہنا چنداں گران نہیں گزرتا۔ نیز علماء جو کچھ کہتے ہیں تہذیب سے اور شائستگی سے کہتے ہیں۔ غرض یہ طعن وتشنیع کا شیوہ مناسب نہیں ہے اپنے کام میں لگے رہو اگر کوئی برا ہو تم اس پر ترحم کرو اور اس کے لئے دعا کرو۔
تبلیغ کا ایک درجہ سب کے ذمہ ہے
اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ تو یوں فرمایا : ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر کہ اے مسلمانوں ! تمہارے اندر ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے۔ یہاں تو دعوت کو ایک جماعت کے ساتھ خاص فرمایا اور اس کے بعد ارشاد ہے :
کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر۔
کہ اے مسلمانو ! تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے ظاہر کئے گئے ہو۔ تم نیک کاموں کا حکم کرتے ہو، برے کاموں سے روکتے ہو۔
یہاں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو سب کے لئے عام کیا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ اس بالمعروف ونہی عن المنکر کا ایک درجہ ایسا بھی ہے جو سب کے ذمہ ہے اور علماء کے ساتھ خاص نہیں۔ (آداب تبلیغ)
اہل علم کی شان
جن کو اس آیت میں فرماتے ہیں :
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ     ١٠٤؁
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں) اس آیت میں یدعون (بلاویں) کا مفعول ذکر نہیں فرمایا یہ ذکر نہ کرنا مشیر (اشارہ کرنے والا) ہے اس کے عموم کی طرف مطلب یہ ہے کہ یدعون الناس یعنی عام لوگوں کو خیرکی طرف بلاویں تو یہ شان اہل علم کی ہے یعنی ان لوگوں کی جنہوں نے سب علوم کا بقدر ضرورت احاطہ کیا اور فرض یہ بھی ہے مگر فرض علی الکفایہ ہے۔ کہ امت میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہونا چاہئیں کہ جن سے عوام امت کا کام چلے اسی لئے محققین نے من کو اس آیت سے تبعیضہ کہا ہے یعنی تم میں بعض ایسے ہونے چاہئیں۔
دعوت عامہ کے اقسام
یہ ایک خاص جماعت کا کام ہے ساری امت کا کام نہیں ہے اور دعوت الی الخیر اور دعوت الی اللہ کے ایک ہی معنی ہیں سو اس میں تو اس کو صرف ایک خاص جماعت کا کام فرمایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر ارشاد ہے :
قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی، وسبحن اللہ وما انا من المشرکین۔
کہ فرمادیجئے یہ میرا راستہ ہے بلاتا ہوں میں اللہ کی طرف بصیرت پر ہو کر میں اور جتنے میرے متبع ہیں اور حق تعالیٰ تمام برائیوں سے پاک ہیں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ دیکھئے یہاں پر مطلقا ومن اتبعنی ہے یعنی جتنے میرے متبع ہیں سب حق کی طرف بلاتے ہیں اس میں عموم ہے۔
اس خصوص اور اس عموم سے معلوم ہوا کہ اس کے درجات ومراتب ہیں ایک درجہ کا پہلی آیت میں ذکر ہے اور ایک درجہ کا دوسری آیت میں اور وہ درجات دو ہیں ایک دعوت عامہ ایک دعوت خاص پھر دعوت عامہ کی دو قسمیں ہیں ایک دعوت حقیقیہ اور ایک دعوت حکمیہ۔ دعوت حکیمہ وہ جو کہ معین ہو دعوت حقیقیہ میں میں نے آسانی کے لئے یہ لقب تجویز کئے ہیں ان میں اصل دو ہی قسمیں ہیں دعوت الی اللہ کی۔ دعوت عامہ، دعوت خاصہ۔ اور ایک قسم معین ہے دعوت عامہ کی۔ تو اسی طرح یہ کل تین قسمیں ہوگئیں۔ تو ہر شخص کے متعلق جدا جدا مرتبہ کے لحاظ سے ایک ایک دعوت ہوگی۔ چنانچہ دعوت خاصہ ہر مسلمان کے ذمہ ہے اور وہ وہ ہے جس میں خطاب خاص ہوانپے اہل وعیال کو، دوست احباب کو اور جہاں جہاں قدرت ہو اور خود اپنے نفس کو بھی۔ چنانچہ حدیث میں ہے کلکم راع وکلکم مسئول۔ کہ تم میں ہر ایک راعی ونگران ہے اور تم میں ہر ایک (قیامت میں) پوچھا جائے گا کہ رعیت کے ساتھ کیا کیا۔ یہ دعوت خاصہ ہے اور قرآن میں بھی ذکر ہے۔
یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔
اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو عذاب دوزخ سے بچاؤ۔ یہ بھی دعوت خاصہ ہے کہ اپنے اہل وعیال کو عذاب دوزخ سے بچانے کا حکم ہے سو اس کا تو ہر شخص کو اپنے گھر میں اور تعلقات کے محل میں اہتمام کرنا چاہیے۔
عمومی دعوت میں تخصیص کا راز
ایک اور دعوت عام ہے جس میں خطاب عام ہو یہ کام ہے صرف مقتداؤں کا۔ جیسا کہ ولتکن منکم امۃ الایہ سے معلوم ہورہا ہے اور اس تخصیص میں ایک راز ہے۔ وہ یہ کہ دعوت عامہ (یعنی وعظ) اس وقت مؤثر ہوتی ہے کہ جب مخاطب کے قلب میں داعی کی وقعت ہو۔ بلکہ مطلق دعوت میں بھی اگر داعی کی وقعت نہ ہو تو وہ مؤثر نہیں ہوتی تو عام دعوت میں عام مخاطبین کے قلب میں داعی کی وقعت ہونی چاہیے اور ظاہر ہے کہ بجز مقتداء کے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو عام لوگوں کے دل پر اثر ڈال سکے اور ایسے لوگ کتنے ہوتے ہیں۔ جو یہ سمجھتے ہوں کہ انظر الی ماقال ولا تنظر الی من قال اور یہ سمجھتے ہوں کہ
مردباید کہ گیرد اندر گوش
درنبشت است پند بر دیوار

(انسان کو چاہیے کہ نصیحت پر عمل کرے۔ وہ نصیحت کی بات خواہ دیوار پر لکھی ہوئی کیوں نہ ہو)(١)

(١)اشرف التفاسیر- از مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ، تفسیر سورہ ٣آلِ عمران، آیت ١٠٤، تاریخِ اشاعت غیر مذکور

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں