پیر، 19 اکتوبر، 2015

صفت احسان اور دیدار الٰہی

"سربکف" میگزین 1-جولائی،اگست 2015

قاری  معاذ شاہد حفظہ اللہ
 
١
 
 
۔۔۔۔اَن تَعبُدَاللہَ کَاَنّکَ تَرَاہ فَاِلَّم تَکُن تَرَاہُ فَاِنّہ یَرَاکَ ۔۔۔۔

حضرت جبرائیل علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احسان کیا ہے   ،، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  کہ تو عبادت ایسے کر گویا کہ تو اللہ تعالی کو دیکھ رہا ھےاور   اگر تو اللہ کو نہیں دیکھ رہا تو اللہ تو تمہیں دیکھ رہا ھے۔
    یہاں پر اشکال یہ ھے ہمارا اللہ کو دیکھنا تو محال ھے پھر ہم یہ کیسے تصور کرلیں تو اسکا طریقہ کار بیان فرمایا کہ یہ تصور کرکہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ھے جب یہ تصور کرے گا تو پھر عمل.کے اعتبار سے ایسا ہی ہو جائے گا کہ تو اس کو دیکھ رہا ھے    ۔۔ جب مالک بندے کو دیکھتا ہے تو کام بڑی توجہ سے ہوتا ھے ۔۔لیکن  اگر صرف تم اسے دیکھو تو اس میں وہ بات نہیں ھے جو مالک کے دیکھنے میں ھے
بعض علماء نے اس میں دو درجے بیان فرمائے ہیں
۔۔۔1 ۔۔۔ اعلی درجہ تو یہ ھے کہ اس چیز کا تصور کرے کہ تو اللہ کو دیکھ رہا ھے
۔۔۔2 ۔۔۔ اور ادنی درجہ یہ ھے کہ وہ تجھے دیکھے ۔۔
صوفیاء کرام نے ایک بہت خوبصورت بات فرمائی  فان لم تکن   کہ اگر تو اپنے آپ کو اس ذات پر فنا کردے تو  تَرَاہ تو بدلے میں تُو اسے دیکھ لے گا
۔۔۔۔،،،۔۔۔ بقول شاعر ۔۔۔،،،،۔۔۔۔

ہم نے لیا ہے درد دل کھوکے بہار زندگی
اِک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیا

۔۔۔۔،،۔۔۔  ایک مقام مشاہدہ ہے ایک مقام مراقبہ ھے
مقام مشاہدہ یہ کہ اللہ. تجھے دیکھ رہا ھے
مقام مراقبہ یہ ھے کہ تو اللہ کو دیکھ رہا ھے
    ایک بزرگ دوسرے بزرگ کے پاس بیعت ہونے کیلئے گئے تو انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ کو صفت احسان حاصل ھے؟ انہوں نے جواب دیا الحمدلللہ  حاصل ھے. تو فرمایا پھر آپ کو میری بیعت کی ضرورت نہیں ھے کیونکہ بیعت کا اصل مقصد سالک کے اندر صفت احسان کو پیدا کرنا ھے ۔۔
ایک بزرگ فرمانے لگے دنیا میں تو کانک تراہ ھے یعنی  گویا کہ اسے دیکھ رہا ھے اور آخرت میں کاف ہٹا دیا جائے گا براہ راست اسے دیکھے گا  ۔۔۔۔۔۔ بقول شاعر ۔۔۔۔
نہیں وہ وعدہ کرتے دید کا حشر سے پہلے
دلِ مضطر کی ضد ھے کہ ابھی ہوتی یہیں ہوتی

 
٢

صفت احسان پیدا کرنے کا طریقہ  یہ ھے کہ اخلاص کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے ۔
قرآن مجید میں ارشاد ھے ۔۔ والذین جاھدو فینا لنھدینّھم سبلنا۔ ۔۔۔ جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے لئے مجاہدہ کرے گا ہم ہدایت کی راہیں اس کیلئے کھول دیں گے ۔۔
اورجو  اخلاص کے ساتھ مجاہدہ کرے گا اللہ تعالی فرماتے ہیں ہم اسے تین انعامات عطا فرمائیں گے
۔۔۔۔۔۔1 ۔۔۔۔۔۔ اس پر ہدایت کی راہیں کھول دیں گے
۔۔۔۔۔۔ 2 ۔۔۔۔۔  صفت احسان عطا فرمائیں گے
۔۔۔۔۔۔3 ۔۔۔ صفت احسان عطا فرما کر اپنی معیت نصیب فرمائیں گے ۔۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے ۔۔۔۔۔اللہمَّ انی اَسئلکَ لذَّۃَ نظرَۃً الی وَجھک ۔۔۔۔۔۔۔
اے اللہ میں آپ سے آپ کے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا سوال کرتا ہوں    
--------بقول شاعر -------
نگاہ عشق بے پردہ دیکھتی ھے انہیں
خِرد کیلئے ابھی حجاب عالم ھے

۔۔۔۔۔ایک شاعر یوں کہتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فانی اسی حسرت میں جیے اور مرے ہم
بے پردہ نظر آؤ کبھی دیدہ سر سے

     قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ۔۔۔اِنَّ اللہَ لَمع الُمحسِنین ۔۔۔  اس آیت میں اللہ صفت احسان والوں کے ساتھ معیت کا وعدہ فرما رہے ہیں
اور  ایک دوسری جگہ  پر ارشاد باری تعالی ہے ۔۔
اِنَّ اللہَ یحب المحسنین ۔۔ اللہ صفت احسان والوں کو پسند فرماتے ہیں ۔۔۔
یہ بھی بتا دیا کہ میں کن سے محبت کرتا ہوں کیوں کرت ہوں اور کن  کن کو پسند کرتا ہوں 
آج میرا دل کہتا ھے آؤ بڑھ کر شاعر کے اس قول پر عمل کرتے ہیں اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے ۔۔۔
  پردے ھٹے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ھے
  بڑھ کے مقدر آزما سر بھی ھے سنگ در بھی ھے

 
٣
 
اس آیت میں سب عبادات کا تذکرہ ھے یہ سب عبادات کو شامل ھے  جس طرح نماز میں صفت احسان ضروری ھے اسی طرح ہر عبادت،  ،،ذکر، تلاوت ، حج ،  زکٰوۃ ، روزہ ، ، جہاد ،  میں  استحضار (صفت احسان) ضروری ھے ۔
،،، 1 ،،، نماز
حضرت حاتم اصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہوں تو گویا اس طرح ہوتا ہوں کہ بیت اللہ میرے سامنے ھے دائیں طرف جنت  بائیں طرف جہنم ھے اور میرے پاؤں پل صراط پر ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ گویا یہ میری آخری نماز ھے اور نماز پڑھ کر امید اور خوف کے درمیان میں رہتا ہوں کہ نامعلوم قبول بھی ھو گی کہ نہیں
 ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب جنگ میں تیر لگا تو وہ جسم سے نماز کے دوران نکالا گیا اور ان کو خبر تک نہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔  ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو نماز میں اللہ کے غیر کا خیال نہیں آتا  تو کیا خوبصورت جواب دیا کہ نہ نماز میں آتا ھے اور نہ غیر نماز میں ( یعنی دل ہروقت اللہ کی یاد میں مصروف رہتا ھے )
 ۔۔۔۔۔۔۔۔  حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ عارف کا ایک سجدہ غیر عارف کے ایک لاکھ سجدوں پر بھاری ھے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔مولانا روم رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ،،،،
کہ عارف کا ایک سجدہ دو سو ملکوں کی سلطنت سے بہتر ھے۔۔
،،،،،،،شعر.  ،،،،،،،،
لیکے ذوقِ سجدۂ پیش خدا
           خوشتر از عائد ملک دو صد ترا،

اللہ تعالی کے سامنے سجدہ کرنے کی لذت.  دوسو ملکوں کی سلطنت سے بہتر ھے ۔
جب ہم نماز کیلئے مسجد کی طرف جائیں تو ایسے جائیں گویا کہ احرام باندھ کر  حج کو جا رہے ہیں  اپنی نظروں کی حفاظت کرتے ہوئے  اپنے رب کی آواز پر لبّیک کہتے ہوئے دنیا سے بے خبر ہوکر جائیں ،،
ایک بزرگ جب آزان کی آواز سنتے تو فورا کھڑے ہوجاتے اور یہ کہتے ہوئے اے اللہ میں حاضر اے اللہ میں حاضر مسجد کی طرف چل پڑتے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ ایک بزرگ فرمانے لگے کہ دنیاوی بادشاہ تو بے وقوف ہیں ملکوں کو حاصل کرنے کے لئے لشکر کشی کرتے ہیں.  اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ اسل دولت تو ہمارے پاس ھے تو ہم پر لشکر کشی کریں ،،،،،،،
،،،،،،، شعر ،،،،،،،
خدا کی یاد میں بیٹھے سب سے بے غرض ہوکر
تو پھر اپنا بوریا بھی ہمیں تخت سلیماں تھا

٭٭٭

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں