پیر، 19 اکتوبر، 2015

جھوٹ حاضر ہے

"سربکف" میگزین 1-جولائی،اگست 2015
    "1893ء کے ماہ مئی میں آپ پھر قادیان سے نکلے اور امرتسر میں ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی کے ساتھ تحریری مباحثہ فرمایا جس کی روئداد جنگ مقدس میں شائع ہوچکی ہے. یہ مباحثہ 22/مئی 1893ء کو شروع ہوکر 5/جون 1893ء کو ختم ہوا اور حضرت صاحب نے اپنے آخری پرچہ میں آتھم کے لئے خدا سے خبر پاکر وہ پیشگوئی فرمائی جس کے نتیجہ میں آتھم بالآخر اپنے کیفر کردار کو پہنچا. "
    (سیرت مہدی،جلد اول،حصہ دوم، تحریر نمبر420،صفحہ نمبر380)
    دوستو اصولی طور پر قادیانیوں کا یہ انگریزی نبی مرزاقادیانی ملعون اپنی کسی ایک پیش گوئی میں سچا ثابت نہیں ہوا اور اپنی تمام پیش گوئیوں میں جھوٹا نکلا.
    مرزاقادیانی ملعون کی زبانی پیش گوئیوں کی نسبت معیار صداقت ملاحضہ ہو:
    "اگر ثابت ہوجائے کہ میری سو پیش گوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں. "
    (حاشیہ اربعین نمبر4 ص30)
    اصل حقائق:
    تو دوستو ہم اس سفید جھوٹ اور دجل سے پردہ اٹھانے لگے ہیں اصل حقائق اس طرح سے ہیں:
    عبداللہ آتھم نامی پادری کے ساتھ مرزاقادیانی ملعون کا پندرہ دن تک مباحثہ ہوتارہا. مرزاقادیانی ملعون اپنے حریف کو میدان میں شکست دینے میں بری طرح ناکام رہا، تو 5 جون 1893ء کو الہامی پیش گوئی کرڈالی کہ پندرہ مہینے تک اس کا حریف ھادیہ میں گرایا جائے گا. بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے، اس سلسلہ میں مرزا قادیانی ملعون لکھتا ہے:
    "میں اس وقت اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے، یعنی جو فریق خدا تعالٰی کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ (15)ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ھادیہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کو اُٹھانے کے لئے تیار ہوں. مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین و آسمان مل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی.
    اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو." (جنگ مقدس ص 189)
    نتیجہ:
    پیش گوئی کو آخری معیاد 5 ستمبر 1894ء تھی مگر عبداللہ آتھم نے اس تاریخ تک نہ تو عیسائیت سے توبہ کی اور نہ اسلام کی طرف رجوع کیا، نہ بسزائے موت ھادیہ میں گرا، مرزاقادیانی لعین نے اس کو مارنے کے لئے ٹونے ٹوٹکے بھی کئے (دیکھو سیرت مہدی، جلد اول، حصہ اول، تحریری نمبر175، صفحہ نمبر168)
    اور معیاد کے آخری دن خدا سے آہ و زاری کے ساتھ یا اللہ! آتھم مرجائے یا اللہ! آتھم مرجائے کی دعائیں بھی کیں کرائیں (الفضل 20 جولائی 1940ء)مگر سب کچھ بے سود نہ عبداللہ آتھم پر ٹونے ٹوٹکوں کا اثر ہوا، نہ خدا نے قادیان کی آہ و زاری، نوحہ و ماتم اور بددعاؤں کو عبداللہ آتھم کے حق میں قبول فرمایا، اس کا نتیجہ وہی ہوا جو مرزا قادیانی ملعون نے اپنے لئے تجویز کیا تھا یعنی:
    "میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی تو مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے........اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو."
    چنانچہ مرزا قادیانی لعین کے اس ارشاد کی تعمیل فریق مخالف نے کس طرح کی؟؟؟؟؟؟
    اس کا اندازہ ان گندے اشتہاروں سے کیا جاسکتا ہے جو اس میعاد کے گزرنے پر ان کی طرف سے شائع کئے گئے. بطور نمونہ صرف ایک شعر ملاحظہ ہو کہ قادیانی ٹولے کے اس انگریز کا خود کاشتہ پودا مرزا قادیانی ملعون کو مخاطب کرکے یہ شعر لکھا گیا:
ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا مگر(١)
سب سے سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپکی

    یہ قادیانیوں کے منہ بولے مسیح موعود مرزا قادیانی ملعون کے اُس فقرے کی صدائے بازگشت تھی کہ "تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو."(٢)
(١)مصرع وزن کے موافق نہیں ہے۔موافقِ وزن یوں ہوگا" ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا میں مگر")مدیر)
(٢)بشکریہ ختمِ نبوت ڈاٹ آرگ www.khatmenbuwat.org

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں