پیر، 19 اکتوبر، 2015

عقائد علماء اہلحدیث (قسط ٢)

 "سربکف" میگزین 2-ستمبر، اکتوبر 2015
عباس خان حفظہ اللہ
غیر مقلدوں کی چیلینج بازیاں  خوب ہوتی ہیں۔  جنہیں اتنی سادہ سی بات بھی  سمجھ نہ آتی ہو کہ ہر علم کی اصطلاحات جُدا ہوتی ہیں، ہر فن کی اصطلاح اُسی پر منطبق کر کے   دیکھی جاتی ہیں،خصوصاً تصوف(احسان) میں۔ انہوں نے تصوف کی عبارت کو عقیدہ پر فٹ کیا، نتیجہ ظاہر ہے کہ ہر "جی ایم" مفتی اور مجتہد بنا ہوا ہے۔ ذیل کے مضمون میں اُن کے اپنے عقائد بتائے گئے ہیں، شاید کچھ انصاف سے پڑھنے پر ذہن صاف ہوجائے۔ ہداھم  اللہ۔ (مدیر)  

عقیدہ نمبر 11
آذان عثمانی بدعت ضلالت ہے۔
غیرمقلدین کے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب لکھتے ہیں۔
یہ اذان رائجہ بدعت ضلاف ہے (فتاویٰ ثنائیہ ج 1 ص 432)
مولوی محمد جونا گڑھی  صاحب لکھتے ہیں:
پس ہمارے زمانہ میں مسجد میںجو دو اذانین جمعہ کے لئے ہوتی ہیں صریح بدعت  ہے کسی طرح جائز نہیں۔
(فتاویٰ اہلحدیث  ج 2 ص 106)
غیرمقلد وکٹورین ایک اور بات بھی کہتے ہیں کہ  دور عثمانی میں یہ آذان  کسی بلند جگہ کہلاوئی جاتی تھی اور آج کل  اہلسنت حنفی شافعی مالکی اور حنبلی یہ آذان مسجد میں دی جاتی ہے اور ہم اسے بدعت ضلالت کہتے ہیں۔ العیاذ باللہ یہ لوگ کس دلیل سے اسے بدعت ضلالت کہتے ہیں حضورﷺ کے دور میں  تو بقیہ آذانیں بھی بلند جگہ پر دی جاتی تھیں اور اب صرف مسجد میں دی جاتی ہیں  اگر یہ بدعت ضلالت ہے تو کیا یہی آذان مسجد کی بجائے بازار یا کسی بلند عمارت پر دیں تو کیا  جائز ہو گئی ؟ اور یہی آذان حرم میں بھی دی جاتی ہے کیا وہ بھی بدعت ضلالت ہے؟

عقیدہ نمبر 12
دین میں نبی کی رائے حجت نہیں۔
غیرمقلدین کے خطیب الہند محمد جونا گڑھی صاحب لکھتے ہیں۔
”تعجب ہے کہ جس دین میں نبی کی رائے حجت نہ ہو اس دین والے آج ایک امتی کی رائے  کو دلیل اور حجت سمجھنے لگے“
(طریق محمدی ص 40)
جبکہ یہ بات ہی صحیح نہیں کیونکہ نبیﷺ دینی معملات میں رائے نہیں دیتے بلکہ وہ ان کا حکم ہوتا ہے جسے اپنانا لازم ہوتا ہے ہاں البتہ دنیاوی معملات میں آپﷺ نے خود اختیار دیا ہے اور جان چھڑانے کیلئے  اسے مجتہدین کے اجتہادات کے ساتھ جوڑ  نا بھی  صریح حماقت ہے۔
«إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِي، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ»
  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک انساں ہوں، جب میں تمہیں کوئی دین کی بات کا حکم دوں تو تم اس کو اپنا لو اور جب میں (دنیاوی معملات میں) اپنی رائے سے کسی چیز کے بارے میں بتاؤں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔
(صحیح مسلم ج 4 ص 1835)
اسی طرح ایک اور روایت میں آتا ہے۔
آپﷺ فرماتے ہیں۔
مَا لِنَخْلِکُمْ قَالُوا قُلْتَ کَذَا وَکَذَا قَالَ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاکُمْ۔
(صحیح مسلم  ج 4 ص 1836)
 تم لوگ اپنے دنیوی معاملات کو میرے نسبت زیادہ بہتر جانتے ہو۔
عقیدہ نمبر 13
ائمہ اربعہؒ کی تقلید بھی شرک ہے۔
فرقہ اہلحدیث کا ہر عامی جاہل اور عالم کہلائے جانے والا جاہل  یہ بات کرتا ہے۔
اب ان  کا اپنا اقرار بھی دیکھئے
ایک مولوی صاحب لکھتے ہیں:
” اور اس بات میں کچھ شک نہیں کہ تقلید خواہ آئمہ اربعہ میں سے کسی کی ہو خواہ ان کے سوا کسی اور کی شرک ہے“۔
(الظفر المبین ص 20)
جبکہ  پوری قرآن میں ایک بھی ایسی آیت موجود نہیں جس  میں اللہ تعالٰی نے آئمہ فقہاء مجتہدین  اہل استنباط کی تقلید کو شرک کہا ہو٭یا کم از کم روکا  ہو منع کیا ہو جیسا کفار مشرکین بے دین اور نا اہلوں کی تقلید سے منع  کیا ہے۔

عقیدہ نمبر 14
سنت عمر کفر ہے۔ نعوذ باللہ
فرقہ اہلحدیث کے مولوی عبد المتین میمن طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں لکھتا ہیں:
”سنت محمدی کو چھوڑ کر سنت عمرؓ کی طرف لوٹیں گے تو کفر ہے“۔
(حدیث خیر و شر ص 110)
العیاذ باللہ
پہلے عمرؓ کو نبی کے مقابلے میں کھڑا کر دیا  پھر ان کی طرف رجوع کرنے والے کو کافر قرار دیا اس میں وہ تمام صحابہ کرام ؓ آگے جنہوں نے حضرت عمرؓ کی پیروی کی لہذا اس احمق مولوی  کے مطابق حضرت عمرؓ اور ان کے پیروا سب کافر ہوئے۔  نعوذ باللہ 

عقیدہ نمبر 15
بیک وقت چار سے زائد شادیاں کی جاسکتی ہیں۔٭
فرقہ اہلحدیث کے مشہور عالم  نواب صدیق حسن خان صاحب اور نور الحسن صاحب لکھتے ہیں:
”چار کی کوئی حد نہیں (غیر مقلدمرد) جتنی عورتیں چاہے نکاح میں رکھ سکتا ہے“
(ظفرالامانی ص 141 ، عرف الجادی ص 111)

عقیدہ نمبر 16
فرقہ اہلحدیث کے نزدیک پیشاب پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف ہونا یا پشت کرنا بالکل جائز ہے ناجائز ہونا تو دور رہا مکروہ بھی نہیں ہے۔
(دستور المتقی ص 45 از مولانا یونس دہلوی، نزل الابرار ج 1 ص 53 از امام اہلحدیث نواب وحید الزمان)
جبکہ  احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ پیشاب ، پاخانہ کرتے وقت بغیر کسی عذر کے قبلہ رو ہونا اور پشت کرنا مطلقا ناجائز ہے، آبادی میں ہو یا صحرام میں حضورﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے اور بقلہ کے اکرام کرنے کا حکم دیا ہے۔
(بخاری ج1 ص 57 ، مسلم ج1 ص 130 ، زاد المعاد ج1 ص 8 ، مجمع الزوائد ج1 ص 205  ابو داود ؤغیرہ)

عقیدہ نمبر 17
زکوۃ کا انکار اور  اس میں حیلے
فرقہ اہلحدیث کے مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں
زیورات اور مال تجارت میں زکوۃ نہیں۔(بدور الاہلہ ص 102)
 اور زکوۃ کہاں دی جائے؟
نواب نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
ماں باپ اور سگی اولاد کو زکوۃ دینی جائز ہے۔
(عرف الجادی ص 72)
گویا کہ زکوۃ کے اصل حقداروں کو چھوڑ کر آپس میں ہی  ایک دوسرے  کو زکوۃ دے دی جائے تاکہ مال اندر ہی رہ جائے۔

عقیدہ نمبر 18
عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے والا ملعون ہے۔
حضرت عائشہؓ کی بدترین توہین
فتاویٰ نذیریہ کے مفتی غیرمقلدین کے شیخ الکل نے حضرت عائشہؓ کی شان میں زبردست گستاخی کی ہے ، انکا قول ” کہ اگر آج نبی کریمﷺان باتوں کو دیکھ لیتے جو عورتوں نے اختیار کر رکھی ہیں تو انہیں  مسجد جانے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتیں روک گی گئی تھیں“۔
 (بخاری ج1 ص 120)
 اس کے بعد  غیرمقلدین کے شیخ الکل کی بات ملاحظہ ہو۔
”پھر اب جو شخص بعد ثبوت قول رسول و فعل صحابہ کی مخالفت کرے وہ اس آیت کا مصداق ہے۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ...۔۔ الخ (الایۃ) جو حکم صراحۃ شرع  میں ثابت ہو جائے اس میں ہر گز رائے و قیاس کو دخل نہ دینا چاہئے کہ شیطان اس قیاس سے کہ انا خیر منہ حکم صریح الٰہی سے انکار کرکے ملعون بن گیا ہے اور یہ بالکل شریعت کو بدل ڈالنا ہے“
(فتاویٰ نذیریہ جلد۱ ص۲۶۶)
غیرمقلدین کے شیخ الکل کی گمراہی ملاحظہ  فرمائیں اس نے در پر دہ حضرت عائشہؓ پر کیسا زبردست حملہ کیا ہے، افسوس اس فتویٰ  غیرمقلدین کے شیخ الکل کا بھی بلا کسی اختلافی نوٹ کے دستخط موجود ہے۔
اور نذیر حسن  نے لوگوں کو کیا تاثر دیا ہے
حضرت عائشہؓ نے آنحضرت ﷺ کے حکم کی مخالفت کی۔
حضرت عائشہ نے اس مسئلہ میں آنحضرت ﷺ کے حکم کی مخالفت کرکے آیت مذکورہ بالا کا مصداق ہوئیں۔
حضرت عائشہؓ نے اس مسئلہ میں اپنے قیاس اور رائے کو دخل دیا۔
حضرت عائشہؓ نے دین کے حکم میں رائے اور قیاس کو دخل دیکر وہی کام کیا جو شیطان نے انا خیر منہ کہہ کر کیا تھا۔
حضرت عائشہؓ نے معاذ اللہ یہ کہہ کرکہ موجودہ وقت عورتوں کو مسد اور عید گاہ جاانا مناسب نہیں ہے۔شریعت کو بدل ڈالنے کی جرأت کی۔

عقیدہ نمبر 19
آج کل کے تمام غیرمقلدین یہ عقیدہ رکھتے  اور لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ
اللہ کی ذات صرف عرش  کے اوپر اوپر تک ہے نیچے سے ختم ہوتی ہے اور اللہ کی ذات کے بعد اس کے نیچے سے  عرش اور دیگر مخلوقات شروع ہوتی ہیں   العیاذ باللہ
جبکہ یہ عقیدہ قرآن اور حدیث کے خلاف ہے
اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ(الحدید 3)
وہی اول وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن
رسول اللہﷺ اس آیت کی تفسیر فرماتے ہیں
"اللهم أنت الأول، فليس قبلك شيء، وأنت الآخر، فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، وأنت الباطن، فليس دونك شيء".
اے اللہ تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں ، تو ”آخر“ ہے تیرے بعد کوئی نہیں، تو ”ظاہر“ ہے تیسرے اوپر کچھ نہیں، تو ”باطن“ ہے  تیرے نیچے کچھ نہیں۔(صحیح مسلم)
دون کا مطلب ”علاوہ“  بھی ہوتا ہے اور ”دون“ کا مطلب ”نیچے بھی ہوتا ہے۔(المورد ص 557)
ہم دونوں باتوں کا اقرار کرتے ہیں خود حدیث میں بھی لفظ ”دون“ نیچے کیلئے استعمال ہوا ہے۔
نبی کریمﷺ کی حدیث ہے
وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدَ نَعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ تَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ
”اور اگر تمہارے پاس جوتے نہ ہوں تو ٹخنوں کے نیچے تک موزے پہن لیا کرو“۔
(سنن نسائی ج 2 ح 587 : صحیح)
امام بيهقي رحمہ الله فرماتے ہیں کہ
وَاسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي نَفْيِ الْمَكَانِ عَنْهُ بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ» . وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ". وَإِذَا لَمْ يَكُنْ فَوْقَهُ شَيْءٌ وَلَا دُونَهُ شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ فِي مَكَانٍ.
(الأسماء والصفات للبيهقي ج۲ ص۲۸۷)
”ہمارے بعض اصحاب اللہ کو مکان سے پاک ثابت کرنے کیلئے نبیﷺ کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ تو (اللہ) الظاہر مطلب کوئی چیز اسکے اوپر نہیں الباطن یعنی کوئی چیز اس کے نیچے نہیں اسلئے اللہ کے اوپر کچھ نہیں اور اسکے نیچے کچھ نہیں تو اللہ مکان  و جگہ سے پاک ہے۔“

عقیدہ نمبر 20
اللہ کی صفت ”ید“ متشابہات میں سے نہیں۔
زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
” اللہ کی صفت ”ید“ کو متشابہات میں سے کہنا اہل بدعت کا مسلک ہے“۔
(اصول المصابیح  ص 38 ترجمہ و تحقیق و تخریج زبیر علی زئی)

عقیدہ نمبر 21
ننگے ہو کر نماز پڑھنا
نواب صدیق حسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
” عورت کی نماز بغیر ستر چھپائے صحیح ہے عورت تنہا ہو یا دوسری عورتوں کے ساتھ ہو یا پھر اپنے شوہر کے ساتھ ہو یا دوسرے محارم(باپ بھائی بیٹے) کے ساتھ  ہو غرض ہر طرح صحیح ہے زیادہ سے زیادہ سر چھپا لے“۔
(بدول الاہلہ ص 39)

عقیدہ نمبر 22
صحابہ کرام پر فاسق ہونے کا اطلاق  کیا جاسکتا ہے۔
غیرمقلدین کے لئے فی جملہ نہایت مفید کتاب ہے(حوالہ فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ص 493)  نزل الابرار میں لکھتا ہے کہ :
” تمام صحابہ کو عدول قرار دینے کا معنی ہے کہ وہ نقل روایت میں ثقہ و عادل و معتبر ہیں نہ کہ سارے صحابہ معصوم ہیں، ان سے کوئی ایسی بات سر زد  ہو ہی نہیں سکتی جس کی بنا پر ان پر لفظ فاسق کا اطلاق نا ممکن ہے“۔
(حاشیہ نزل الابرار ج 3 ص 94)
 معاذ اللہ

عقیدہ نمبر 23
   مشت زنی واجب ہے
نور الحسن خان صاحب غیرمقلد لکھتے ہیں:
”نظر بازی کا خطرہ ہو تو مشت زنی واجب ہے“۔
(عرف الجادی ص 207)
سوال یہ ہے کہ اگر یہ واجب ادا نہ کیا گیا تو کیا گناہ  ہو گا؟
ایک غیرمقلد سنت پڑھنے کیلئے کھڑا ہوا اسے نظربازی  کا خطرہ محسوس ہوا اب وہ سنت ادا کرے یا پہلے واجب ؟
اگر نظر بازی کا یہی اعلاج ہے تو پھر نفس پر قابو کا کیا مطلب ہے؟

عقیدہ نمبر 24
اگر زنا پر مجبور کیا جائے تو  زنا کرنا جائز ہے۔
نواب الحسن خان صاحب  غیرمقلد لکھتے ہیں:
” کوئی شخص زنا پر مجبور کیا جائے اس کیلئے زنا کرنا جائز ہے“۔
(عرف الجادی ص 215)
العیاذ باللہ
حضرت یوسفؑ کا مشہور واقعہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب زلیخا انہیں اپنی طرف مجبور کر رہی تھیں تو حضرت یوسفؑ نے اس سے کہا
معاذ اللہ انه ربياحسن مثواي انه لا يفلح الظلمون
ترجمہ:
معاذ اللہ ! تیرا شوہر عزیز مالک ہے میرا اور اچھی طرح رکھا ہے مجھے اس نے ، بے شک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔
(سورۃ یوسف ص 23)
اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت کوئی  غیرمقلد وکٹورین موجود نہیں تھا جو  جائز کا فتویٰ دے دیتا۔

عقیدہ نمبر 25
بار بار طلاق دینا اور بار بار رجوع کرلینا جائز ہے۔
سائل نے  ایک غیرمقلد مولوی عبد اللہ ویلوری سے سوال پوچھا۔
سوال: زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ اس کے بعد 10 یو زید نے رجوع کر لیا پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ تنازع ہونے کی صورت میں اس نے طلاق دے دی۔ آٹھ یوم کے بعد پھر رجوع کر لیا۔ اس نے چار پانچ مرتبہ ایسا ہی کیا۔ طلاق دے دی اور رجوع کر لیا زید کو اس مسئلہ کے بارے میں کوئی علم نہ تھا اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟ اب پھر دوبارہ رجوع کرنا چاہتا ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں  فتویٰ صادر فرمائیں۔ اللہ آپ جو جزائے خیر دے۔
جواب:
صورت مسئلولہ میں رجوع کر سکتا ہے......۔ دو گواہوں کے ر برو رجوع کرکے بیوی کو آباد کر سکتا ہے
(فتاویٰ جات ص 482)
اس احمق مولوی نے طلاق کی  مقدار  ہی ختم کر دی جو کہ شریعت نے ہمیں دی تھی۔
اب کوئی غیرمقلد  صبح شام بیوی کو طلاق دیتا پھرے اور رجوع کرے بیوی اس کے لئے حلال ہے۔
عقیدہ نمبر 26
کسی کو  حاضر ناظر جاننا شرک نہیں
فرقہ اہلحدیث کا عقیدہ ہے کہ
اللہ کی ذات حاضر و ناظر نہیں اب  جب اللہ کی ذات ہی حاضر ناظر نہیں تو کسی  ولی یا نبی کی ذات کو حاضر و ناظر سمجھا کس طرح سے شرک ہو سکتا ہے ؟ شرک ہو  تو  کس کے ساتھ اللہ  کی ذات تو حاضر و ناظر نہیں۔

عقیدہ نمبر 27
نماز کے سنت واجبات فرائض وغیرہ سب بدعات ہیں۔
ایک غیرمقلد مولوی صاحب لکھتے ہیں:
” نماز کے واجبات فرائض سنن اور مستحبات یہ تمہاری  بدعت ہے اگر بدعت نہیں تو قرآن و سنت سے ثابت کریں“۔
(حنفیوں کے 350 سوالات کے جوابات ص 125)
فرقہ اہلحدیث کے ایک اور احمق مولوی صاحب لکھتے ہیں:
”فقہائے احناف کا نماز کے ارکان میں سے بعض کو فرض بعض کو واجب بعض کو سنت بعض کو مستحب قرار دینا بدترین بدعت ہے“۔
(تحفہ حنفیہ ص 125)
تمام فقہاء اور محدثین کرام نے اپنی اپنی کتب  میں بعض جگہ پر کسی مسئلہ کو فرض یا کسی کو سنت یا کسی کو واجب قرار دیا لیکن ان تمام محدثین فقہاء  جلیل القدر علماء کے خلاف ان وکٹورینوں کے نزدیک یہ ایک بدترین بدعت ہے۔

عقیدہ نمبر 28
ہر ایک اجتہاد کا حقدار ہے۔
ویسے تو یہ عقیدہ ہر ایک غیرمقلد  کا ہوتا ہے۔  لیکن ہم ایک حوالہ بھی پیش کرتے دیتے ہیں۔
مشہور غیرمقلد عالم زبیر علی زئی صاحب  ایک سائل کو سوال کا مختصر جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”باقی امور کے بارے میں خود اجتہاد کر لیں“۔٭
(فتاویٰ علمیہ ص198)
اس احمق کے اس قول پر ہم ایک مشہور محدث کا قول نقل کرتے ہیں
امام الجرح والتعدیل حضرت امام شمس الدین ذہبیؒ (وفات 748ھ)فرماتے ہیں:
نعم من بلغ رتبة الاجتهاد وشهد له بذلك عدة من الأئمة لم يسغ له أن يقلد كما أن الفقيه المبتدئ والعامي الذي يحفظ القرآن أو كثيرا منه لا يسوغ له الاجتهاد أبدا فكيف يجتهد وما الذي يقول؟ وعلام يبني؟ وكيف يطير ولما يريش؟
ترجمہ:
” جو شخص اجتہاد کے مرتبہ پر فائذ ہو بلکہ اس کی شہادت متعد آئمہ دیں اس کیلئے تقلید کی گنجائش نہیں ہے مگر مبتدی قسم کا فقیہ کا عامی درجے کا آدمی جو قرآن کا یا اسکے اکثر حصے کا حافظ ہو  اس کیلئے اجتہاد جائز نہیں، وہ کیسے اجتہاد کرے گا؟ کیا کہے گا کس چیز پر اپنے اجتہاد کی امارت قائم کرے گا؟ کیسے اڑھے گا ابھی اسکے پر بھی نہیں نکلے؟“۔
(سير أعلام النبلاء ج 13 ص 337)
عقیدہ نمبر 29
من پسند مسائل کو راجح قرار دینا۔
غیرمقلدین کے امام شوکانی صاحب لکھتے ہیں”چار دن قربانی والا موقف راجح ہے“
(نیل الاوطار جلد 5 صفحہ 149)
غیرمقلدین کے محدث العصر حافظ زبیر علی زئی صاحب  لکھتے ہیں ”قول راجح یہ ہے کہ قربانی کے صرف 3 دن ہیں“۔
(علمی مقالات صفحہ 219)
تبصرہ : اگر ان جہلا سے ہی کسی مسئلہ کو راجح مرجوع کروانا ہے تو بہتر نہیں  ائمہ میں سے کسی ایک کی پیروی کی جائے۔

عقیدہ نمبر 30
زبان سے نیت کا مطلق انکار کرنا
فرقہ اہلحدیث کے امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب لکھتے ہیں
”زبان سے نیت کرنا بدعت ہے“۔
(نزل الابرار ج 1 ص 69)
 جبکہ زبان سے نیت کر نا حدیث سے ثابت ہے۔٭
حضرت ابن عباسؓ حضرت ابن  عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے نبیﷺ نے بیان فرمایا کہ میرے پاس رات کو میرے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا (فرشتہ) آیا اور اس وقت آپ عقیق میں تھے (اس نے کہا) اس مبارک وادی میں نماز پڑھئے اور کہیں کہ میں نے عمرہ اور حج کی نیت کی۔
(صحیح بخاری ج 3 ح 2244)

جاری...

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں