پیر، 19 اکتوبر، 2015

داڑھی مونڈنا ممنوع اور داڑھی مونڈنے کی مزدوری لینا حرام

 "سربکف" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015
مدیر کے قلم سے
دیوبند، (ایس این بی) داڑھی کا مونڈنا شریعت میں گناہِ کبیرہ ہے اور داڑھی مونڈنے والے حجام کی کمائی کو بھی علماءِ کرام نے ناجائز قرار دیا ہے۔ شریعت کے اس حکم کے باوجود کتنے ہی لوگ نبیﷺ کی ، اور تمام پیغمبروں کی مشترکہ سنت کو مونڈتے ہیں، اور مونڈواتے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دارالعلوم چوک پر واقع فرینڈ ہیئر سیلون پر دارالعلوم دیوبند کا ایک فتویٰ فلیکس کی صورت میں چسپاں رہا، اور لوگوں کی گفتگو کا موضوع بھی بنا رہا۔ فرینڈس ہیئر سیلون کے مالک محمد ارشاد نے دارالافتاء دیوبند سے رجوع کرکے ایک فتوی طلب کیا کہ شریعت میں داڑھی مونڈنے اور مونڈانے کی کیا حیثیت ہے۔ اس کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کے مفتی وقار علی، مفتی فخر الاسلام اور مفتی زین الاسلام قاسمی کے دستخطی فتوی میں کہا گیا ہے کہ:
"داڑھی منڈوانا اور مونڈنا دونوں گناہِ کبیرہ ہیں اور معصیت و گناہ پر لی گئی اجرت ناجائز ہے۔ شیونگ خواہ مسلمان کی کی جائے یا غیر مسلم کی، دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ اس لیے شیونگ کرنے سے احتراز کرنا واجب ہے۔ حجامت کا پیشہ کرنے والے کو بھی جائز وسیلہ سے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کرنا واجب اور ناجائز ذرائع سے احتراز کرنا لازم ہے۔ "
    اس فتویٰ کو محمد ارشاد نے اپنی دکان پر فلیکس کی شکل میں چسپاں کردیا ہے۔ یہ فتوی دن بھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا...نوجوان اس خبر کو سوشل میڈیا  واٹس ایپ وغیرہ کے توسط سے دھڑادھڑ شیئر کرتے رہے۔
٭٭٭

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں