پیر، 19 اکتوبر، 2015

غیر مقلدین کا مختصرو مفصل تعارف

"سربکف" میگزین 1-جولائی،اگست 2015
عمر نعمان حفظہ اللہ
مولانا امین صفدر اوکاڑوی ؒ کو ایک غیر مقلد نےخود کو "اہلِ حدیث" کہہ کر متعارف کرایا تو انہوں نے بڑے دلچسپ پیرائے میں پہلے تو اُسے اہلِ سنت اور اہلِ حدیث کا فرق سمجھایا۔ پھر  فرمایا  کہ تیرا مذہب "اہلِ حدیث" تجھے محدث تو ثابت تو نہیں کرتا، لیکن حدیث کا ایک مطلب "نیا" بھی ہوتا ہے(بمقابلہ قدیم) یہ معنی تیرے مذہب پر ضرور فٹ ہوتی ہے۔
 زیرِ نظر مضمون میں اس "نئے" فرقے کا تعارف کرایا گیا ہے(مدیر)



اہل حدیث / غیر مقلدین کا مختصر تعارف :
اہل حادث ، سرپرستی و وفاداری ہے انگریز کی ،  شجرہ نسب و بانی ہے شیعہ اور یارانہ ہے قادیانیوں کا ، ان سب کے مجموعی تعاون و اشتراک سے معارض وجود میں آیا یه فتنه "نا اہل حدیث / غیر کے مقلد"
٭٭٭
اہل حدیث / غیر مقلدین کا مفصل تعارف :
 اہل حادث :
١﴾ نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:
“خلاصہ حال ہندستان کے مسلمانوں کا یہ ہے کہ جب سے یہاں اسلام آیا ہے، چونکہ اکثر لوگ بادشاہوں کے طریقہ اور مذہب کو پسند کرتے ہیں، اس وقت سے آج تک (انگریز کی آمد تک) یہ لوگ مذہب حنفی پر قائم رہے اور ہیں اور اسی مذہب کے عالم اور فاضل اور قاضی اور مفتی اور حاکم ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک جم غفیر نے مل کر فتاویٰ ہند یہ جمع کیا اور اس میں شاہ عبدالرحیم صاحب والد بزرگو ارشاہ ولی اللہ صاحب دہلویؒ بھی شریک تھے۔ (ترجمان وہابیہ ص٢٠)
۲﴾ اسی کتاب میں نواب صاحب دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
“ہندستان کے مسلمان ہمیشہ سے مذہب شیعی یا حنفی رکھتے ہیں” (ترجمان وہابیہ)
۳﴾ مولوئ محمد شاہجہانپوری اپنی مشہور کتاب “ الارشاد الٰی سبیل الرشاد” میں ہندستان میں اپنے فرقہ کے نومولود نو خیز ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں:
“کچھ عرصہ سے ہندستان میں ایک ایسے غیرمانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آرہے ہیں جس سے لوگ بالکل نا آشنا ہیں”۔ پچھے زمانہ میں شاذ و نادر اس خیال کے لوگ کہیں ہوں تو ہوں مگر اس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں میں سنا ہے۔ اپنے آپ کو تو اہل حدیث یا محمدی یا موحد کہتے ہیں، مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیرمقلد یا وہابی یا لامذہب لیا جاتا ہے۔ (الارشاد الی سبیل الرشاد، ص١٣)
انگریز کی سرپرستی :
١﴾ غیرمقلدین کے مشہور عالم مولوی عبدالمجید سو ہد روی لکھتے ہیں
مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی نے اشاعۃ السنۃ کے ذریعہ اہلحدیث کی بہت خدمت کی، لفظ وہابی آپ ہی کی کوششوں سے سرکاری دفاتر اور کاغذات سے منسوخ ہوا اور جماعت کو اہلحدیث کے نام سے موسوم کیا گیا"۔ (سیرت ثنائی:۳۷۲)
۲﴾ سرچارلس ایچی سن صاحب جو اسوقت پنجاب کے لفٹیننٹ گورنر تھے آپ کے خیرخواہ تھے؛ انہوں نے گورنمنٹ ہند کواس طرف توجہ دلاکر اس درخواست کو منظور کرایا اور پھر مولانا محمدحسین صاحب نے سیکریٹری گورنمنٹ کو جو درخواست دی اس کے آخری الفاظ یہ تھے:
"استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام اہلحدیث کا حکم پنجاب میں نافذ کیا جائے"۔ (اشاعۃ السنۃ:۱۱ شمارہ نمبر:۲ صفحہ نمبر:۲۶)
۳﴾ جس دن اس جماعت نے سرکار انگلیشیہ سے اپنے نئے نام اہل حدیث کی تصدیق کرا دی تھی ( نگارشات ، ص 382 ، مولانا محمد اسماعیل سلفی )
۴﴾ مگر جناب مولوی اب سعید محمد حسین کو وھابی نام ہونا گوارا نہ تھا  ، انھوں نے گورنمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اس فرقے کو جو در حقیقت اہل حدیث ہے اور لوگوں نے از راہ ضد و حقارت اس کا نام وہابی رکھ دیا ہے ، گورنمنٹ اس کو وہابی کے نام سے مخاطب نہ کرے ﴿ مکالات سرسید ، مولانا محمد اسماعیل پانی پتی ﴾
۵﴾ مولوی بٹالوی صاحب نے جماعت اہلحدیث کے وکیل اعظم کی حیثیت سے حکومت ہند اور مختلف صوبہ جات کے گورنروں کو لفظ وہابی کی منسوخی اور اہلحدیث نام کی الاٹمنٹ کی جو درخواست دی تھی کہ ان کی جماعت کو آئندہ وہابی کے بجائے اہل حدیث کے نام سے پکارا جائے اور سرکاری کاغذات اور خطوط و مراسلات میں وہابی کے بجائے  اہلحدیث لکھا جائے، انگریز سرکار کی طرف سے ان کی سابقہ عظیم الشان خدمات اور جلیل القدر کارناموں کے پیش نظر اس درخواست کو گورنمنٹ برطانیہ نے باقاعدہ منظور کرکے لفظ وہابی کی منسوخی اور اہل حدیث نام کی الاٹمنٹ کی باضابطہ تحریر اطلاع بٹالوی صاحب کو دی، سب سے پہلے حکومت پنجاب نے اس درخواست کو منظور کیا۔
لیفٹینٹ گورنر پنجاب نے بذریعہ سیکرٹری حکومت پنجاب مسٹر ڈبلیو، ایم، ینگ صاحب بہادر نے بذریعہ چھٹی نمبری ۱۷۸۷ مجریہ ۳ دسمبر ۱۸۸۶ء اس کی منظوری کی اطلاع بٹالوی صاحب کو دی، اسی طرح گورنمنٹ سی  پی کی طرف سے ۱۴ جولائی ۱۸۸۸ء بذریعہ خط نمبری ۴۰۷، گورنمنٹ یو پی کی طرف سے ۲۰ جولائی ۱۸۸۸ء بذریعہ خط نمبری  ۳۸۶ گورنمنٹ بمبئی کی طرف سے ۱۴ اگست ۱۸۸۸ء بذریعہ خط نمبری ۷۳۲، گورنمنٹ مدراس کی طرف سے ۱۵ اگست ۱۸۸۸ء بذریعہ خط نمبری  ۱۲۷، گورنمنٹ بنگال کی طرف سے  ۴ مارچ ۱۸۹۰ء بذریعہ خط نمبری ۱۵۶۔ اس درخواست کی منظوری کی اطلاعات مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو فراہم کی گئیں (اشاعت السنہ شمارہ ۲ جلد ۱۱  صفحہ ۳۲ تا صٖحہ ۳۹، جنگ آزادی از جناب پروفیسر محمد ایوب صاحب قادری صفحہ ۶۶)
انگریز کی وفاداری :
١﴾ میاں سید نذیر حسین دہلوی نے اس میں انگریز عورت کو باغیوں سے بچایا اور اس کو پناہ دی ( معیار الحق ، ص 19 )
۲﴾ مولوی سید نذیر حسین دہلی کے ایک بہت بڑے مقتدر عالم ہیں جنہوں نے نازک وقتوں میں اپنی وفاداری گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ثابت کی ہے ( الحیاۃ بعد المماۃ )
۳﴾ میاں صاحب (مولوی سید نذیر حسین ) بھی گورنمنٹ انگلیشیہ کے کیسے وفادار تھے ، زمانہ غدر 1857ء میں جب دہلی کے بعض مقتدر اور بیشتر معمولی مولویوں نے انگریز پر جہاد کا فتوی دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پردستخط کیے نہ مہر ( الحیاۃ بعد المماۃ )
۴﴾ “کتب تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو امن و آسائش و آزادگی اس حکومت انگریزی میں تمام خلق کو نصیب ہوئی کسی حکومت میں بھی نہ تھی (یعنی انگریز سے قبل عالم اسلام کے سلاطین مثلاً سلجوتی، عثمانی سلاطین، وغیرہ ہم کے ادوار حکومت اس  امن و آسائش اور آزادگی مذہب سے خالی تھے) اور وجہ اس کی سوائے اس کے کچھ نہیں سمجھی گئی کہ گورنمنٹ نے آزادی  کامل ہر مذہب والے کو دی” (ترجمان وہابیہ ص۱۶ ، نواب صدیق حسن خان )
دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں کہ:
اور یہ لوگ (غیرمقلدین) اپنے دین میں وہی آزادگی برتتے ہیں، جس کا اشتہار بار بار انگریز سرکار سے جاری ہوا
۵﴾ سوانح نگار غیرمقلد عالم مولوی فضل حسین بہاری کی زبانی سنیئے۔ موصوف لکھتے ہیں:۔
عین حالت غدر میں (جہاد حریت کو غدر سے تعبیر کیا جا رہا ہے فوااسفا !) جبکہ ایک  ایک بچہ انگریزوں کا دشمن ہو رہا تھا (سوائے غیرمقلدوں کے)  سزلیسنس ایک زخمی میم کو میاں صاحب رات  کے وقت ا  ٹھوا کر اپنے گھر لے  گئے، پناہ دی، علاج کیا، کھانا دیتے رہے، اس وقت اگر ظالم باغیوں کو ذرا بھی خبر ہو جاتی تو آپ کے قتل اور خانماں بربادی میں مطلق دیر نہ لگتی۔ (الحیات بعد الممات ص۱۲۷)
٦﴾ مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی رقمطراز ہیں:۔
“غدر  ۱۸۵۷ء میں کسی اہل حدیث نے گونمنٹ کی مخالفت نہیں کی ( کیوں کرتے اس کے وفادار اور جان نثار جو تھے) بلکہ پیشوا یان اہل حدیث نے عین اس طوفان بے تمیزی میں ایک زخمی یورپین لیڈی کی جان بچائی اور عرصہ کئی مہینے تک اس کا علاج معالجہ  کر کے تندرست ہونے کے بعد سرکاریکیمپ میں پہنچا دی”۔(اشاعت السنۃ صفحہ۲۶ شمارہ ۹ جلد ۸)
۷﴾ مولوی فضل حسین بہاری لکھتے ہیں:۔
“ڈاکٹر حافظ مولوی نذیر احمد صاحب (جو کہ میاں صاحب کے قریبی رشتہ دور ہیں) فرماتے  تھے کہ زمانہ غدر میں مسزلیسنس زخمی میم کو جس وقت میاں (نذیر حسین صاحب) نے نیم جان دیکھا تو (زار وقطار) روئے اور اہنے مکان میں اٹھالائے، اپنی اہلیہ اور عورتوں کو ان کی خدمت کیلئے نہایت تا کید کی ۔ ۔ ۔ اس وقت اگر باغیوں (مسلمانوں) کو ذرا بھی خبر  لگ جاتی تو آپ کی بلکہ سارے خاندان کی جان بھی جاتی اور خانماں بربادی میں بھی کچھ دیر نہ لگتی۔۔۔ امن قائم ہونے کے بعد میم  کو انگریزی کیمپ میں پہنچا یا، جس کے نتیجہ میں آپ کو اور آپ کے متو سلین کو گونمنٹ انگریزی کی طرف سے امن و امان کی چھٹی ملی چنانچہ انگریزوں کے تسلط کے بعد جب سارا شہر غارت کیا جانے لگا تو صرف آپ کا محلہّ آپ کی (انگریزی خدمات) کی بدولت محفوظ رہا”۔ (الحیات بعد الممات ص۲۷۶-۲۷۵ سوانح میاں نذیر حسین دہلوی)
۸﴾ مولوی نذیر حسین دہلوی کے ایک بڑے مقتدر عالم ہیں جنہوں نے مشکل اور نازک وقتوں میں اپنی وفاداری اور نمک حلالی گونمنٹ برطانیہ پر ثابت کی ہے۔ اب وہ اپنے فرض زیارت کعبہ کے ادا کتنے کو جاتے ہیں۔
امید کرتا ہوں کہ جس کسی افسر برٹش گورنمنٹ کی وہ مدد چاہیں گے وہ ان کو مددے گا کیونکہ وہ کامل طور سے اس مدد کے مستحق ہیں۔ دسخط جی ڈی ٹریملٹ بنگال سروس کمشنر دہلی ۱۰ اگست  ۱۸۵۷ء اشاعت السنہ صفحہ ۲۹۴ شمارہ۱۰، ج۸، الحیات بعد الممات صفحہ ۱۴۰ مطبوعہ کراچی
۹﴾ سوانح نگار مولوی فضل حسین بہاری لکھتے  ہیں “چنانچہ جب شمس العلماء کا خطاب گورنمنٹ انگلشیہ سے (نمک حلالی اور وفاداری  اور مسلمانوں سے غداری کے صلہ میں آپ کو ملا اور اس کا تذکرہکوئی آپ کے سامنے کرتا تو آپ فرتے کہ:
میاں ! خطاب سے کیا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ دنیاوی خطاب سلاطین سے ملا کرتا ہے یہ گو یا ان کی خوشنودی کا اظہار ہے۔ مجھے تو کوئی نذیر کہے تو کیا اور شمس العلماء کہے تو کیا میں نہایت خوش ہوں۔ (الحیات بعد المماۃ صفحہ٤)
١۰﴾ نواب  صدیق حسن خان لکھتے ہیں :
“اور حاکموں کی اطارت اور رئیسوں کا انقیاد ان کی ملت میں( غیرمقلدوں کی مذہب میں) سب واجبوں سے بڑا واجب ہے”۔ (ترجمان وہابیہ ص۲۹)
١١﴾ پس فکر کرنا ان لوگوں کا جواپنے حکم مذہبی سے جاہل ہیں اس امر میں کہ حکومت برٹش مٹ جائے اور یہ امن  و امان جو آج حاصل ہے فساد کے پردہ میں جہاد کا نام لے کر اٹھا دیا جائے سخت نادانی اور بےوقوفی  کی بات ہے”۔ ( ترجمان وہابیہ ص۷)
١۲﴾ سرکار انگریز کی مخلفت قطعا نا جائز ہے
نواب  صدیق حسن خان رقمطراز ہیں:
“اور کسی شخص کو حیثیت موجودہ پر ہندستان کے دارالاسلام ہونے میں شک نہیں کرنا چاہیے”۔ (ترجمان وہابیہ ص۴۸)
١۳﴾ کوئی فرقہ ہماری تحقیق میں زیادہ تر خیر خواہ اور طالب امن و امن و آسائش رعایا کا اور قدر شناس اس بندوبست گورنمنٹ کا اس گروہ (غیرمقلدین) سے  نہیں ہے۔ (ترجمان وہابیہ صفحہ ۱۱۴)
حلانکہ جو  خیر خواہی ریاست بھوپال و غیرہ نے اس زمانہ میں کی ہے، وہ گورنمنٹ برطانیہ پر ظاہر ہے۔ ساگر و جھانسی تک سرکار انگریزی کو مددغلہ و فوج وغیرہ سے دی، جس کے عوض میں سرکار نے گنہ “بیرسیہ” جمع ایک لاکھ روپیہ عنایت فرمایا۔
١۴﴾ نواب  صدیق حسن خان لکھتے ہیں :
چار برس ہوئے جب اشتہار جنگ کابل اجنٹی سے بھوپال میں آیا۔ اسی دن سے نواب شاہ جہان بیگم صاحبہ والی ریاست نے طرح طرح کے عمدہ  بندوبست کئے۔ اشتہار عام جاری کیا کہ کوئی مسافر ترکی ، عربی (جس پر انگریز کی مخالفت کا ذرہ بھی شبہ ہو) شہر میں ٹھہرنے نہ پائے چنانچہ اب تک یہی حکم جاری ہے (حد ہو گئی انگریز پرستی کی) اور اس کی تعمیل ہوتی ہے سرکار گورنمنٹ میں خط لکھا کہ فوج کنجنٹ اور فوج بھوپال واسطے مدد (انگریز کے مسلمانوں کے خلاف) حاضر ہے اور ریاست سپاہ و مال سے واسطے مدد ہی (انگریز کے) موجود ہے مدت تک فوج بھوپال اس چار سال میں اندر نوکری گورنمنٹ کی چھاؤنی سیور میں عرض کنجنٹ کے بجالائی اور خاص میں  نے اور بیگم صاحبہ نے واسطے جنگ کابل کے چندہ دیا۔ (ترجمان وہابیہ صفحہ ۱۱۴-۱۱۳)
١۵﴾ جو لڑائیاں غدر میں واقع  ہوئیں وہ ہر گز شرعی جہاد نہ تھیں اوور کیونکہ وہ شرعی جہاد ہو سکتا ہے کہ جو امن و امان خلائق کا اور ر احت ورفاہ مخلوق کا حکومت انگلشیہ سے زمین ہند پر قائم تھا اس میں بڑا خلل واقع ہو گیا۔ یہاں تک کہ بوجہ بے اعتباری رعا یا نوکری کا ملنا محال ہو گیا اور  جان و مال و آبرو کا بچانا محال ہو گیا۔ (ترجمان وہابیہ ص۳۴)
١٦﴾ نواب صاحب لکھتے ہیں کہ:
“کسی نے نہ سنا ہو گا کہ آج تک کوئی موحد، متبع سنت، حدیث و قرآن پر چلنے والا بیوفائی اور اقرار توڑنے کا مرتکب ہوا ہو۔ یا فتنہ انگیزی اور بغاوت پر آمادہ ہوا ہو اور جتنے لوگوں نے غد میں شروفساد کیا اور حکام انگلشیہ سے برسرعناد ہوئی وہ سب کے سب مقلدان مذہب حنفی تھے نہ متبعان سنت نبوی (غیرمقلد) (ترجمان وہابیہ ص۲۵)
١۷﴾ نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں
اور وہ لوگ جو بمقابلہ برٹش گورنمنٹ ہند یا کسی ایک بادشاہ کے جس نے آزادی مذہب دی ہے ہتھیار اٹھاتے ہیں اور مذہبی جہاد کرنا چاہتے ہیں کل ایسے لوگ باغی ہیں اور مستحق سزا کے مثل باغیوں کے شمار ہوتے ہیں۔ (ترجمان وہابیہ ص۱۲۰)
١۸﴾ بٹالوی صاحب لکھتے ہیں:
“اس گروہ اہل حدیث کے خیر خواہ و فادار رعایا برٹش گورنمنٹ ہونے پر ایک بڑی روشن اور قوی دلیل یہ ہے کہ یہ لوگ برٹش گورنمنٹ کے زیر حمایت رہنے  کو اسلامی سلطنتوں کے زیر سایہ رہنے سے بہتر سمجھتے ہیں اور اس امر کو اپنے قومی وکیل اشاعت السنہ کے ذریعہ سے (جس کے نمبر ۱۰ جلد ۶ میں اس کا بیان ہوا ہے اور وہ نمبر ہر ایک لوکل گورنمنٹ اور گورنمنٹ آف اندیا میں پہنچ چکا ہے) گورنمنٹ پر بخوبی ظاہر اور مدلل کر چکے ہیں جو آج تک کسی اسلامی فرقہ رعایا گورنمنٹ نے ظاہر نہیں کیا  اور نہ آئندہ کسی سے اس کے ظاہر ہونے کی امید ہو سکتی ہے۔” (اشاعت اسنہ ۲۶۲ شمارہ ۹ جلد ۸)
١۹﴾ اس جگہ راز افزوں ترقی  واقبال پر فائز ہو کر اہل اسلام کے لئے بہبود اور نفع کا سر چشمہ بنیں اور برطانیہ کے تاج و تخت  کو (جس کی نیابت سے جناب والا بہرہ مند  ہیں) ترقی واستحکام عطا ر فرما کر ملک کے لئے امن و برکت اور اہل اسلام کے لئے حمایت و حفاظت کا ذریعہ ثابت ہوں۔
ہم ہیں حضور کے وفادار جانثار حضور کی رعایا۔
مولوی سید نذیر حسین دہلوی (شیخ الکل فی الکل شمس العلماء وآیۃ من آیات اللہ)
ابو سعید محمد حسین بٹالوی وکیل اہلحدیث ہند۔
مولوی احمد اللہ و اعظ میونسپل کمشنر امرتسر۔
مولوی قطب الدین پیشوائے اہلحدیث روپڑ۔
مولوی حافظ عبداللہ غازی پوری۔ مولوی محمد سعید بنارس۔
مولوی محمد ابرہیم آرہ۔ مولوی سید نظام الدین پیشوائے اہلحدیث مدارس۔
(اشاعت السنہ صفحہ ۴۰۔۴۲ شمارہ نمبر ۲ جلد ۱۱)
شیعہ بانی :
١﴾ عبد الحق بنارسی ( تفریظ الکلام المفید ، مولانا عبد الدیان )
۲﴾ شیخ الکل فی الکل شمس العلماء مولوی نذیر حسن دہلوی کے استاد اور  خسر مولانا ربدالخالق صاحب اپنی مشہور کتاب “تنبیہ الضالین” میں اس فرقہ کے نواحداث (نوپیدا) ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
۳﴾ سو بانی مبانی اس فرقہ نو احداث (غیرمقلدین ) کا عبدالحق بنارسی ہے۔ جو چند روز بنارس میں رہتا ہے اور حضرت امیر المؤمنین (سید احمد شہیدؒ) نے ایسی ہی حرکات ناشائستہ کے باعث اپنی جماعت سے اس کو نکال دیا اور علماء حرمین شریفین نے اس کے قتل کا فتویٰ لکھا مگر کسی طرح وہاں سے بچ نکلا۔
۴﴾ نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں  یعنی کہ عبدالحق بنارسی کی عمر کے درمیانی حصے میں اس کے عقائد میں تزلزل اور اہل تشیع کی طرف رحجان بڑا مشہور ہے ﴿ سلسلتہ العسجد ﴾
۵﴾ قاری عبد الرحمان محدث پانی پتی لکھتے ہیں ًبعد تھوڑے عرصے کع مولوی عبدالحق صاحب ، مولوی گلشن کے پاس گئے ، دیوان راجہ بنارس کے شیعہ مذہب کے تھے اور یہ کہا کہ میں شیعہ ہوں اور اب میں ظاہر شیعہ ہوں ، اور میں نے عمل بالحدیث کے پردے میں ہزار ہا اہل سنت کو قید مذہب سے نکال دیا ہے اب ان کا شیعہ ہونا بہت آسان ہے ، چنانچہ مولوی گلشن علی نے تیس روپیہ ماہوار ان کی نوکری کروا دی ﴿ کشف الحجاب ، ص ۲١ ﴾
شیعہ شجرہ نسب
نواب صدیق حسن خاں کے والد نواب سید اولاد حسن خاں شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے ﴿ محدث ، خافظ عبد الرحمٰن مدنی ﴾
قادیانی یارانه :
١﴾ مرزا غلام احمد کی تصنیف "براہین احمدیه" میں غیر مقلد مولوی نذیر حسین لکهتا هے که " ... اس کا مولف بهی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ، جسکی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت هی کم پائی گئی هے ... مولف صاحب ہمارے هم وطن هیں ، بلکه اوائل عمر کے همارے هم مکتب . اس زمانه سے لیکر آج تک هم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مرسلت جاری رهی هے ... مولف براہین احمدیه نے مسلمانوں کی عزت رکه دکهائی هے
۲﴾ بٹالوی صاحب لکھتے ہیں۔
“مولوف برائے احمدیہ” کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین میں سے ایسے کم واقف نکلیں گے۔ مؤلف ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل  عمر کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے) ہمارے ہم مکتب تھے۔ اس زما نہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلات برابر جاری و ساری ہے۔ (اشاعت السنہ جلد۷ بحوالہ مجدد اعظم ص۲۱ تا ۲۲ ج۱)
۳﴾ بٹالوی صاحب برہین احمدیہ پر دیویو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔
“اس  کا مؤلف (مرزا غلام احمد قادیانی) اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے”۔ (مجدد اعظم ص۲۲ج۱)
۴﴾ خود مولوی محمد حسین بٹالوی  باوجود اس قدر بڑا عالم  اور محدث ہونے کے اس قدر آپ (مرزا قادیانی) کی عزت و احترام کرتا تھا کہ آپ کا جوتا اٹھا کر آپ کے سامنے سیدھا کرکے رکھ دیتا اور اپنے ہاتھ سے آپ کو وضو کرانا اپنی سعادت سمجھتا تھا”۔(مجدد اعظم ص۲۲)

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں